EPISODE -05 : کچھ نام دل میں اُتر جاتے ہیں

کبھی کبھی انسان کسی شخص کو یاد نہیں کرتا...

پھر بھی وہ ہر وقت اس کے ذہن میں موجود رہتا ہے۔

اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے...

جہاں محبت خاموشی سے جنم لیتی ہے۔

...----------------...

صبح حسبِ معمول شروع ہوئی تھی۔

مگر ارمغان کے اندر کچھ بھی معمول کے مطابق نہیں تھا۔

رات بھر وہ Unknown Messages کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔

"ہر کوئی ملیحہ کو پہلی بار نہیں دیکھتا..."

یہ جملہ اب بھی اس کے ذہن میں گردش کر رہا تھا۔

جیسے کوئی نامعلوم راز اس کے گرد آہستہ آہستہ جال بُن رہا ہو۔

کلاس روم میں لیکچر جاری تھا۔

استاد مسلسل بول رہے تھے۔

طلبہ نوٹس بنا رہے تھے۔

مگر ارمغان کی نگاہیں بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھیں۔

ایک بار...

دو بار...

پانچ بار...

شاید دس بار۔

"او بھائی!"

ساتھ بیٹھے حمزہ نے کہنی ماری۔

"استاد اِدھر ہیں۔"

ارمغان چونکا۔

"ہاں؟"

حمزہ نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔

"میں پچھلے دس منٹ سے دیکھ رہا ہوں..."

"تم lecture کم اور دروازہ زیادہ دیکھ رہے ہو۔"

ارمغان نے نظریں چرا لیں۔

"فضول باتیں نہ کرو۔"

حمزہ ہلکا سا مسکرایا۔

"فضول؟"

"یا پھر سچ؟"

اسی لمحے دروازہ کھلا۔

اور ملیحہ اندر داخل ہوئی۔

ہلکے کریم رنگ کے لباس میں۔

کھلے ہوئے بال۔

اور ہاتھوں میں کتابیں۔

نہ جانے کیوں...

ارمغان کے دل کی دھڑکن ایک لمحے کے لیے بدل گئی۔

حمزہ نے وہ تبدیلی دیکھ لی۔

اور پہلی بار اس کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری۔

"اوہ..."

"تو بات یہاں تک پہنچ چکی ہے۔"

ارمغان نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔

"کون سی بات؟"

حمزہ ہنس پڑا۔

"رہنے دو۔"

"محبت جتنی چھپاؤ..."

"آنکھیں اتنا ہی بتا دیتی ہیں۔"

...----------------...

لیکچر ختم ہونے کے بعد بارش شروع ہو گئی۔

ملیحہ تنہا برآمدے میں کھڑی تھی۔

آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔

ہوا میں نمی تھی۔

اور درختوں سے ٹپکتے قطرے عجیب سی موسیقی پیدا کر رہے تھے۔

ارمغان آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا۔

ملیحہ نے اسے دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ دی۔

"تم بارش کے بغیر رہ سکتے ہو؟"

اس نے پوچھا۔

ارمغان ہلکا سا مسکرایا۔

"شاید۔"

"اور تم؟"

ملیحہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔

پھر بہت آہستہ بولی:

"میں بارش کے بغیر رہ سکتی ہوں..."

"مگر بعض یادوں کے بغیر نہیں۔"

اس کی آواز میں ایسی اداسی تھی...

جس نے ارمغان کے دل کو چھو لیا۔

چند لمحے خاموشی رہی۔

پھر ملیحہ نے جیب سے ایک سفید گلاب نکالا۔

بارش کے قطرے اس کی پتّیوں پر ٹھہرے ہوئے تھے۔

"پتا ہے مجھے سفید گلاب کیوں پسند ہیں؟"

ارمغان نے نفی میں سر ہلایا۔

ملیحہ ہلکا سا مسکرائی۔

پھر وہی جملہ کہا...

مگر اس بار اس کی آواز پہلے سے زیادہ گہری تھی۔

ارمغان پہلی بار مکمل خاموش ہو گیا۔

نہ جانے کیوں...

اسے لگا جیسے ملیحہ کسی آنے والے حادثے کا ماتم پہلے ہی کر رہی ہو۔

دور کھڑا حمزہ یہ سب دیکھ رہا تھا۔

وہ پہلی بار الجھن میں پڑ گیا۔

یہ صرف پسندیدگی نہیں تھی۔

کچھ اور تھا۔

کچھ ایسا...

جو الفاظ سے باہر تھا۔

شام کے وقت کالج تقریباً خالی ہو چکا تھا۔

بارش رک چکی تھی۔

مگر فضا اب بھی گیلی تھی۔

ملیحہ سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی۔

اچانک اس کے ہاتھ سے ایک پرانی ڈائری گر گئی۔

ارمغان نے فوراً اٹھا لی۔

ڈائری پر کوئی نام نہیں تھا۔

صرف ایک جملہ لکھا تھا:

"بعض ملاقاتیں قسمت نہیں لکھتی..."

"وہ پہلے سے لکھی ہوئی تقدیر کی یاد دہانی ہوتی ہیں۔"

ارمغان نے حیرت سے وہ الفاظ پڑھے۔

مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتا...

ملیحہ نے جلدی سے ڈائری لے لی۔

اس کے چہرے پر پہلی بار خوف نمودار ہوا۔

واضح خوف۔

"یہ کبھی مت پڑھنا۔"

اس نے تقریباً سرگوشی میں کہا۔

"کیوں؟"

ارمغان نے پوچھا۔

ملیحہ چند لمحے خاموش رہی۔

پھر دھیرے سے بولی:

"کیونکہ ہر راز جان لینا اچھا نہیں ہوتا۔"

رات۔

آسمان پر بادل دوبارہ جمع ہو رہے تھے۔

ارمغان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔

مگر اس کے ذہن میں صرف ایک چیز تھی۔

وہ ڈائری۔

اور ملیحہ کے چہرے پر ابھرنے والا خوف۔

اسی دوران فون دوبارہ vibrate ہوا۔

Unknown Number۔

اس بار صرف ایک جملہ تھا:

"ڈائری کا آخری صفحہ مت دیکھنا..."

"ورنہ تم ملیحہ کو کھو دو گے۔"

پیغام پڑھتے ہی ارمغان کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔

کیونکہ اس بار...

پیغام بھیجنے والے نے پہلی بار اس کا نام لکھا تھا۔

اور اس سے بھی زیادہ خوفناک بات یہ تھی...

کہ اسے ڈائری کے بارے میں کیسے معلوم تھا؟

"بعض لوگ محبت نہیں ہوتے...

وہ تقدیر کا وہ راز ہوتے ہیں...

جسے سمجھنے میں پوری زندگی گزر جاتی ہے۔"

جاری ہے... 🥀

Hot

Comments

Moheen Daud

Moheen Daud

maleeha ka koi dushman TU nhi tha Jo arman ko call krta tha ya maleeha hud

2026-06-17

1

See all

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play