پھر زیشان نے رسم ادا کی ۔
وہ لڑکیوں کے ہجوم میں تھا ۔
لیکن غیرت مند تھااسنے آنکھ تک نا اٹھائی ۔۔۔۔
مہندی کی رسم ختم ہو چکی تھی ۔
وہ سید تھے ۔
انکے ہاں شادیوں میں ڈھول اور
گانے نہیں ہوتے۔
حسنین:"ماہ نور سب کہاں ہے ۔۔۔؟؟"
ماہنور:" حسین مجھے نہیں پتا کچھ بھی ۔۔
حسنین:" کیوں۔۔۔؟؟
ماہنور:"یار مجھے نا پہلے ہی بہت غصہ آیا ہوا ہے ۔
اپنی گندی شکل کو یہاں سے دفان کروووو۔۔"
( وہ غصے سے چیخی)
حسنین:"اللہ تم جیسی بہن دشمنوں کو بھی نہ دے۔
" آمین۔۔۔!!"
پیچھے سے ثقلین بولا ۔
ماہنور:" ہاں اکلوتی بہن ہوں نہ ہوتی تب پتا چلتا۔۔۔
حسنین:"کتنا اچھا ہو جاتا۔۔۔۔"
ماہنور:"ہم سہی ہے میں ویسے بھی جارہی ہوں ۔۔"
حسنین:"کہاں۔۔۔ ؟؟ "
(حسنین نے حیرانگی سے پوچھا)
ماہنور:"بتایا تو تھا۔
International trip پر ۔
3 مہینوں کے لیے ۔
نایاب کی بارات والے دن جانا ہے ۔
حسنین :" کیا مطلب تم۔
اسکے ولیمے پر ۔۔؟
ماہنور:"ہاں ۔اس لیے مجھے غصہ آرہا ہے ۔۔۔
اس ٹکلےےے پرنسپل کا سر پھاڑ دوں۔۔۔۔۔"
حسنین:" Oh ao sad۔۔۔"
ماہنور:"ہم ۔۔۔۔"
حسنین:" نایاب کو بتایا ۔۔۔۔"
ماہنور:" نہیں ۔وہ ناراض ہو جائے گی ۔۔۔۔"
حسنین:"لیکن ... ؟
ماہنور:"آج بتا دوں گی ۔۔۔"
حسنین:"گڈ گرل ۔۔۔۔
شکر ہے 3 مہینے سکون ہو گا ۔۔۔"
ماہنور:" ہم مزے کرنا ۔۔۔
( یہ بولتے ہوئے اسکی آنکھیں نم ہو گئی ۔)
حسنین:" ارے میری پگلو سی بہن ۔۔۔
یہ چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں اتنے موٹے آنسو۔۔
انجوائے کرنا ۔ اور ہماری ٹینشن مت لینا۔۔
ہم تمہارے بنا بہت خوش رہے گئے ۔۔۔"
(اسنے پھر پیار سے اسے تنگ کیا ۔)
ماہنور:" گندے بھائی ۔۔۔"
حسنین:"ارے بھائی کی جان ۔۔۔
جلدی سے جائیں اور سو کی سپیڈ سے واپس آجائیں۔۔۔"
(اسنے اسے گلے لگا لیا۔ آخر تھا تو بھائی ۔اور اپنی بہن کے بنا کہاں دل لگتا تھا اسکا ۔۔)
حسنین :" اب چلو تمہاری چمچی۔۔ تمہادے بنا۔۔
اپنی مہندی کا فوٹو شوٹ کر رہی ہے ۔۔۔
ماہنور:" اسے تو میں بتاتی ہوں۔۔۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رانی بی :"ماہ نور ادھر آؤ ۔۔۔"
ماہنور:" جی جانو ۔۔۔"
رانی بی:" یہ سالار کی امی ہیں ۔۔۔"
ماہنور:"اسلام علیکم ۔آنٹی ۔۔"
آمنہ بی :"واعلیکم اسلام بیٹا ۔۔"
ماہنور:"کیسی ہیں آپ۔۔ ؟؟
(اسنے پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا ۔۔ )
آمنہ بی:"میں ٹھیک ہوں ۔۔۔
بیٹا ۔ماشاللہ مڑا تمہارا مسکراہٹ بہت
اچھا ہے ۔۔"
ماہنور:" ماشاللہ۔۔شکریہ ۔۔ آپ جوس پیے گی۔۔؟؟ "
آمنہ بی:" ہاں لا دو اتنی پیاری بچی کو کون منا کرے گا ۔۔۔"
ماہنور:"صبر دو منٹ لاتی ہوں ۔۔ساتھ میں بیٹھ کر پیے گئے" ۔
ماہنور:" رقیہ بی۔
رقیہ بی :"جی میڈم جی ۔ "
ماہنور:"میں میڈم نہیں ہوں ۔۔
رقیہ بی اپکی بیٹی ہوں نا؟؟"
رقیہ بی:"جی بالکل ۔۔۔
لیکن؟ سب کے سامنے ۔۔ کیا سوچے گے سب کے کام والی کو اتنا فری کیا ہوا ہے ۔۔۔"
ماہنور:" سب کی ایسی کی تیسی ۔جو بولتا ہے اسے میرے پاس بھیج دیں۔۔
میں بتاو گی اسے۔۔۔۔"
رقیہ بی:"شکریہ بیٹا ۔۔۔
اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے ۔۔"
ماہنور:" آمین۔۔۔
ایسا کرے آمنہ آنٹی اور میرے لیے جوس لے کر آئے ۔۔۔"
رقیہ بی:"جی بیٹا لاتی ہوں ۔۔۔"
ماہنور:"گڈ ۔۔"
ماہنور:"اور سنائیں آنٹی کیا کر رہی ہیں آپ آج کل ۔۔۔"
آمنہ بی:"مڑا کچھ نہیں ۔۔
بیٹھی رہتی ہو بس۔۔۔"
ماہنور :"تو ہمارے گھر آجایا کریں نا مل کر مزےکرے گے ۔۔۔"
آمنہ بی:"مڑا پہلے تم ہمارے گھر آو گی ۔۔"
ماہنور:" جی ضرور آو گی ۔۔
یہ لیں آپکا جوس ۔۔۔"
آمنہ بی:" شکریہ ۔۔۔"
وہ دونوں باتیں کر رہی تھی ۔
اتنے میں ایک بچا بھاگتا ہوا آیا ۔
اور ۔۔اور امنہ بی بی سے ٹکرا گیا ۔
اور گلاس سے سارا جوس ماہ نور کے کپڑوں پر گر گیا ۔
"! Oh shitt"
ماہ نور چلائی ۔
ہائےے اس بیچاری کے نئے کپڑے ۔۔۔۔
آمنہ بی :" آنٹی آپکو لگی تو نہیں ۔۔۔"
( اسنی فکرمندی سے پوچھا ۔)
آمنہ بی:" مڑا ہم کو تو کچھ نہیں ہوا ۔۔
تمہارے کپڑے خراب ہو گئے ۔۔"
ماہنور:" خیر ہے کپڑوں کا کیا ہے بدل لوں گی میں ۔۔"
(اسنے مسکراتے ہوئے کہا۔ )
ماہ نور نے ٹشو پیپر اٹھایا اور آمنہ بی بی کے کپڑے صاف کرنے لگی ۔
آمنہ بی:"مڑا ہم کو چھوڑو تمھارے کپڑے اتنت گندے ہو گے ۔۔۔۔"
ماہنور:" میں چینج کر لو گی آپ بیٹھ جائیں ۔۔۔"
سالار بھی انکے پاس آگیا ۔
آمنہ بی:"ماشاللہ مڑا تم بہت اچھا ہے ۔ تمھارے ماں باپ نے بہت اچھا طربیعت کیا ہے تمھارا ۔۔۔"
ماہنور:"جزاکاللہ۔۔"
سالار پاس کھڑا ہو کر یہ دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا ۔۔۔
ماہنور:"آنٹی میں چینج کر کے آتی ہوں فنکشن ویسے بھی ختم ہو گیا۔۔"
آمنہ بی:"اچھا مڑا جاو پھر میرے پاس واپس آنا باتیں کریں گئے۔"
ماہنور:" جی ضرور۔۔۔"
اس سب کے دوران ماہ نور نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر سالار کو نہ دیکھا۔۔۔
(شاید اسے شرم آرہی تھی۔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نایاب پوز بنا بنا کر تصویریں بنوا رہی تھی۔ ماہ نور کےبنا ۔(وہ تو اسے بعد میں خبر لگنی ۔)
ماہنور چینج کر کے سڑیوں سے نیچے اتر رہی تھی کہ اتنے میں ؟؟
"جاری ہے ۔۔۔۔"
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments