غزل:5

کبھی ہنستی ہوں تو اندر سے بکھر جاتی ہوں

میں وہ خاموش کہانی ہوں جو مر جاتی ہوں

تیری یادوں کا اندھیرا ہے رگوں میں ایسے

لگتی زندہ ہوں مگر روز ہی مر جاتی ہوں

تو نے چھوڑا ہے تو الزام بھی مجھ پر رکھا

میں ہی پاگل ہوں جو ہر بات مان جاتی ہوں

دل کو بہلانے کی کوشش بھی اذیت نکلی

خود کو سمجھاتی ہوں، پھر خود ہی ٹوٹ جاتی ہوں

میرے لفظوں میں چھپا درد نظر آتا ہے

میں وہ تصویر ہوں جو دیکھ کے ڈر جاتی ہوں

کوئی سنتا ہی نہیں میری صدا کو آخر

میں ہی دیوار سے باتوں میں الجھ جاتی ہوں

یہ عشق بھی کیا قید بنا دیتا ہے تیری یادوں کا وفا

میں خود اپنی ہی نظر میں مقید سی ہو جاتی ہوں

Episodes

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play