دل میں اک زخم سا ہے مگر مسکرا رہی ہوں،
ادھوری سی زندگی کو بھی ہنس کے گزار رہی ہوں
تیری چاہت کا عجب سا حال ہوا ہے مجھ پر،
خود ہی ٹوٹ کے خود ہی کو جوڑ رہی ہوں
چلو مان لیتے ہیں یہ سب شاید قسمت کا لکھا تھا،
نہ جانے پھر بھی کیوں تجھی کو پکار رہی ہوں
تیری یادوں کا کچھ ایسا اثر ہوا مجھ پر،
تجھ کو بھولنے کی کوشش میں خود کو بھول رہی ہوں
کہ تیری تصویر سے آتی ہے پھولوں کی مہک،
جن سے اپنی محبت کی دنیا مہکا رہی ہوں
رات کٹ جاتی ہے تیری یادوں کے سہارے،
نم آنکھوں سے بچھڑنے کے اشک بہا رہی ہوں
اک مدت ہوئی دل کو سکوں میسر نہیں ہے،
اور خود کو ہی خود میں کہیں ڈھونڈ رہی ہوں
میں نے چاہا تھا تجھ کو حد سے بڑھ کر جاناں،
کہ تجھ سے ملنے کے بعد خود کو خود سے جدا دیکھ رہی ہوں
کوئی امید بھی باقی نہیں، نہ رہی خواہش دل میں،
پھر بھی نامِ محبت سے لبوں کو سجا رہی ہوں
مقطع:
اس کی قربت کا اثر کچھ ایسا ہوا ہے "وفا"،
کہ دور رہ کر بھی اس کو خود میں اتار رہی ہوں
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments