اتنے میں دروازے سے ۔۔
شان و شوکت کے ساتھ وہ داخل ہوا ۔۔
(6.5 فٹ قد کا مالک کالے سوٹ کے ساتھ کالی ہی کھڑیا پہنے۔۔ بالوں کو سیٹ کیے ہوئے وہ 24 سال کا پٹھان لڑکیوں کے دلوں پر کہربرسا رہا تھا ۔۔اور وہ تو تھا بھی اپنے قبیلے کا سردار غصہ بھی ججتا تھا اس پر۔)
ماہ نور کچن سے گلاس اٹھاتے باہر کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
اتنے میں اسکا پیر ایک کیلے کے چھلکے پر آگیا۔۔۔
اور ہماری ماہ نور ٹھا کر کے نیچے گر گئی ۔۔۔
اور وہ پاس کھڑے ہو کر دانت نکال رہا تھا ۔۔۔۔
ماہنور:"سالاررررر بھائی۔۔۔۔
(وہ چیخی )
سالار:" ہاہاہاہاہا 😂۔۔
بچاکتنی بار کہا ہے۔۔
دیکھ کر چلو نا۔۔۔
اور میں کوئی بھائی نہیں ہوں آپ کا آئی سمجھ۔۔۔"
( اس نےبازو چھاتی پر باندھتےہوئے کہا اور آئی برو اچکایا۔)
اب ماہ نور کو کہاں پتا تھا وہ ان جناب کے دل پر قبضہ کر کے بیٹھی ہوئی ہیں ۔۔۔۔
ماہ نور:" اکسکیوز می ۔۔۔"
سالار:" جی اکسکیوز ۔"
(اگر وہ سیر تھی تو وہ سوا سیر تھا ۔۔۔)
ماہنور:" ابے یار اٹھا تو دیں یا میں ساری زندگی آپکے پیروں میں بیٹھی رہو۔۔۔"
سالار:" ارے نہیں۔۔"
اس نے اپنا مضبوط ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا:
" آپ سید زادی ہے آپ کی جگہ ہمارے پیروں میں نہیں ۔
آپ تو ہمارے سر کا تاج ہیں ۔۔۔"
(اس نے ادب سے آنکھیں جھکا لی ۔وہ عزت والا تھا۔۔ اسے عزت کرنا آتی تھی ۔)
یقینا اگر قبیلے کے لوگ اگر اپنے سردار کو ایسے نظریں جکائےدیکھتے تو سدمے میں چلے جاتے۔
سب لوگ انکی طرف متوجہ ہوے ۔۔۔
ماہ نور تو نا ڈر تھی ۔۔
وہ کہاں ڈرتی تھی کسی سے۔۔
اور اسکی یہی بات تو ہمارے سردار کو پسند تھی ۔۔۔
وہ اسے اس وقت ایسے گھوررہی تھی جیسے اسے کچا چبا جائے گی ۔۔۔۔
(ہاں اگر اسکے بس میں ہوتا تو وہ اسے کچا چبا ہی جاتی۔۔ بس میں تو ویسے بہت کچھ تھا ۔)
سالار:" بچا مینے تو نہیں گرایا نا آپکو ۔۔۔"
اس نے اسے ایسے دیکھتے ہوے کہا ۔(بچا لفظ اس کی آواز میں سنے سے اتنا پیارا لگ رہا تھا۔۔۔ یقینا اگر کوئی اور ہوتا تو اسے دیکھ کر ہی پگل جاتا۔۔ لیکن یہاں تو ہماری کسی کی بھی طرف نا دیکھنے والی ماہ نور تھی ۔۔۔)
ماہنور:"اوئے میں بچا نہیں ہو مسٹر سالارجان ۔۔۔"
"oh sorry i mean mister salar khan ...."
(ہائے اسکا غلطی سے بھی سالار جان کہنا۔۔
اسکے دل کو چھو گیا ۔۔۔
اسکا دل کیا وہ بار بار یہ سنے لیکن یہ کہاں ممکن تھا ۔۔۔
اسے ایسے لگا وہ یہاں سے ہل نہیں سکے گا ۔)
اتنے میں حیدر انکے پاس آگیا۔۔
سالار حیدر کا دوست تھا۔
"چلو آؤ، لاؤنج میں چلتے ہیں۔" حیدر نے کہا۔
سالار نے وہیں سے بات شروع کی اور کہا، "اگر بچہ نہ کہو تو پھر کیا کہو؟" (اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔)
فٹافٹ جواب آیا:
"بہن"
سالار کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور باقی سب کے چھت پھاڑ قہقہے گونج اٹھے۔
اس نے لڑکھڑاتی آواز میں جواب دیا:
"کیا بہن؟ نہیں، استغفراللہ! ایسی باتیں نہیں کرتے۔"
اب سالار کی گول گول باتیں ماہ نور کے چھوٹے ذہن میں کہاں آنی تھیں۔ باقی سب کو اس کی باتوں کا مفہوم اچھی طرح معلوم تھا۔
سب تیاریوں میں مصروف تھے کیونکہ کل نایاب کی مہندی تھی، پھر رخصتی اور پھر ایک دن بعد ولیمہ تھا۔ سب بہت خوش تھے اور وہ تینوں گپیں ہانکنے میں لگی ہوئی تھیں۔
آج مہندی تھی۔ رات کو سب دیر سے سوئے تھے۔ ماہ نور، نایاب اور تہذیب نایاب کے کمرے میں ہی سو گئی تھیں۔
ماہ نور کی ماما ان سب کو اٹھانے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں۔
"اٹھ جاؤ نا مانو بیٹا، ناشتہ کرو، پھر تم سب کو پارلر بھی تو جانا ہے۔" (انہوں نے اپنی پوری کوشش کی تھی۔)
"امممم 😴 تھوڑا سا سونے دو نا۔"
"اٹھو اور انہیں بھی اٹھاؤ، سب ٹیبل پر ویٹ کر رہے ہیں۔"
سب سے پہلے اس کی آنکھیں کھلیں۔
"کون سب؟" اس نے منہ پھلا کر سوال کیا۔
"آپ کے بابا، تایا ابو، چاچو، آپ کے دونوں بھائی، کزن اور آپ کی تائی امی اور چاچی، بس۔"
"ماما بس یہی لوگ ہیں نا؟" (اس نے یقین دہانی کے لیے پھر پوچھا۔)
"ہاں، بس یہی لوگ ہیں۔"
ماہ نور یہ سن کر خوشی سے اٹھ گئی، جو صرف کچھ پل کی تھی۔
اس نے ان دونوں کو اٹھایا اور فریش ہونے چلی گئی۔
ان کا گروپ ڈائننگ ٹیبل کے پاس پہنچا۔ باقی سب تو نارمل تھا لیکن ہمارے خان کو دیکھ کر اس کے چہرے سے مسکراہٹ ایسے غائب ہوئی جیسے بلی کو دیکھ کر چوہا غائب ہوتا ہے۔
اس نے تمیز کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کو ادب سے سلام کیا اور بیٹھ گئی۔
معصوم شکل کے ساتھ غصہ اتنا اچھا لگ رہا تھا کہ اگر کوئی دیکھتا تو اس ایٹیٹیوڈ پر فدا ہو جاتا۔
(فدا تو کوئی پہلے سے تھا۔)
وہ ٹیبل پر بیٹھے اسے گھورے جا رہی تھی۔ اس بیچارے کے تو گلے میں ہی نوالہ اٹک گیا۔ آخر کو وہ دشمنِ جان اسے ایسے گھور رہی تھی۔
"مانو، اب کچھ کھا بھی لو۔" تہذیب نے عقل مندی سے کہا۔
"آہم۔" اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
اس کی ساری حرکتیں بچوں والی تھیں۔
(اپنے خان کے لیے تو وہ بچی ہی تھی۔)
"کیا کھاؤ؟"
"زہر۔" نایاب بولی۔
"ارے، میری عمر ہی کیا ہے ابھی۔"
اس کی ڈرامے بازی اسٹارٹ ہو گئی تھی جو بڑوں سے دیکھی نہیں جا رہی تھی، وہ سب اندر چلے گئے اور نئی نسل Gen Z وہیں بیٹھ کر اس چڑیل کے ڈرامے دیکھنے لگی۔
"اگر میں مر گئی تو آپ سب روئیں گے کیا؟"
(پتا نہیں اسے کیا سوجھی، اس نے پوچھ لیا۔)
حیدر: "میں تو بریانی کھاؤں گا۔"
نایاب: "میں سب کو ٹریٹ دوں گی۔"
تہذیب: "میں پارلر سے ریڈی ہو کر آؤں گی۔"
عروج: "میں شکر کروں گی، دنیا کا بوجھ کم ہو گا۔"
سالار چپ تھا۔
(اس کے اس سوال پر سالار کا دل پھٹنے والا تھا۔ وہ کیسے مرنے دے سکتا تھا اسے جس کے لیے وہ جی رہا تھا؟)
"سالار جی، آپ رہ گئے، آپ بھی بول لیں کچھ۔"
(ان سب کے جواب سن کر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئی تھیں۔)
"بچہ، مرے آپ کے دشمن۔ اللہ پاک آپ کو میری بھی عمر لگا دیں۔"
(اس کا دل پھٹنے لگا۔ کوئی کیسے اس کی جاناں، اس کی گڑیا کے بارے میں ایسے بول سکتا تھا؟ یہ بولتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ آخر وہ اس سے خاموش محبت کرتا تھا۔)
اتنا بول کر سالار غصے سے کھڑا ہو گیا اور اس نے ایک خطرناک گھوری سے سب کو نوازا اور باہر جانے لگا۔
یہ سن کر ماہ نور حیران ہوئی تھی۔
کیا اتنے بڑے قبیلے کا سردار اس کے لیے ایسا بول سکتا ہے؟ کیا وہ کسی کے لیے اتنی خاص ہو سکتی ہے؟
"خان جی۔" ماہ نور نے سالار کو آواز دی۔
"جی گڑیا۔" (وہ نظریں نیچے کر کے کھڑا ہو گیا۔)
"آپ ہمیں پارلر سے پک کر لیں گے؟"
(اس نے ہونٹوں کو عجیب شکل دیتے ہوئے کہا۔)
"جی بچہ، ضرور۔"
(سالار کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔)
"اہم اوٹے، تھینک یو خان جی۔"
(پہلی بار خان جی کہنے پر لڑائی نہیں ہوئی تھی۔ اور اگر اوکے کو پتا چل جاتا کہ اس کے ساتھ کیا ظلم ہوا ہے، یقیناً وہ الٹا لٹک کر مر جاتا۔)
اس کی بات سنتا ہوا وہ باہر جا چکا تھا۔
"اسلام علیکم مورے جان۔"
"وعلیکم السلام مورے جان کا بچہ۔ آج بڑے خوش لگ رہے ہو، ماشاءاللہ۔"
"مورے، آپ کو پتا ہے ۔۔۔؟؟
" جاری ہے ۔۔۔۔"
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments