بارش اب بھی جیل کی سلاخوں سے ٹکرا رہی تھی۔ ٹپ ٹپ ٹپ... ہر بوند جیدی کے سینے پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔ ہاتھ میں صائمہ کی تصویر تھی۔ 7 سال پرانی، پر اب بھی نئی لگتی تھی۔ جیسے وقت نے اس کے چہرے کو چھونا گناہ سمجھا ہو۔
سپاہی کا سوال اب بھی کانوں میں گونج رہا تھا: "یہ کون ہے؟"
اور میرا جواب: "میری سزا۔"
سزا... ہاں، صائمہ میری سزا تھی۔ وہ سزا جو مجھے جیتے جی مار رہی تھی۔
آنکھ بند کی تو 7 سال پیچھے چلا گیا۔ اسی رات میں... جب فون کی گھنٹی نے سب کچھ بدل دیا تھا۔
"جیدی... پلیز آ جاؤ،" صائمہ کی آواز میں آنسو گھلے تھے۔ "بھائی کو ہمارے بارے میں پتہ چل گیا ہے۔ وہ پاگل ہو رہے ہیں۔"
میں بائیک بھگاتا ہوا اس کے گھر پہنچا تھا۔ دل کہہ رہا تھا کچھ برا ہونے والا ہے۔ اور ہوا بھی وہی۔
گھر کے اندر قیامت کا سامان تھا۔ صائمہ کا بھائی ناصر آگ بگولہ تھا۔ آنکھیں سرخ، ماتھے پر پسینہ۔
"تیری اتنی ہمت؟ میری بہن کو پھنسا رہا ہے؟" وہ دھاڑا۔
میں نے بھی آگے سے جواب دیا۔ جوانی کا جوش، عشق کا نشہ۔ "میں صائمہ سے محبت کرتا ہوں۔ اور اس سے شادی کروں گا۔"
"میری بہن سے دور رہو!" وہ چیخا اور میرا گریبان پکڑ لیا۔
صائمہ بیچ میں آ گئی۔ "بھائی، خدا کا واسطہ ہے۔ جیدی کو چھوڑ دو۔ میں سمجھا دوں گی۔"
پر اس وقت ہم دونوں میں سے کوئی ہوش میں نہیں تھا۔ دھکا مکی شروع ہو گئی۔ میں ناصر کو پیچھے دھکیل رہا تھا کہ اچانک...
دھڑام!
میز پر رکھا شیشے کا بھاری گلدستہ نیچے گرا۔ اور ناصر... وہ اسی کے اوپر جا گرا۔
ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا۔ پھر خون۔ فرش پر خون ہی خون۔ ناصر کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ صائمہ کی چیخ سے پورا گھر گونج اٹھا۔
"بھائی... بھائی اٹھو!" وہ اس کے سینے سے لپٹ کر رو رہی تھی۔
میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ "میں نے... میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا صائمہ... خدا قسم۔"
پر میری کوئی صفائی نہیں تھی۔ محبت کا جنون ایک جان لے چکا تھا۔
10 منٹ بعد پولیس آ گئی۔ کسی پڑوسی نے 15 پر کال کر دی تھی۔ مجھے ہتھکڑی لگ گئی۔
جاتے جاتے میں نے پلٹ کر صائمہ کو دیکھا۔ وہ زمین پر بیٹھی تھی۔ بکھرے بال، سوجی ہوئی آنکھیں، اور ہاتھوں پر بھائی کا خون۔ اس نے میری طرف دیکھا بھی... پر اس نظر میں محبت نہیں تھی۔ نہ نفرت۔ صرف ایک ویرانہ تھا۔ ایک سوال تھا: "یہ کیا کر دیا جیدی؟"
اس دن کے بعد میں اسے کبھی نہ مل سکا۔
آنکھ کھلی تو میں پھر اسی کوٹھری میں تھا۔ بارش اب بھی ہو رہی تھی۔ تصویر پر ایک بوند گری۔ جیسے صائمہ خود رو رہی ہو۔
"کچھ محبتیں انسان کو عاشق نہیں، قیدی بنا دیتی ہیں،" میں نے ہونٹ ہلائے۔
تبھی لوہے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔
داروغہ کی بھاری آواز گونجی: "قیدی نمبر 302، جواد۔ تجھ سے کوئی ملنے آیا ہے۔"
7 سال میں پہلی بار۔
میرا دل سینے سے باہر آنے کو تھا۔ زنجیروں کو گھسیٹتا ہوا میں اٹھا۔
کیا... صائمہ؟
7 سال بعد وہ آئی ہے؟ مجھ سے نفرت کرنے؟ یا معاف کرنے؟
ہر قدم بھاری تھا۔ سلاخوں کے اس پار کون کھڑا ہوگا، میں نہیں جانتا تھا۔ پر اتنا جانتا تھا... آج میری سزا کا دوسرا حصہ شروع ہونے والا ہے۔
...wait for next episode👥...
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments