خاکستر عشق (خاموش عشق)

خاکستر عشق (خاموش عشق)

Episode -01 : تم چلی گئی ہو… مگر گئی نہیں

" تم چلی گئی ہو… مگر گئی نہیں"

کہتے ہیں وقت کسی کا سگا نہیں ہوتا۔

یہ انسان سے اس کی سب سے عزیز چیز بھی چھین لیتا ہے… اور آواز تک نہیں کرتا۔

اور عشق…؟

عشق شاید وہ واحد چیز ہے

جو انسان سے سب کچھ چھین کر بھی

اس کے اندر زندہ رہتا ہے۔

رات حد سے زیادہ سیاہ تھی۔

بادل آسمان پر ایسے پھیلے تھے جیسے کسی نے پورے شہر پر اداسی تان دی ہو۔

ہلکی ہلکی بارش قبرستان کی خاموش زمین پر گر رہی تھی۔

ہر طرف عجب سنّاٹا تھا۔

صرف ہوا کی آواز…

اور کبھی کبھار درختوں کی بھیگی شاخوں کا لرزنا۔

قبرستان کی بھیگی مٹی سے اٹھتی ہوئی مہک ہوا میں ایک بوجھ سا گھول رہی تھی۔

دور کہیں بجلی چمکی۔

ایک لمحے کے لیے پورا قبرستان روشن ہوا…

اگلے ہی لمحے پھر اندھیرے نے سب کچھ نگل لیا۔

قبرستان کے آخری کونے میں ایک شخص خاموش کھڑا تھا۔

سیاہ کوٹ۔

بکھرے ہوئے بھیگے بال۔

آنکھوں میں تھکن۔

اور کانپتی ہوئی انگلیوں کے ساتھ ہاتھوں میں ایک چاندی کی انگوٹھی۔

ارمغان۔

وہ دیر تک قبر کو دیکھتا رہا…

جیسے وہاں مٹی کے نیچے کوئی سانس لے رہا ہو۔

بارش کی ایک بوند اس کی پلک سے پھسل کر نیچے گری۔

پتہ نہیں وہ بارش تھی…

یا آنسو۔

بارش اس کے چہرے پر گر رہی تھی مگر اسے پرواہ نہ تھی۔

اس نے آہستہ سے قبر پر ہاتھ رکھا۔

سرد مٹی۔

اتنی سرد…

جیسے واقعی کسی نے اپنی حرارت یہاں دفن کر دی ہو۔

“تم چلی گئی ہو…”

اس کی آواز ٹوٹ گئی۔

ارمغان نے ہلکا سا مسکرایا۔

وہ مسکراہٹ درد بھری تھی۔

“یا شاید… تم گئی ہی نہیں۔”

ارمغان ہلکا سا جھکا اور انگوٹھی قبر پر رکھ دی۔

“دیکھو… آج بھی سنبھال کر رکھی ہوئی ہے میں نے۔”

ہوا قبرستان کے خشک درختوں سے ٹکرائی تو سنسان سی آواز اٹھی۔

چند لمحے صرف بارش بولتی رہی۔

“پتہ ہے ملیحہ…؟

آج بھی بارش تم جیسی لگتی ہے۔”

اس کی آواز میں عجب سا سکون تھا۔

ایسا سکون…

جو اکثر بہت زیادہ ٹوٹ جانے کے بعد آتا ہے۔

اس نے مٹی پر انگلیاں پھیریں۔

“تمہیں پتہ ہے…؟

لوگ کہتے ہیں وقت سب کچھ بھلا دیتا ہے…”

وہ چند لمحے خاموش رہا۔

پھر دھیمی آواز میں بولا:

“شاید وقت نے مجھے کبھی بھلانا سکھایا ہی نہیں۔”

ارمغان کی آنکھوں میں عجب سا خلا تھا۔

ایسا خلا…

جیسے اس نے کسی کو کھویا نہیں…

بلکہ خود کو کہیں چھوڑ دیا ہو۔

ارمغان نے جیب سے ایک پرانا خط نکالا۔

کاغذ بارش سے بھیگ چکا تھا۔

اس پر صرف ایک لفظ لکھا تھا:

“ارمغان”

اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

ملیحہ کی آواز اس کے کانوں میں گونجی:

“اگر کبھی تم سے دور ہو جاؤں…

تو تم مجھے ڈھونڈنا مت۔”

ارمغان نے قبر کی مٹی کو زور سے مٹھی میں بھرا۔

“تم نے کہا تھا نا…

خاموش محبتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں…”

اس کی سانس بری طرح کانپ رہی تھی۔

اور ہونٹ یوں تھے…

جیسے کسی نے چوم کر زہر بھر دیا ہو۔

اسی لمحے قدموں کی آواز آئی۔

ارمغان پلٹا۔

حمزہ۔

“تم پھر یہاں آ گئے؟”

ارمغان خاموش رہا۔

حمزہ نے قبر کو دیکھا… پھر ارمغان کی طرف۔

“وہ واپس نہیں آئے گی… چلو یہاں سے۔”

کچھ لمحے خاموشی رہی۔

پھر ارمغان نے دھیمی آواز میں کہا:

“پتہ ہے…”

“مگر دل نہیں مانتا۔”

بارش اب تیز ہو چکی تھی۔

قبر کی مٹی بھیگ رہی تھی۔

اور ارمغان…

پہلی بار ٹوٹتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

“حمزہ…

کیا مردے واقعی چلے جاتے ہیں؟”

حمزہ خاموش ہو گیا۔

وہ جانتا تھا…

کچھ سوالوں کے جواب نہیں ہوتے۔

کاغذ پر “ارمغان” کے علاوہ ایک جملہ اور بھی لکھا تھا:

“میں چلی جاؤں گی…

تو قبر پر مت آنا۔”

ارمغان کی سانس رک گئی۔

یہ وہی جملہ تھا…

جو ملیحہ نے موت سے پہلے کہا تھا۔

مگر اس خط پر آج کی تاریخ نمایاں تھی۔

ارمغان کو اچانک یوسفؑ یاد آئے…

جو کنویں میں ڈال دیے گئے تھے، مگر پھر بھی نہ بھلائے جا سکے۔

وہ ہلکا سا ہنسا۔

“فرق صرف اتنا تھا…

یوسفؑ واپس آ گئے تھے۔”

خاموشی۔

صرف بارش۔

صرف قبر۔

اور صرف ایک ٹوٹا ہوا شخص۔

...----------------...

واپس آتے ہوئے راستہ بالکل سنسان تھا۔

گاڑی کے شیشوں پر بارش مسلسل گر رہی تھی۔

حمزہ ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ ارمغان کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔

“تم ہر بار وہاں کیوں جاتے ہو؟”

کافی دیر بعد حمزہ نے پوچھا۔

ارمغان خاموش رہا۔

پھر آہستہ سے بولا:

“کچھ جگہیں انسان کو زندہ رکھتی ہیں۔”

حمزہ نے اس کی طرف دیکھا مگر کچھ کہا نہیں۔

کیونکہ وہ جانتا تھا…

ارمغان اب پہلے والا ارمغان نہیں رہا تھا۔

رات کے تقریباً دو بج رہے تھے۔

ارمغان اپنے کمرے میں داخل ہوا تو ہمیشہ کی طرح اندھیرا اس کا استقبال کر رہا تھا۔

کھڑکی آدھی کھلی تھی۔

بارش کی ٹھنڈی ہوا پردوں کو ہلا رہی تھی۔

وہ خاموشی سے بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا۔

اس نے جیب سے وہی انگوٹھی نکالی۔

کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا۔

پھر اچانک…

اس کا فون بجا۔

Unknown Number.

ارمغان چند لمحے اسکرین کو دیکھتا رہا۔

پھر کال اٹھا لی۔

چند سیکنڈ صرف خاموشی سنائی دی۔

پھر ایک لڑکی کی دھیمی آواز آئی:

“بارش میں زیادہ دیر مت رہا کرو ارمغان…”

ارمغان کا دل ایک لمحے کے لیے رک گیا۔

وہ فوراً کھڑا ہوا۔

“ملیحہ…؟”

Call disconnect . .

کمرے میں دوبارہ خاموشی پھیل گئی۔

صرف بارش کی آواز باقی تھی۔

اور ارمغان پہلی بار خوفزدہ دکھائی دیا۔

کیونکہ یہی آواز تھی…

جو وہ پچھلے تین سال سے صرف یادوں میں سنتا رہا تھا۔

کیا خاموش محبتیں واقعی ختم ہو جاتی ہیں…

یا انسان خود انہیں دفن نہیں کر پاتا؟

کیا واقعی ملیحہ اس دنیا میں نہیں تھی…

یا ارمغان ایسے راز میں قید تھا جسے وہ خود بھی سمجھ نہیں پایا تھا؟

...****************...

Hot

Comments

Rohail asif

Rohail asif

I'm waiting for next ❤️

2026-05-09

1

Zash Fishi

Zash Fishi

Heart touching lines....ZAINi...really I love it😍

2026-05-08

1

Moheen Daud

Moheen Daud

it's very amazing piece of writing by the writer l really like it ❤️

2026-05-08

1

See all

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play