کچھ لوگ زندگی میں داخل نہیں ہوتے…
بس آہستہ آہستہ انسان کے اندر اُتر جاتے ہیں.....
اور عجیب بات یہ ہے کہ
ایسے لوگ اکثر پہلی بار ملتے ہی اپنے نہیں لگتے…
بلکہ ایسے محسوس ہوتے ہیں
جیسے ہم انہیں بہت پہلے کسی خواب، کسی ادھورے قصّے… یا کسی ڈراؤنی یاد میں دیکھ چکے ہوں۔
تین سال پہلے…
صبح غیر معمولی حد تک خاموش تھی۔
اتنی خاموش… کہ دور کہیں درختوں کے پتوں سے ٹپکتے پانی کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔
رات بھر بارش ہوئی تھی۔
کالج کی پرانی عمارت نمی سے بھیگی ہوئی کھڑی تھی، اور دیواروں پر جمی ہلکی سی کائی پورے ماحول کو عجیب سا پراسرار رنگ دے رہی تھی۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ جگہ صرف اینٹوں سے نہیں بنی…
بلکہ اپنے اندر سینکڑوں خاموش کہانیاں دفن کیے بیٹھی ہو۔
ارمغان گیٹ کے قریب کھڑا تھا۔
سیاہ shirt۔
ٹھنڈی ہوا میں ہلکے بکھرے بال۔
اور وہی خاموش نظریں…
مگر آج اس کی خاموشی عام نہیں تھی۔
وہ بار بار کالج کی تیسری منزل کی طرف دیکھ رہا تھا۔
وہی abandoned corridor…
جہاں اکثر شام کے بعد کوئی نہیں جاتا تھا۔
لوگ کہتے تھے وہاں کبھی ایک لڑکی گری تھی۔
اور اس کے بعد سے رات کے وقت وہاں قدموں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔
ارمغان ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا تھا…
پھر بھی نہ جانے کیوں،
ہر بار اس corridor کو دیکھ کر اس کے دل میں ایک عجیب بےچینی جاگ اٹھتی تھی۔
اچانک ایک گاڑی آ کر رکی۔
دروازہ کھلا۔
اور وہ باہر نکلی۔
ملیحہ۔
ہلکی نیلی قمیض۔
سفید دوپٹہ۔
کھلے ہوئے سیاہ بال جن پر بارش کے چند قطرے ابھی تک ٹھہرے ہوئے تھے۔
وہ عام لڑکیوں جیسی نہیں تھی۔
اس کے چلنے میں بھی عجیب سا سکون تھا…
جیسے وہ جلدی میں کبھی نہ ہو۔
جیسے اسے دنیا کی کسی چیز سے خوف نہ آتا ہو۔
مگر اس کی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ عجیب تھیں۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر پُرسکون۔۔۔۔۔۔۔
لیکن ان کے اندر کہیں بہت گہرا اندھیرا تھا۔
وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی گیٹ کے اندر داخل ہوئی۔
اور پھر اچانک رک گئی۔
جیسے اسے احساس ہو گیا ہو کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
ان کی نظریں ملیں۔۔۔۔۔۔
بس چند سیکنڈ۔۔۔۔۔۔۔
مگر ارمغان کے دل میں ایک عجیب سا احساس اُبھرا…
ایسا جیسے اس نے یہ منظر پہلے بھی کہیں دیکھا ہو۔
بالکل اسی دھند میں۔۔۔۔۔۔
اسی خاموشی میں۔۔۔۔۔۔
اسی لڑکی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
اور یہی احساس اسے اندر تک بےچین کر گیا۔
ملیحہ نے چند لمحے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
پھر بہت آہستہ نظریں جھکا لیں۔۔۔۔۔
لیکن جاتے جاتے اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
بہت مختصر۔۔۔۔۔۔
مگر ارمغان نہ جانے کیوں دیر تک وہی مسکراہٹ سوچتا رہا۔
کلاس روم میں معمول کا شور تھا۔۔۔۔۔
مگر باہر موسم اب بھی بوجھل تھا۔۔۔۔۔
بادل سورج کو مکمل نکلنے نہیں دے رہے تھے، اس لیے پوری کلاس میں ہلکی سی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
ارمغان ہمیشہ کی طرح آخری row میں بیٹھا ہوا تھا۔
مگر آج نہ کتاب سمجھ آ رہی تھی، نہ lecture۔
کیونکہ ہر چند لمحوں بعد اس کی نظر بےاختیار دروازے کی طرف اٹھ جاتی تھی۔
اور پھر…
دروازہ کھلا۔
ملیحہ اندر آئی۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھ میں چند books تھیں۔
وہ جلدی میں تھی شاید، کیونکہ seat کی طرف جاتے ہوئے اچانک اس کے ہاتھ سے ایک کتاب نیچے گر گئی۔
پورا کلاس روم شور میں مصروف تھا۔
کسی نے توجہ نہیں دی۔
مگر ارمغان فوراً اٹھا۔
اس نے کتاب اٹھا کر اس کی طرف بڑھائی۔۔۔۔۔۔
انگلیاں ایک لمحے کے لیے چھوئیں۔۔۔۔۔
صرف ایک لمحہ۔۔۔۔۔
مگر ارمغان کے دل میں جیسے کسی نے اچانک دھیمی سی گھنٹی بجا دی ہو۔
ملیحہ نے ہلکے سے Thanks کہا۔
پھر چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔
تم… ہمیشہ اتنے serious رہتے ہو؟!
ارمغان ہلکا سا الجھا۔
شاید۔
ملیحہ آہستہ سے مسکرائی۔
پھر تو تمہیں ہنسنا سیکھنا چاہیے۔
خاموش لوگ زیادہ اداس لگتے ہیں۔
وہ اپنی seat کی طرف چلی گئی۔
مگر ارمغان پہلی بار خود کو عجیب طرح سے alive محسوس کر رہا تھا۔
جیسے کسی نے اس کی خاموش دنیا میں ہلکی سی روشنی رکھ دی ہو۔
لیکچر ختم ہونے کے بعد corridor تقریباً خالی ہو چکا تھا۔
بارش دوبارہ شروع ہو رہی تھی۔
ملیحہ کھڑکی کے پاس کھڑی باہر دیکھ رہی تھی۔
ارمغان چند قدم دور رکا رہا۔
پتہ نہیں کیوں۔
جیسے اس کے قریب جانا آسان بھی تھا…
اور خطرناک بھی۔
ہوا کے جھونکے سے ملیحہ کے بال چہرے پر آ گئے۔
اس نے انہیں کان کے پیچھے کیا اور دھیرے سے بولی:
“تم بارش کو غور سے دیکھتے ہو؟”
ارمغان نے پہلی بار بغیر سوچے جواب دیا:
شاید…
کیونکہ بارش میں ہر چیز تھوڑی خوبصورت لگنے لگتی ہے۔”
ملیحہ نے اس کی طرف دیکھا۔
اور اس بار اس کی آنکھوں میں پہلی دفعہ ہلکی سی نرمی اتری۔۔۔۔۔
یا شاید بارش انسان کو اس کی اصل چھپا لینے دیتی ہے…
پھر وہ چند لمحے خاموش رہی۔۔۔۔
بارش کی آواز corridor میں پھیل رہی تھی۔
اچانک ملیحہ بہت آہستہ بولی:
لوگ کہتے ہیں… اناپرستوں سے ڈرنا چاہیے۔
مگر مجھے لگتا ہے ڈرنا خودپرست لوگوں سے چاہیے۔
ارمغان خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔
ملیحہ کی نظریں اب بھی بارش پر تھیں۔
اناپرست تو ضد میں سب ٹھکرا دیتے ہیں…
بعد میں پچھتاتے بھی ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرائی، مگر اس مسکراہٹ میں عجیب تلخی تھی۔
لیکن خودپرست؟؟؟
وہ اپنے ہوش میں سب چھوڑتے ہیں۔
صرف اپنی عزتِ نفس کے لیے…
اور پھر انہیں نہ کوئی ملال ہوتا ہے… نہ افسوس۔
ارمغان پہلی بار اس کی آواز میں چھپا درد محسوس کر رہا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی اور کے بارے میں نہیں…
اپنے بارے میں بات کر رہی ہو۔
یہ کہہ کر وہ آہستہ سے corridor میں آگے بڑھ گئی۔
ارمغان دیر تک وہیں کھڑا رہا۔
اسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ لڑکی صرف باتیں نہیں کرتی…
ہر لفظ کے پیچھے کوئی زخم چھپا لیتی ہے۔
Break کے دوران زیادہ تر ۔۔۔۔۔ students cafeteria چلے گئے۔
مگر ملیحہ اکیلی پرانی library کی طرف بڑھ گئی۔
وہ library کالج کے پچھلے حصے میں تھی، جہاں ہمیشہ غیر ضروری خاموشی رہتی تھی۔
ارمغان نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے پیچھے چلا گیا۔
Libraryتقریباً خالی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرانی لکڑی کی shelves۔۔۔۔۔
کتابوں پر جمی گرد۔۔۔۔۔
اور کھڑکیوں سے اندر آتی مدھم سی روشنی…۔۔۔۔
پورا ماحول ایسا لگ رہا تھا جیسے وقت یہاں آ کر رک گیا ہو۔
ملیحہ ایک shelf کے سامنے کھڑی کسی کتاب کے صفحات پلٹ رہی تھی۔
ارمغان چند قدم دور رک گیا۔
مگر اس بار اس نے فوراً بات نہیں کی۔
وہ صرف اسے دیکھتا رہا۔
نہ جانے کیوں…
ملیحہ کو دیکھتے ہوئے اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ کچھ لوگ صرف خوبصورت نہیں ہوتے،
بلکہ مکمل احساس لگتے ہیں۔
وہ ماتھے پہ چمکتی لکیر جیسی تھی…
کسی خواب کی سچی تعبیر جیسی۔
وہ صبح کی پہلی کرن جیسی…
یا آنگن میں مہکتے چمن جیسی محسوس ہوتی تھی۔
اس کی خاموشی میں بھی عجیب کشش تھی۔
بالکل جھیل کے شفاف پانی جیسی۔
پُرسکون…
مگر اتنی گہری کہ انسان خود کو اس میں ڈوبتا ہوا محسوس کرے۔
کبھی وہ اسے کسی پرانی پریوں کی کہانی جیسی لگتی…
اور کبھی بارش میں بھیگی زمین جیسی۔
وہ دکھنے میں شاید واقعی سب سے حسین تھی…
مگر اس کی اصل خوبصورتی اس کے لہجے میں تھی۔
نرم۔
دھیمی۔
بالکل اردو زبان جیسی۔
اور جب وہ ہلکا سا مسکراتی…
تو ارمغان کو محسوس ہوتا جیسے کسی نے اندھیرے کمرے میں اچانک روشنی جلا دی ہو۔
وہ واقعی ایک لڑکی نہیں لگتی تھی…
بلکہ ادب کی کسی ادھوری کتاب جیسی تھی،
جسے انسان جتنا پڑھتا جائے…
اتنا ہی اس میں کھوتا چلا جائے۔
ملیحہ بہت آہستہ کتاب کے صفحے پلٹ رہی تھی، جیسے جلدی میں ہو ہی نہیں۔۔۔۔۔
پھر اچانک اس نے بنا مڑے کہا:
تم کافی دیر سے خاموش کھڑے ہو۔؟
ارمغان چونکا۔
تمہیں کیسے پتہ چلا میں یہاں ہوں؟
ملیحہ نے آہستہ سے کتاب بند کی۔
پھر اس کی طرف مڑی۔
کیونکہ کچھ لوگوں کی خاموشی بھی آواز دیتی ہے۔
چند لمحوں کی خاموشی۔
پھر ارمغان دھیرے سے بولا:
تم یہاں اکثر آتی ہو؟
ملیحہ نے ہلکا سا سر ہلایا۔
"ہاں۔۔۔۔۔۔
خاموش جگہیں مجھے پسند ہیں۔"
پھر اس نے shelf سے ایک کتاب نکالی۔
گرد اڑ کر ہوا میں پھیل گئی۔
ملیحہ نے کتاب کے cover پر انگلی پھیری اور بہت دھیرے سے بولی:
"وہ محبتیں بھی عجیب ہوتی ہیں…
جو انسان کو مکمل ادب بنا دیتی ہیں۔"
ارمغان خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔
ملیحہ نے نظریں جھکا لیں۔
مگر ہر خوبصورت چیز ہمیشہ اچھی نہیں ہوتی، ارمغان…
اس کی آواز آخری لفظ پر مدھم ہو گئی۔
"کچھ چیزیں انسان کو جتنا خوبصورت لگتی ہیں…
اتنا ہی اندر سے توڑ دیتی ہیں۔"
اسی لمحے اوپر والی منزل سے کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی۔
دونوں چونک گئے۔
Library کی خاموشی اچانک بہت بھاری محسوس ہونے لگی۔
ارمغان نے اوپر دیکھا۔...
تیسری منزل۔...
وہی............. abandoned corridor۔
چند لمحوں کے لیے ایسا لگا جیسے وہاں کوئی کھڑا ہو۔
سفید سا دھندلا وجود۔....
مگر اگلے ہی لمحے کچھ نہیں تھا۔
صرف اندھیرا۔
"تم نے دیکھا…؟"
ارمغان نے دھیرے سے پوچھا۔
ملیحہ خاموش رہی۔
مگر پہلی بار اس کے چہرے کا رنگ ہلکا سا اُڑا ہوا تھا۔
شام تک بارش دوبارہ شروع ہو گئی۔
کالج تقریباً خالی ہو چکا تھا۔
ارمغان سیڑھیوں کے قریب کھڑا تھا جب اس نے ملیحہ کو corridor کے آخری کونے میں دیکھا۔
وہ کھڑکی کے پاس کھڑی بارش دیکھ رہی تھی۔
اس کے سفید دوپٹے کا کنارہ ہوا میں ہلکا ہلکا ہل رہا تھا۔
اور نہ جانے کیوں….....
اس لمحے وہ انسان کم،
اور کسی خواب یا وہم کا حصہ زیادہ لگ رہی تھی۔
ارمغان آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا۔
"تم بارش کو اتنا کیوں دیکھتی ہو؟"
ملیحہ نے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا:
"کیونکہ بارش میں چیزیں صاف نظر نہیں آتیں…"
پھر اس نے دھیرے سے اس کی طرف دیکھا۔
"اور کچھ سچائیاں دھند میں ہی اچھی لگتی ہیں۔"
ایک لمحے کی خاموشی۔
پھر وہ اچانک بولی:
"ارمغان…
اگر کسی دن تمہیں میرے بارے میں کچھ عجیب پتہ چلے…......
تو کیا تم ڈرو گے؟"
ارمغان ہلکا سا چونکا۔
"کیا مطلب؟"
ملیحہ مسکرائی۔
مگر اس بار اس کی مسکراہٹ میں عجیب اداسی تھی۔
"کچھ نہیں۔
بس ایسے ہی۔"
...----------------...
رات۔
بارش مسلسل ہو رہی تھی۔
ارمغان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا جب اس نے پہلی بار ایک نام save کیا۔
“Maliha”.......
اس کے لبوں پر انجانے میں ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
اسی لمحے فون vibrate ہوا۔
Unknown Message:
"تیسری منزل پر دوبارہ مت جانا۔"
ارمغان کے چہرے کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ غائب ہو گئی۔
اس نے فوراً نمبر check کیا۔
No Caller ID.......
اس کے دل میں اچانک وہی سرد احساس لوٹ آیا۔
اور پھر…
فون دوبارہ vibrate ہوا۔
اس بار صرف ایک line تھی:
"ہر کوئی ملیحہ کو پہلی بار نہیں دیکھتا…"
...****************...
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments
Moheen Daud
🌹🌹💞💞
2026-05-16
1
Moheen Daud
l am waiting for next
2026-05-16
1