ہم نے خود کو سنبھالنا سیکھ لیا ہے،
تیری یادوں سے غافل رہنا سیکھ لیا ہے
دل کو اب تیری یادوں کے بغیر جاناں،
ہم نے خود میں ہی جینا سیکھ لیا ہے
اب نہ تیری طرف کوئی راستہ آتا ہے ہمارا،
کہ اب اکیلے تنہا رہنا ہم نے بھی سیکھ لیا ہے
تیری قسمیں، تیرے وعدے سچے تھے کیا؟
اب ہم نے جھوٹ کو سچ کہنا سیکھ لیا ہے
تم نے چھوڑا تھا ہمیں جن کے خاطر جاناں،
دیکھ اب ہم نے بھی خوش رہنا سیکھ لیا ہے
اب نہ گلے ہیں نہ ہی شکوے ہیں قسمت سے،
ہم نے خود کو آزمانا سیکھ لیا ہے
جو کبھی میری روح کا سکون ہوا کرتے تھے،
ان سے دور رہ کے جینا سیکھ لیا ہے
اب تیرے ذکر سے کوئی فرق نہیں پڑتا ان کو "وفا"،
لگتا ہے باتوں کا ہنر بھی سیکھ لیا ہے
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments