JaNe KhAn BY GHaZaL KAzMi.... ᥫ᭡

JaNe KhAn BY GHaZaL KAzMi.... ᥫ᭡

Introduction + Nikkah

JANE KHAN♡•

یہ منظر ہے پاکستان کے ایک شہر ایبٹ آباد کا۔ ایک 19 سال کی لڑکی جس نے سفید انارکلی فراک پہنی ہوئی تھی۔۔۔

لمبے بال کھول کر کندھے پر ڈالے، ہلکا سا میک اپ کیے ہوئے جس کی اسے ضرورت نہیں تھی۔۔۔

وہ کہیں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔

کمرے کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کی امی کی آواز آئی:

"ماہ نور بیٹا تیار ہو گئی آپ۔۔۔؟"

ماہ نور: "جی جانو ہو گئی ریڈی۔۔"

(ماہ نور پیار سے اپنی ماما کو جانو بولتی تھی۔)

رانی بی: "شاباش میری بیٹی، اب جلدی سے گاڑی میں بیٹھ جائیں۔۔ ہمیں نایاب کے نکاح میں جانا ہے۔۔۔"

نایاب رشتے میں ماہ نور کی اچھی دوست اور کزن تھی۔ وہ بہت خوش تھی اس کے نکاح پر۔

سارے راشتہ دار، دوست اور عزیز لوگ اکھٹے تھے۔

آج سید زادوں کے گھر میں رونق چھائی ہوئی تھی۔۔۔

وہ لوگ کہتے ہیں نا:

"جب سید سورنے پر آتے ہیں تو لوگ دیدار کو ترستے ہیں۔۔۔"

وہ سب سید زادے اتنے حسین لگ رہے تھے جیسے آسمان سے اترے ہوئے شہزادے ہوں۔۔۔

جو بھی کہو تھے تو وہ شہزادے ہی تھے۔

نایاب نے گرے کلر کی میکسی پہنی ہوئی تھی۔۔۔

اس کے ساتھ میچنگ جیولری، بالوں کو رول کر کے کندھے پر ڈالے ہوئے۔۔۔

لائٹ میک اپ کے ساتھ وہ بالکل پری لگ رہی تھی۔۔۔

ماہ نور سائیڈ پر کھڑی اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔

نایاب نے کہا:

"ٹھرکی عورت ایسے نا دیکھ مجھے۔۔۔"

• ماہ نور آگے بڑھی تو۔۔۔

نایاب نے ایک دم اپنے سامنے ہاتھ رکھ دیے۔۔۔

مانور سدمے میں چلی گئی۔۔۔

جیسے وہ سچ میں اس کی عزت لوٹ رہی ہو۔۔۔

ماہ نور: "ابے ہٹ نظر اتار رہی تھی تیری۔۔۔ میرا بچہ کتنا پیارا لگ رہا ہے۔۔۔"

(اس نے اسے دیکھتے ہوئے پیار سے کہا۔)

نایاب: "ماہ نور تم نے شادی کر لی اور مجھے بلایا نہیں۔۔۔ اور تیرا بچہ بھی ہے جاو یہاں سے مجھے بات نہیں کرنی تم سے۔۔۔"

یہ سن کر ماہ نور کا دل کیا۔۔۔ یا اس کا سر پھاڑ دے یا اپنا۔۔۔

ماہ نور: "میری ماں میں نے کوئی شادی نہیں کیییییی اس نے 'کی' پر زور ڈالا۔۔۔"

نایاب: "تو پھر تیرا بچہ کہاں سے آیا۔۔۔"

(اس نے اپنی ساری عقل کا استعمال کیا۔۔۔)

ماہ نور: "یا اللہ جی مجھے صبر دے۔۔۔"

(ماہ نور کی آہ نکلی)

اور نایاب دانت نکال کر ہنسنے لگی۔۔۔

نایاب بہت خوش تھی آخرکار اس کی پسند سے نکاح تھا۔۔۔

سب ہال میں پہنچ چکے تھے۔۔۔ نایاب، ماہ نور، تہذیب جو ماہ نور کی طرح ہی کزن اور دوست تھی۔۔۔

یہ تینوں ایک دوسرے کی بہت اچھی دوستیں تھیں۔۔۔

یہ تینوں حیدر (جو نایاب کا بھائی تھا) کے ساتھ ہال پہنچی۔۔۔

نکاح کی تقریب شروع ہو گئی۔۔۔

"نایاب ولد سید الیاس حسین شاہ۔۔۔

آپ کا نکاح سید کبریال حسین شاہ ولد سید امجد حسین شاہ سے 5 لاکھ حق مہر کے ساتھ مقرر وقت پر ادا کیا جاتا ہے۔۔۔"

"کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟"

"جی قبول ہے۔۔"

(نایاب نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔)

اسی طرح کبریال سے بھی پوچھا گیا۔۔۔

"جی قبول ہے۔۔"

نکاح کی تقریب کے بعد سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔۔۔

ماہ نور نے نایاب کو پیار سے گلے لگایا۔۔۔

اور اسے اس کی نئی زندگی کی بہت مبارک باد دی۔۔۔

سب گھر واپس آ چکے تھے۔۔۔

لاونج میں بیٹھ کر ساری نوجوان نسل گپیں ہانک رہی تھی۔۔۔

نایاب: "مانو پانی لا دو نا۔۔۔"

مانو: "نہیں میں نہیں جا سکتی نا۔۔۔"

(اس نے منہ بنا کر کہا)

نایاب نے بیچارگی سے ہاتھ جوڑ کر کہا اور (رونے والی شکل بنا لی)

ماہ نور: "ابے جا رہی ہوں اور ایکٹنگ کی دوکان۔۔۔"

ماہ نور اٹھ کر کچن کی طرف بڑھی تھی کہ۔۔۔

اتنے میں۔۔۔؟؟

              "جاری ہے ۔۔۔۔ "

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play