سالار کے گھر سے آمنہ بی بی ،حلیمہ خان،اہل خان اور علی خان آئے تھے ۔
ماہ نور کا میسج آگیا تھا ۔سالار انھیں لینے جا چکا تھا۔۔
ماہ نور تیرا فون بج رہا ہے ۔ کہاں ہے ۔ تمہارے پاس ہو گا ۔ یہ رہا ۔ دیکھ کس کی کال آرہی ہے تہذیب ۔ کھڑوس خان کی ۔ ابے یہ کون ہے ؟؟ تم لوگوں کا چہیتا خان کال اٹھاو اور بات کرو ۔ اسلام علیکم سالار بھائی ۔وعلیکم اسلام ۔
یہ ماہ نور کا نمبر ہے نا تہذیب؟؟ اس نے تہذیب کی آواز سنتے ہوئے کہا۔۔ جی سالار بھائی اسی چڑیل کا ہے وہ چینج کرنے گئی ہوئی ہے ۔۔۔۔
او اچھا آپ لوگ ریڈی ہو گئی ۔ جی بس ملکہ عالیہ چینج کر کے آجائے ۔
میں باہر ویٹ کر رہا ہوں جلدی آئیں ۔ اوکے اللہ حافظ ۔
ماشااللہ ماشاللہ آپکی برائیڈ بہت پیاری لگ رہی ہے ۔
آخر کزن کس کی ہے ۔ وہ کیسے کوئی موقع جانے دے سکتی تھی ۔ماہ نور نے ڈریسنگ روم سے باہر آتے کہا ۔۔سب کی نظر اس پر پڑی۔ سب کے منہ سے بے ساختہ ماشااللہ نکلا ۔ مہندی رنگ شرارے پہنے ہوئے بالوں کو جوڑے کی شکل میں قید کیے ہوئے ۔
جوڑے میں گلاب کا پھول لگایا ہوا۔ ہلکا سا میکپ کیے ہوئے وہ نظر لگ جانے کی انتہا تک خوبصورت لگ رہی ہے ۔
ابے آج میری مہندی ہے ۔ہاں تو تیری ہی ہے ۔ تو تم پھر مجھ سے زیادہ پیاری کیوں لگ رہی ہو ۔ 🙈ہائے اللہ میری انی تعریفیں ۔ اسے سچ میں شرم ا گئی ۔۔۔
اب آجائے آپ لوگ ۔سالار جو بچاراباہر کھڑا تھا ۔ سالار جی بس دو منٹ آ رہے ہیں ۔
اسکے منہ سے اپنا نام سن کر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی تھی ۔
جلدی کرو ۔
وہ تینوں چلتے ہوئے باہر آئی۔ سالار فون پر بات کر رہا تھا ۔
نایاب فرنٹ پر بیٹھ گئی تھی کیوں کے اس کے کپڑے ہیوی تھے ۔
تہذیب بیٹھ رہی تھی ۔ اور ماہ نور وہ کچھ دیکھ رہی تھی ۔ لیکن کیا ؟؟
سالار فون بند کر کے انکی طرف متوجہ ہوا ۔
چلیں ۔۔
ہاں چلیں ۔
اس نے گاڑی میں نظر ڈالی تو وہ اسے نہیں دکھی ۔
وہ کہاں ہے ؟؟ (اس نے سپاٹ لہجے میں پوچھا ۔)
ادر ہی ہے باہر وہ دیکھیں ۔
اس نے اس طرف دیکھا جہاں تہذیب نے اشارہ کیا ۔
لیکن جب اس نے وہاں نظر ڈالی تو اسکی نظر ہٹ نہیں رہی تھی وہاں سے ۔
وہ اس قدر پیاری لگ رہی تھی کہ وہ سیدھا اسکے دل میں اتر رہی تھی ۔
معصوم سی صورت پر فکرمندی تھی ۔ وہ ایک بزرگ عورت کو سڑک پار کرا رہی تھی ۔
لو ہو گئی اسکی خدمت خلق شروع ۔نایاب نےاسے دیکھتے کہا۔۔
سالار بھائی لے کر آئیں اسے !
صبر میں لاتا ہوں انھیں ۔ وہ اسکی اس خرکت پر مسکرا رہا تھا ۔ جاناں اسی لیے تو تم اس خان کے دل پر راج کرتی ہو ۔اس نے زیرلب کہا ۔"ماہ نور، چلیں۔"
"ہاں جی، چلیں۔"
وہ دونوں ساتھ میں چل کر آ رہے تھے۔ نایاب اور تہذیب انہیں دیکھ رہی تھیں۔
"ہائے ماشاء اللہ! کتنی پیاری جوڑی ہے ان دونوں کی۔" نایاب نے رشک سے دیکھتے ہوئے کہا۔
"ہاں، ویسے تیری بات تو ٹھیک ہے، جچتے ہیں ایک ساتھ۔"
"اللہ کرے ان دونوں کی شادی ہو جائے۔"
"کتنا مزہ آئے گا۔۔"
"آمین۔" (لگتا ہے وہ وقت قبولیت کا تھا۔)
"لیکن ہمارا خاندان۔۔۔ اور اس کا خاندان بھی سخت ہے۔"
"مجھے پتا ہے سالار بھائی اسے پسند کرتے ہیں، لیکن وہ کبھی نہیں مانے گی۔"
"ہاں، اسے پیار، محبت فضول لگتے ہیں۔"
"وہ بولتی ہے محبت تو وہ ہوتی ہے جو اپنے محرم سے کی جائے۔"
"ہاں، اس لیے۔۔۔ اس نے کبھی کسی سے محبت نہیں کی، بلکہ اپنی محبت کو اپنے محرم کے لیے بچا کر رکھا۔"
"مجھے یقین ہے، تہذیب، وہ سردار سالار خان ہے، وہ اسے پا لے گا۔"
"آمین، ایسا ہی ہو۔"
"ہم تو یہی چاہتے ہیں۔"
"ویسے دیکھ تو، یہ لیلا مجنوں آئے کیوں نہیں ابھی تک۔۔"
وہ دونوں ساتھ میں چل رہے تھے۔ اتنے میں ماہ نور کی نظر سڑک کے پار پڑی۔
وہ ایک دم رک گئی۔ سالار حیران ہو کر پیچھے مڑا۔
اس کی آنکھوں میں خوشی کی لہر تھی۔۔۔ ایک خوبصورت چمک تھی۔
سالار نے اس کی نظر کے زاویے میں دیکھا۔
وہاں گجرے والا تھا۔
(ہائے گجرے! لڑکیوں کا پہلا پیار شاید اس لیے، کیونکہ ان میں سے پیار کی خوشبو آتی ہے۔ وہ نرم ہوتے ہیں، ان کی طرح۔)
"سالارررررررر جی ی ی! وہ دیکھےےےے گجرےےےےے!"
وہ خوشی سے چیخی۔
سالار حیران تھا۔ اتنی خوشی!
اس کی اس چیخ پر وہ کھلکھلا کر ہنسا،
جس سے اس کے ڈمپل آب و تاب سے چمکنے لگے۔
"بچا، آپ کو چاہیے وہ؟"
جواب تو سالار کو پتا تھا،
لیکن وہ اس کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔
"ہاں جی۔۔۔"
وہ خوشی سے چہکی۔
اس نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری اور کہا:
"ہائے میرا بچا، ماشاء اللہ۔۔۔"
اس نے 5000 کا نوٹ نکالا اور گجرے والے کو دیا۔۔۔
"بچا، کتنے چاہییں؟"
"امم۔۔۔ دو ہی ہاتھ ہیں میرے، اگر اور ہوتے تو سارے لے لیتی۔"
اس نے معصومیت سے کہا۔
"اوکے، ویٹ فار اے منٹ!"
اس نے دو گجرے لیے۔
"یہ لیں آپ کے باقی پیسے۔"
"نہیں، رکھ لیں آپ۔"
"شکریہ بیٹا، میرے بچوں کا کھانا آ جائے گا۔"
"اللہ تم دونوں کی جوڑی سلامت رکھے۔"
سالار نے اتنی آہستہ آواز میں "آمین" کہا۔۔۔ جو صرف اسے سنائی دی۔
"آپ نے انہیں اتنے پیسے کیوں دیے؟"
"کسی کا صدقہ اتارا ہے، بس وہی تھے۔"
"او، سہی۔"
"ادھر آئیں، آپ کو گجرے پہناؤں۔"
"اممم۔۔۔ میں خود پہن لوں گی۔"
اس نے سوچ کر کہا۔۔۔
"ارے، جو لے کر دیتا ہے وہی پہناتا ہے، پاگل۔"
"ارے، ایسا نہیں ہوتا۔"
"ایسا ہی ہوتا ہے۔"
"لائیں، اپنے ہاتھ آگے کریں۔"
"امممم۔۔۔ اچھا، یہ لیں۔"
اس نے آخرکار ہاتھ آگے کر ہی دیے۔
اس نے پیار سے اس کے نازک ہاتھ تھامے۔
وہ دنیا سے بےخبر ہو گیا۔۔۔
اس کا نازک لمس محسوس کرنے لگا۔
اور ۔۔۔؟؟
" جاری ہے ۔۔۔"
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments