قسط 5: "گولی اور گواہ"*

گولی نے جیدی کے کندھے کو چھو کر دیوار میں پیوست کر دی۔

صائمہ کا پسٹل والا ہاتھ کانپ کر نیچے گر گیا۔

جیدی نے آنکھ کھولی، مسکرایا اور بولا: "دیکھا... محبت نے گولی کو بھی راستہ دکھا دیا۔"

پولیس کی ٹارچ کی روشنی میں تین سائے کانپ اٹھے۔

"ہاتھ اوپر! حرکت نہیں!" وکيل اشرف کی آواز گونجی۔ پولیس نے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ ٹارچ کی روشنی میں پرانی عدالت کا کھنڈر کسی فلم کے سین کی طرح لگ رہا تھا۔ دھول، دھواں، خون، اور سات سال کا حساب۔

سردار نے دانت پیس کر کہا: "تم دونوں مر جاؤ گے۔ ثبوت کہاں ہے؟ گواہ کون ہے؟"

جیدی نے زخمی کندھا پکڑا اور صائمہ کی طرف دیکھا۔ صائمہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ "گواہ... ہم دونوں ہیں۔" جیدی کی آواز دھیمی تھی مگر پورے کھنڈر میں سنائی دی۔

وکيل اشرف آگے بڑھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی، جلے ہوئے کناروں والی ڈائری تھی۔ "یہ صائمہ کے بھائی کی ڈائری ہے۔ سات سال پہلے تم لوگوں نے اسے دھمکی دی تھی۔ اس نے انکار کیا تو اسے قتل کر دیا۔ اس ڈائری کے آخری صفحے پر تم تینوں کے نام لکھے ہیں۔ تاریخ بھی۔"

سردار کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "یہ جھوٹ ہے! ہم نے وہ ڈائری جلا دی تھی۔"

"آگ کاغذ جلا سکتی ہے، سچ نہیں۔" اشرف بولا۔ "صائمہ نے سات سال یہ ڈائری اپنے دوپٹے میں چھپا کر رکھی۔ وہ دن گن رہی تھی جب انصاف ہو گا۔"

پولیس نے تینوں مجرموں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دیں۔ لوہے کی کھنک پرانی عدالت کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئی۔ جیدی نے گہری سانس لی۔ سات سال بعد آج پہلی بار اس کے سینے سے بوجھ ہلکا ہوا تھا۔

صائمہ دوڑ کر جیدی کے پاس آئی۔ اس نے اپنا دوپٹہ پھاڑ کر اس کے زخم پر باندھ دیا۔ "جیدی، تمہیں خون بہت بہہ رہا ہے۔ میں معافی مانگتی ہوں۔ میں تمہیں مارنا چاہتی تھی... مگر میرا ہاتھ کانپ گیا۔"

جیدی نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ "کانپنا ہی محبت کی نشانی ہے صائمہ۔ اگر تمہارا ہاتھ نہ کانپتا تو آج میں مر چکا ہوتا۔ اور محبت بھی۔"

ایمبولینس کی سائرن قریب آ رہی تھی۔ پولیس انسپکٹر نے جیدی اور صائمہ کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگاتے ہوئے کہا: "قانون کے مطابق تم دونوں بھی گرفتار ہو۔ غیر قانونی اسلحہ اور سازش کے الزام میں۔"

جیدی ہنس پڑا۔ "سات سال جیل کاٹی ہے انسپکٹر۔ ایک رات اور سہی۔ مگر آج میں آزاد ہوں۔ کیونکہ میرے دل پر لگی ہتھکڑی کھل گئی ہے۔"

اسٹریچر پر لٹاتے ہوئے جیدی نے صائمہ سے پوچھا: "اگر تمہاری گولی مجھے لگ جاتی تو؟"

صائمہ نے اس کا ماتھا چوما۔ "تو میں بھی مر جاتی۔ کیونکہ تمہارے بغیر یہ سات سال میں ویسے ہی مر چکی تھی۔ آج صرف سانس لوٹ کر آئی ہے۔"

ایمبولینس چل پڑی۔ پیچھے وکيل اشرف نے ڈائری بند کر دی۔ تینوں قاتل وین میں بیٹھ چکے تھے۔ پرانی عدالت کی دیوار پر خون سے ایک لفظ لکھا رہ گیا: "انصاف"۔

رات ڈھل رہی تھی۔ فجر کی اذان کی آواز آئی۔ جیدی نے صائمہ کا ہاتھ دبایا۔ "سنو... سات سال کا قرض چک گیا۔ اب نئی زندگی کا حساب شروع کرتے ہیں؟"

صائمہ نے سر ہلا دیا۔ آنسوؤں کے ساتھ مسکراہٹ بھی۔ "ہاں جیدی۔ اس بار چائے میں چینی تم ڈالو گے۔ اور کپ میں نہیں ٹوٹے گا۔"

ہتھکڑی کی زنجیر دونوں کے ہاتھوں کو جوڑے ہوئے تھی۔ مگر اس زنجیر سے زیادہ مضبوط وہ وعدہ تھا جو سات سال پہلے ٹوٹ گیا تھا۔ آج وہ وعدہ پھر جڑ رہا تھا۔ خون، آنسو اور محبت سے۔

ایمبولینس اندھیرے کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ پیچھے پرانی عدالت خاموش کھڑی تھی۔ جیسے وہ بھی سات سال سے اسی لمحے کا انتظار کر رہی ہو۔

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play