میں وہ آواز ہوں جو خودکو بھی سنائی نہ دے
اپنے اندر ہی کہیں گم ہوں، جو دکھائی نہ دے
دل کے کمرے میں اندھیرا ہے، تیری یادوں کا پہرا بھی
کوئی کھڑکی بھی کھلے تو کوئی اپنا دکھائی نہ دے
میں نے پہچان بھی کھو دی ہے ترے جانے کے بعد
اب کوئی نام پکارے تو مجھے سنائی بھی نہ دے
میری دھڑکنوں میں شریک ہوئے ہیں جب سے وہ
مجھے خود میں کہیں خود کچھ بھی دکھائی نہ دے
میں نے لفظوں کو ہونٹوں پہ ہی مرنے دیا ہے جاناں
اب کوئی بات بھی ہو دل کو اب کوئی صفائی نہ دے
وقت ٹھہرا ہے کسی ٹوٹے ہوئے لمحوں کی طرح
وہ جو تیرے ساتھ گزارے لمحے کہیں دکھائی نہ دے
آئینہ دیکھ کے ڈر جاتی ہوں خود سے ایسے
جیسے یہ چہرہ مجھے اپنی عکاسی نہ دے
اب خود سے بھی رشتہ نہیں باقی نہ رہا میرا وفا
میں وہ سایہ ہوں جو خود کو بھی سایہ نہ دے
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments