*"پر اتنا جانتا تھا... آج میری سزا کا دوسرا حصہ شروع ہونے والا ہے۔"*
زنجیروں کی جھنکار میرے قدموں کے ساتھ ملاقات والے کمرے تک آئی۔ سات سال میں پہلی بار کوئی ملنے آیا تھا۔ دل میں امید کا دیا ٹمٹما رہا تھا۔ کیا صائمہ آئی ہے؟
*لوہے کا دروازہ کھلا۔ سامنے شیشے کی دیوار۔ اور اس کے پار کرسی پر... *وہ بیٹھی تھی*۔*
صائمہ۔
سات سال نے اسے توڑا نہیں تھا، نکھارا تھا۔ پر آنکھیں... آنکھیں ویران تھیں۔ جیسے کسی قبرستان کا سناٹا ہو۔ اس نے سادہ سا کالا جوڑا پہنا تھا۔ ہاتھ میں تسبیح۔ اور چہرے پر... شرمندگی۔
مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے کانپتے ہاتھ سے فون اٹھایا۔ "جیدی؟"
میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس اسے دیکھتا رہا۔ سات سال کی پیاس تھی آنکھوں میں۔ سات سال کا سوال تھا زبان پر۔ پر میں خاموش تھا۔ کیونکہ جانتا تھا، ایک لفظ بولا اور میں بکھر جاؤں گا۔
"بولتے کیوں نہیں جیدی؟" وہ رو پڑی۔ "گالی دو، مارو، نفرت کرو... پر خدا کے لیے خاموش مت رہو۔ یہ خاموشی مجھے مار دے گی۔"
میں نے آخرکار فون اٹھایا۔ آواز حلق میں پھنس رہی تھی۔ "سات سال لگ گئے صائمہ؟ میری شکل دیکھنے میں سات سال لگ گئے؟"
"میں آ نہیں سکتی تھی جیدی،" وہ سسکی۔ "مجھے دھمکیاں ملتی تھیں۔ وہ کہتے تھے اگر میں تم سے ملنے آئی... تو تمہیں جیل میں ہی مروا دیں گے۔ میں ڈر گئی تھی۔"
"کس سے ڈر گئی تھی؟" میری آواز میں اب برف تھی۔ "سچ سے؟ یا ان لوگوں سے جن کے کہنے پر تم نے عدالت میں جھوٹ بولا تھا؟"
صائمہ نے میز پر سر رکھ دیا۔ "ہاں میں نے جھوٹ بولا تھا! کیونکہ میں مجبور تھی! ناصر کی موت کے بعد وکیل اشرف میرے گھر آیا تھا۔ اس نے کہا اگر میں نے تمہارے خلاف گواہی نہ دی تو وہ میرے ماں باپ کو ناصر کے قتل میں پھنسا دے گا۔ میرے ابو ہارٹ کے مریض تھے جیدی۔ میں کیا کرتی؟"
وکیل اشرف۔ نام سنتے ہی میری مٹھّیاں بھینچ گئیں۔ وہی وکیل جس نے میرا کیس لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔
"تو اب کیوں آئی ہو؟" میں نے پوچھا۔ "سات سال بعد ضمیر جاگ گیا؟"
اس نے سر اٹھایا۔ آنکھوں میں آنسو کے ساتھ آگ بھی تھی۔ "کیونکہ اب وہ میرے پیچھے پڑے ہیں جیدی۔ وکیل اشرف چاہتا ہے میں اس کے بیٹے سے شادی کر لوں۔ کہتا ہے اگر نہ کی تو وہ تمہاری رہائی رکوا دے گا۔ تمہیں عمر قید دلوا دے گا۔"
*میرے اندر کچھ ٹوٹا۔ پر یہ دل نہیں تھا۔ *یہ زنجیر تھی۔ سات سال سے میرے پیروں میں پڑی زنجیر*۔*
میں کھڑا ہو گیا۔ "سپاہی! ملاقات ختم۔"
"جیدی رکو!" صائمہ چلائی۔ "میں تمہاری مدد کے لیے آئی ہوں۔ میرے پاس ثبوت ہے۔ اس رات کی CCTV فوٹیج۔ جس میں صاف نظر آ رہا ہے کہ ناصر خود گلدان سے ٹکرا کر گرا تھا۔ تم نے اسے دھکا نہیں دیا تھا۔ میں یہ عدالت میں دوں گی۔ تمہیں باعزت بری کرواؤں گی۔"
*میں رک گیا۔ آہستہ سے پلٹا۔ اور پہلی بار سات سال میں مسکرایا۔ پر یہ مسکراہٹ محبت کی نہیں تھی۔ *یہ شکار دیکھ کر شیر کی مسکراہٹ تھی*۔*
"ثبوت سنبھال کر رکھو صائمہ،" میں نے کہا۔ "مجھے عدالت سے بری نہیں ہونا۔"
"پھر؟" وہ حیران ہوئی۔
میں شیشے کے بالکل قریب آیا۔ اتنا قریب کہ میری سانس سے شیشہ دھندلا گیا۔ "مجھے وکیل اشرف چاہیے۔ مجھے وہ ہر شخص چاہیے جس نے میری محبت کو گالی بنایا۔ جس نے تمہیں مجبور کیا۔ جس نے ناصر کی موت کا الزام مجھ پر لگایا۔"
"ج..جیدی تم کیا کرنا چاہتے ہو؟" اس کے چہرے پر خوف تھا۔
*"انصاف،"* میں نے ایک لفظ چبا کر کہا۔ *"جو عدالت سات سال میں نہ دے سکی، وہ اب میں خود لوں گا۔ اور ہاں... تم سے کوئی انتقام نہیں ہے صائمہ۔ تم میری محبت تھی، ہو، اور رہو گی۔ پر جنہوں نے ہماری محبت کا قتل کیا... ان کی قبر میں اب کیلیں میں ٹھونکوں گا۔"*
یہ کہہ کر میں مڑ گیا۔ پیچھے صائمہ کی آواز آئی۔ "جیدی! خود کو برباد مت کرنا! پلیز!"
میں نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کیونکہ جانتا تھا، اگر مڑ کر دیکھا تو شاید پھر سے کمزور پڑ جاؤں۔
کوٹھری میں واپس آ کر میں نے دیوار پر تین لکیریں کھینچیں۔ رہائی میں تین دن باقی تھے۔
*محبت سے انتقام نہیں لیا جاتا۔ پر محبت کے قاتلوں کو معاف بھی نہیں کیا جاتا۔*
*وکیل اشرف، تیار رہنا۔ جیدی آ رہا ہے۔ اور اس بار وہ تنہا نہیں ہے۔ اس کے ساتھ سات سال کا قہر ہے۔*
***WAIT FOR NEXT EPISODE🗣️***
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments