بعض لوگ ہماری زندگی میں دیر سے نہیں آتے...
وہ بس اُس وقت آتے ہیں جب قسمت ہمیں آزمانا چاہتی ہے۔
اور عجیب بات یہ ہے کہ ایسے لوگ اکثر خوشی نہیں دیتے...
بلکہ ایک ایسی عادت بن جاتے ہیں جس سے نجات ممکن نہیں رہتی۔
اُس رات ارمغان بہت دیر تک جاگتا رہا۔
بارش مسلسل کھڑکی کے شیشوں سے ٹکرا رہی تھی۔
کمرے کی نیم تاریکی میں موبائل کی Screen بار بار روشن ہو رہی تھی۔
اور ہر بار اس کی نظریں اسی جملے پر جا کر رک جاتی تھیں۔
"ہر کوئی ملیحہ کو پہلی بار نہیں دیکھتا..."
یہ صرف ایک پیغام تھا۔
لیکن نہ جانے کیوں...
اس کے اندر ایک قبرستان جیسی خاموشی دفن تھی۔
ایسی خاموشی جو انسان کے ذہن میں سوال اگا دیتی ہے۔
صبح معمول کے مطابق طلوع ہوئی۔
مگر ارمغان کے اندر سب کچھ غیر معمولی تھا۔
وہ کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہوا تو بے اختیار نظریں اردگرد گھومنے لگیں۔
جیسے وہ کسی کو تلاش کر رہا ہو۔
یا شاید کسی ایک چہرے کو۔
اور پھر...
وہ نظر آئی۔
ملیحہ۔
سفید لباس میں۔
کھلے ہوئے سیاہ بال۔
اور آنکھوں میں وہی عجیب سا سکون...
جو انسان کو بےسکون کر دیتا ہے۔
چند لمحوں کے لیے ارمغان بس اسے دیکھتا رہ گیا۔
پھر خود ہی نظریں چرا لیں۔
کیونکہ بعض لوگوں کو زیادہ دیر دیکھنا...
دل کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔
دوپہر کے قریب آسمان دوبارہ بادلوں سے بھر گیا۔
ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔
اور چند ہی لمحوں بعد بارش شروع ہو گئی۔
زیادہ تر طلبہ کلاسوں سے نکل کر اندرونی ہالز میں چلے گئے۔
مگر ملیحہ ہمیشہ کی طرح اکیلی تھی۔
وہ کالج کے پچھلے حصے میں موجود پرانے باغ کی طرف بڑھ گئی۔
وہ باغ عجیب تھا۔
پرانے درخت۔
خستہ پتھریلے راستے۔
اور درمیان میں ایک ٹوٹا ہوا سنگِ مرمر کا بنچ۔
بارش کی بوندیں پتوں سے ٹکرا کر ایسی آواز پیدا کر رہی تھیں جیسے کوئی بہت دور بیٹھا آہستہ آہستہ رو رہا ہو۔
ملیحہ اسی بنچ پر بیٹھی تھی۔
اور اس کے ہاتھ میں ایک سفید گلاب تھا۔
ارمغان چند لمحے دور کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
پھر نہ جانے کس ہمت کے تحت اس کے قریب چلا آیا۔
"سفید گلاب؟"
ملیحہ نے سر اٹھایا۔
اور ہلکا سا مسکرائی۔
"ہاں۔"
"سرخ گلاب پسند نہیں؟"
ارمغان نے پوچھا۔
ملیحہ نے گلاب کی پتّیوں پر انگلی پھیری۔
پھر بہت آہستہ بولی:
"سرخ گلاب محبت کا اعلان ہوتے ہیں..."
"اور سفید گلاب محبت کا ماتم۔"
بارش کی ایک بوند گلاب کی پتّی سے پھسل کر نیچے گر گئی۔
ارمغان خاموش ہو گیا۔
چند لمحے بعد ملیحہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی:
"میرا کیا ہے..."
"میں تو سمجھ جاؤں گی۔"
"ایک سفید گلاب خریدوں گی..."
"سفید کپڑے پہنوں گی..."
"لب اسٹک لگا لوں گی..."
"اور سمجھ جاؤں گی کہ بعض خواب دفن ہونے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔"
اس کی آواز میں عجیب سی تھکن تھی۔
جیسے وہ کسی ایسے غم کا ذکر کر رہی ہو...
جو ابھی آیا ہی نہ ہو۔
"تم ہمیشہ ایسی باتیں کیوں کرتی ہو؟"
ارمغان نے دھیرے سے پوچھا۔
ملیحہ ہلکا سا ہنسی۔
مگر اس ہنسی میں خوشی نہیں تھی۔
"کیونکہ کچھ لوگ ہنس کر روتے ہیں..."
"اور کچھ لوگ رو کر ہنستے ہیں..."
"میں شاید دوسری قسم کے لوگوں میں سے ہوں۔"
ہوا کا ایک جھونکا آیا۔
ملیحہ کے بال چہرے پر بکھر گئے۔
اس نے انہیں کان کے پیچھے کیا۔
اور پہلی بار چند لمحوں کے لیے اس کی نظریں ارمغان کی آنکھوں سے جا ملیں۔
وقت جیسے ساکت ہو گیا۔
بارش برس رہی تھی۔
ہوا چل رہی تھی۔
مگر اس لمحے دونوں کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔
سوائے دل کی دھڑکنوں کے۔
ارمغان نے پہلی بار محسوس کیا...
کہ شاید وہ ملیحہ کو صرف پسند نہیں کرتا۔
شاید وہ اس کے اندر اترتی جا رہی تھی۔
آہستہ آہستہ۔
خاموشی سے۔
بالکل بارش کی طرح۔
"ارمغان..."
ملیحہ نے اچانک پکارا۔
"ہمم؟"
"کبھی ایسا لگا کہ تم کسی کو پہلی بار نہیں ملے؟"
ارمغان چونکا۔
کیونکہ یہی احساس اسے پہلی ملاقات سے ہو رہا تھا۔
"شاید..."
وہ دھیرے سے بولا۔
ملیحہ کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے عجیب سی چمک ابھری۔
پھر وہ مسکرائی۔
مگر اس مسکراہٹ میں خوشی نہیں تھی۔
صرف اداسی تھی۔
"شاید کچھ لوگ پہلی بار نہیں ملتے..."
"وہ صرف دوبارہ ملتے ہیں۔"
واپسی پر دونوں خاموش ساتھ چلتے رہے۔
بعض خاموشیاں گفتگو سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہیں۔
اور بعض لوگ لفظوں سے نہیں...
صرف موجودگی سے یاد رہ جاتے ہیں۔
شام ڈھل چکی تھی۔
بارش رک گئی تھی۔
مگر آسمان اب بھی بوجھل تھا۔
ارمغان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔
اس کے ذہن میں مسلسل ملیحہ کی آواز گونج رہی تھی۔
"شاید کچھ لوگ پہلی بار نہیں ملتے..."
اسی لمحے موبائل Vibrate ہوا۔
Unknown Number۔
اس نے فوراً Message کھولا۔
صرف ایک جملہ لکھا تھا:
"بعض کہانیاں قبرستان سے شروع ہوتی ہیں..."
"اور قبرستان پر ہی ختم ہوتی ہیں۔"
ارمغان کے ہاتھ بے اختیار کانپ گئے۔
دل میں ایک انجانی سرد لہر دوڑ گئی۔
اس نے فوراً نمبر Trace کرنے کی کوشش کی۔
مگر ہمیشہ کی طرح...
کوئی نمبر موجود نہیں تھا۔
صرف خاموشی۔
اور ایک نیا خوف۔
اُسے معلوم نہیں تھا...
کہ یہ صرف آغاز تھا۔
اصل کہانی ابھی پردۂ راز میں تھی۔
اور بعض راز...
انسان کو جاننے سے پہلے تباہ کر دیتے ہیں۔
جاری ہے... 🥀~
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments
Moheen Daud
mujey lgta maliha phly sy usy janti thi💖aur koi Raz bi chupa hua tha
2026-06-17
1