کوٹھری کی دیوار پر کھینچی گئی تین لکیریں اب چار ہو چکی تھیں۔ رہائی میں صرف دو دن باقی تھے۔ جیدی نے ہاتھ کی ہتھکڑیاں دیوار سے ٹیک لگا کر دیں اور فرش پر بیٹھ گیا۔ سات سال۔ سات سال کی خاموشی، سات سال کا درد، اور سات سال کا انتظار۔
صائمہ کی آواز ابھی تک اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ "جیدی! خود کو برباد مت کرنا۔ پلیز!" وہ مڑا نہیں تھا۔ مڑ جاتا تو شاید اس کی ہمت جواب دے جاتی۔ وہ جانتا تھا کہ صائمہ کی آنکھوں میں محبت کے ساتھ نفرت بھی تھی۔ نفرت اس نظام سے جس نے اسے مجرم بنایا تھا۔ نفرت ان قاتلوں سے جنہوں نے اس کی محبت کو قتل کیا تھا۔
وکيل اشرف نے دروازہ کھولا۔ چہرے پر سنجیدگی تھی۔ "جیدی، تیار رہنا۔ کل تمہاری رہائی ہے۔ لیکن یاد رکھو، اس بار وہ تنہا نہیں ہے۔"
"کون؟" جیدی نے سر اٹھایا۔
"سات سال کا قرض۔" وکیل نے گہری سانس لی۔ "جن لوگوں نے تمہاری محبت کا قتل کیا، وہ اب پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں۔ عدالت نے تمہیں رہا تو کر دیا، مگر انصاف ابھی باقی ہے۔"
جیدی کھڑا ہوا۔ ہتھکڑیاں کھنکائیں۔ "انصاف؟ انصاف تو اس دن مر گیا تھا جب صائمہ کے بھائی کی لاش ملی تھی۔ اب جو باقی ہے وہ صرف حساب ہے۔"
رات گہری ہو گئی۔ جیدی نے آنکھیں بند کیں تو ماضی کی فلم چل پڑی۔ صائمہ کا ہنسنا، اس کا چائے بنانا، اس کا یہ کہنا کہ "تم وکیل بنو گے تو میں تمہاری کلائنٹ بنوں گی۔" پھر وہ رات۔ خون۔ چیخیں۔ اور صائمہ کا بے جان جسم۔
اچانک کوٹھری کا بلب ٹمٹمایا۔ دروازے کے نیچے سے ایک پرچہ سرکا۔ جیدی نے اٹھایا۔ صرف ایک لائن لکھی تھی: "سات سال مکمل۔ اب حساب برابر۔ جگہ: پرانی عدالت۔ وقت: فجر سے پہلے۔"
پرچے کے نیچے کوئی نشان تھا۔ صائمہ کے دوپٹے کا کنارہ۔ جیدی کا دل دھڑکا۔ وہ زندہ تھی۔ وہ آئی تھی۔
فجر سے ایک گھنٹہ پہلے جیدی پرانی عدالت کے کھنڈر میں کھڑا تھا۔ سامنے دھند میں تین سائے نمودار ہوئے۔ وہی تین لوگ جنہوں نے سات سال پہلے اس کی دنیا اجاڑی تھی۔ درمیان میں صائمہ کھڑی تھی۔ زندہ۔ مگر اس کے ہاتھ میں پسٹل تھی۔
"تم آ گئے جیدی۔" صائمہ کی آواز کانپ رہی تھی۔ "میں نے کہا تھا نا، میں خود انصاف لوں گی۔ تم سے کوئی انتقام نہیں لیا جاتا۔"
جیدی نے آہستہ قدم بڑھائے۔ "تو پھر پسٹل کیوں پکڑی ہے صائمہ؟"
"کیونکہ محبت سے قاتلوں کو معاف نہیں کیا جاتا۔" صائمہ نے پسٹل اس کی طرف کر دی۔ "اور سات سال کا قرض... آج چکانا ہو گا۔"
ہوا رک گئی۔ وقت ٹھہر گیا۔ جیدی نے آنکھیں بند کر لیں۔ اسے معلوم تھا آج فیصلہ ہو گا۔ یا محبت جیتے گی، یا انتقام۔
اچانک پیچھے سے آواز آئی۔ "ہاتھ اوپر کرو۔ پولیس!"
لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ پسٹل کی نال سے آگ نکلی...گولی نے جیدی کے کندھے کو چھو کر دیوار میں پیوست کر دی۔
صائمہ کا پسٹل والا ہاتھ کانپ کر نیچے گر گیا۔
جیدی نے آنکھ کھولی، مسکرایا اور بولا: "دیکھا... محبت نے گولی کو بھی راستہ دکھا دیا۔"
پولیس کی ٹارچ کی روشنی میں تین سائے کانپ اٹھے۔
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments