" تین سال پہلے…." : EPISODE-02

 

کہتے ہیں بعض ملاقاتیں محض اتفاق نہیں ہوتیں…

وہ لوحِ تقدیر پر ویسے ہی ثبت ہوتی ہیں جیسے یوسفؑ کے حسن کا تذکرہ صدیوں کے فاصلے کے باوجود دلوں میں زندہ رہتا ہے۔

اور کچھ لوگ…

زندگی میں آ کر صرف انسان نہیں رہتے،

وہ روح کے اندر اُتر کر انسان کی کمزوری، عادت… بلکہ عبادت بن جاتے ہیں۔

تین سال پہلے…

شام دھیرے دھیرے شہر کے وجود پر یوں اتر رہی تھی جیسے کسی صوفی کی دعا خاموشی سے فضا میں تحلیل ہو جائے۔

بارش ابھی کچھ دیر پہلے تھمی تھی اور سڑک بارش کے پانی سے اس طرح چمک رہی تھی جیسے کسی نے پورے شہر پر melted glass بچھا دیا ہو۔

فضا میں مٹی کی بھیگی ہوئی خوشبو رچی تھی، وہی خوشبو جو انسان کو بےسبب ماضی یاد دلا دیتی ہے۔

ٹھنڈی ہوا درختوں کے بھیگے پتوں کو چُھو کر گزر رہی تھی جبکہ آسمان پر ٹھہرے سرمئی بادل ایسے محسوس ہوتے تھے جیسے کسی اداس شاعر کی نامکمل غزل۔

ارمغان اپنی گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔

سیاہ shirt۔

کلائی پر silver watch۔

ہلکے منتشر بال۔

اور آنکھیں…

وہ آنکھیں جن میں ہمیشہ ایک خاموش قیامت آباد رہتی تھی۔

وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو کم بولتے ہیں…

مگر اپنے اندر پورے سمندر دفن رکھتے ہیں۔

حمزہ برابر والی seat پر بیٹھا مسلسل بولے جا رہا تھا۔

“یار meeting کل ہے اور تمہیں کوئی tension ہی نہیں—”

مگر ارمغان کی سماعت جیسے اُس کی آواز سے محروم ہو چکی تھی۔

کیونکہ اگلے ہی لمحے…

وہ سامنے آئی۔

سفید لباس میں لپٹی،

ہلکے سرمئی دوپٹے کے حصار میں،

بارش سے ذرا بھیگے لمبے سیاہ بال اُس کے کندھوں سے یوں لپٹے تھے جیسے رات نے چاند کو چھو لیا ہو۔

وہ سڑک پار کر رہی تھی۔

بہت آہستہ۔

جیسے اسے دنیا کی جلد بازی، لوگوں کی چیخوں، وقت کی دوڑ… کسی چیز سے کوئی سروکار نہ ہو۔

ارمغان کی نظریں اُس پر جم گئیں۔

اور پھر…

وقت نے خود کو روک لیا۔

بالکل ایسے جیسے موسیٰؑ کے لیے دریا نے راستہ چھوڑ دیا تھا۔

حمزہ نے چونک کر اُسے دیکھا۔

“او بھائی… کہاں کھو گئے؟”

مگر ارمغان شاید پہلی بار واقعی کسی میں کھویا تھا۔

وہ لڑکی چند قدم چل کر رکی۔

پھر آہستہ سے پلٹی۔

بھوری آنکھیں…

خاموش،

مگر اس قدر گہری کہ انسان اگر ایک لمحہ زیادہ دیکھ لے تو شاید خود کو بھول جائے۔

ارمغان کے اندر ایک عجیب سا ارتعاش پیدا ہوا۔

جیسے برسوں سے بند کوئی دروازہ کسی نرم دستک پر کھل گیا ہو۔

یا جیسے کسی ویران مسجد میں اچانک اذان کی آواز گونج اٹھے۔

وہ اُسے دیکھ رہی تھی۔

صرف چند لمحوں کے لیے۔

مگر اُن لمحوں میں ایک عجیب intimacy تھی…

ایک خاموش chemistry…

جیسے دو اجنبی روحیں صدیوں بعد ایک دوسرے کو پہچان گئی ہوں۔

پھر وہ پلٹی…

اور بارش کے بعد دھندلی ہوتی سڑکوں میں گم ہو گئی۔

بس اتنا سا لمحہ تھا۔

مگر ارمغان کی پوری دنیا اپنی axis سے ہٹ چکی تھی۔

“وہ کون تھی…؟”

اس نے پہلی بار دھیمی آواز میں پوچھا۔

حمزہ نے باہر دیکھا۔

“کون؟”

مگر تب تک وہ جا چکی تھی۔

صرف اُس کے perfume کی مدھم خوشبو ہوا میں باقی تھی…

اور ارمغان کے دل میں ایک نامعلوم بےچینی۔

...----------------...

رات۔

ارمغان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔

کمرے کی lights بند تھیں۔

صرف کھڑکی سے آتی بارش کے بعد کی ٹھنڈی ہوا سفید پردوں کو ہلا رہی تھی۔

سامنے کتاب کھلی تھی…

مگر وہ ایک لفظ بھی نہیں پڑھ پا رہا تھا۔

اُس کے ذہن میں بار بار وہی چہرہ ابھر رہا تھا۔

وہی سفید لباس۔

وہی خاموش آنکھیں۔

وہی پلٹ کر دیکھنے کا انداز…

وہ بےاختیار ہلکا سا مسکرایا۔

“عجیب لڑکی تھی…”

لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ لڑکی عجیب نہیں تھی…

وہ خطرناک تھی۔

کیونکہ کچھ لوگ انسان کے دل میں محبت نہیں…

ہجرت چھوڑ جاتے ہیں۔

اسی لمحے دروازہ کھلا۔

ارمغان کی امی اندر آئیں۔

ہلکے آسمانی dupatta میں لپٹی، اُن کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح نرم شفقت تھی۔

“ارمغان… کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے بیٹا۔”

وہ چونک کر حقیقت میں واپس آیا۔

“جی امی… آ رہا ہوں۔”

امی چند لمحے اُسے غور سے دیکھتی رہیں۔

پھر ہلکا سا مسکرا دیں۔

“آج بڑے خاموش لگ رہے ہو…”

دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا حمزہ فوراً ہنس پڑا۔

“Aunty… آج اِن کا دل کہیں بارش میں رہ گیا ہے۔”

ارمغان نے فوراً اُسے گھورا۔

مگر حمزہ مزید ہنسنے لگا۔

ڈائننگ ٹیبل پر گرم چائے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔

بارش کے بعد کی سردی میں گھر عجیب حد تک پُرسکون لگ رہا تھا۔

ارمغان کے والد اخبار fold کرتے ہوئے بولے:

“Business meeting کی تیاری مکمل ہے؟”

“جی۔”

مختصر،

سرد،

ہمیشہ کی طرح restrained جواب۔

اُن کے والد اکثر کہا کرتے تھے:

“یہ لڑکا اپنے دل کی بات شاید خود سے بھی نہیں کرتا…”

رات مزید گہری ہو چکی تھی۔

ارمغان دوبارہ اپنے کمرے میں آیا۔

بارش پھر شروع ہو چکی تھی۔

وہ کھڑکی کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔

سڑک پر لگے زرد lights بارش کے قطروں میں دھندلے ہو رہے تھے۔

پورا شہر کسی melancholic painting جیسا لگ رہا تھا۔

اور پھر…

اس کا فون vibrate ہوا۔

Unknown Message.

اس نے message کھولا۔

صرف ایک لائن لکھی تھی:

“بارش ہمیشہ اُن لوگوں کو یاد رہتی ہے جن کے اندر کچھ ادھورا رہ گیا ہو…”

ارمغان کے ماتھے پر ہلکی شکن ابھری۔

کیونکہ…

یہ وہی جملہ تھا

جو شام سے اُس کے دل کے کسی تاریک گوشے میں بھٹک رہا تھا۔

اس نے فوراً reply کیا:

“Who are you?”

چند seconds تک typing ظاہر ہوتی رہی۔

پھر message آیا:

“شاید وہ…

جسے تم بارش رکنے کے بعد بھی دیکھتے رہے تھے۔”

ارمغان کا دل بےترتیب دھڑکا۔

وہ فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

ہونٹوں پر بےاختیار ایک مدھم مسکراہٹ ابھری۔

اور پہلی بار…

اُسے محسوس ہوا کہ کسی نے اُس کی خاموشی کو صرف سنا نہیں…

محسوس بھی کیا ہے۔

مگر اُسے کیا خبر تھی کہ بعض عشق لیلیٰ مجنوں کی طرح امر نہیں ہوتے…

کچھ محبتیں صرف جلنے کے لیے پیدا ہوتی ہیں۔

اور جب وہ ختم ہوتی ہیں…

تو اپنے پیچھے صرف

“خاکستر” چھوڑ جاتی ہیں۔

کیا واقعی یہ صرف ایک اتفاقی ملاقات تھی… یا قسمت آہستہ آہستہ ارمغان کو کسی ایسے عشق کی طرف لے جا رہی تھی جو آخر میں صرف “خاکستر” بننے والا تھا…؟

...****************...

Hot

Comments

Moheen Daud

Moheen Daud

l love this type of stories ❤️

2026-05-09

1

See all

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play