غزل:3

ہم نے خود کو سنبھالنا سیکھ لیا ہے،

تیری یادوں سے غافل رہنا سیکھ لیا ہے

دل کو اب تیری یادوں کے بغیر جاناں،

ہم نے خود میں ہی جینا سیکھ لیا ہے

اب نہ تیری طرف کوئی راستہ آتا ہے ہمارا،

کہ اب اکیلے تنہا رہنا ہم نے بھی سیکھ لیا ہے

تیری قسمیں، تیرے وعدے سچے تھے کیا؟

اب ہم نے جھوٹ کو سچ کہنا سیکھ لیا ہے

تم نے چھوڑا تھا ہمیں جن کے خاطر جاناں،

دیکھ اب ہم نے بھی خوش رہنا سیکھ لیا ہے

اب نہ گلے ہیں نہ ہی شکوے ہیں قسمت سے،

ہم نے خود کو آزمانا سیکھ لیا ہے

جو کبھی میری روح کا سکون ہوا کرتے تھے،

ان سے دور رہ کے جینا سیکھ لیا ہے

اب تیرے ذکر سے کوئی فرق نہیں پڑتا ان کو "وفا"،

لگتا ہے باتوں کا ہنر بھی سیکھ لیا ہے

Episodes

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play