اس کے جسم میں ایک کرنٹ دوڑا تھا۔
اس نے پیار سے اپنی جاناں کو گجرے پہنائے اور ایک دم سے دور ہو گیا۔
وہ جانتا تھا، اسے یہ پسند نہیں کہ کوئی نامحرم اسے ہاتھ لگائے۔۔۔
"وہ دیکھ، وہ آ رہے ہیں۔"
ماہ نور کے چہرے پر مسکراہٹ تھی،
جو اس کی خوشی کو چار چاند لگا رہی تھی۔
"خیر تو ہے سوڑیو؟ یہ مسکراہٹ۔" (نایاب نے اس کی خوشی دیکھ کر پوچھا۔)
"یہ دیکھو، گجرے۔۔۔" ماہ نور نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے کے آگے رکھے اور بچوں کی طرح خوش ہونے لگی۔۔۔
"واہ، ہمارے لیے نہیں لیے؟؟" انہوں نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
"سالار جی نے تو صرف مجھے ہی لے کر دیے۔"
"اوہ ہو، اچھا جی تو یہ بات ہے، سالار جی نے لے کر دیے ہیں۔"
"ہاں جی۔" اس نے معصومیت سے کہا۔۔
ماہ نور کی بات پر پہلی بار سالار کا چہرہ بلش کرنے کی وجہ سے لال ہو گیا۔۔
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔۔
"چلیں۔"
"جی، چلیں اب۔۔"
اور آخرکار وہ گھر پہنچ گئے۔
ماہ نور، سالار اور تہذیب نایاب کو لے کر آئے تھے۔
سٹیج پر
مہندی کی رسم شروع ہو چکی تھی۔۔۔
پہلے سب بڑوں نے رسم پوری کی اور پھر نوجوان نسل کی باری آئی۔
پہلے حیدر آگے آیا۔ اس نے رسم کی اور پتا نہیں اپنے والیٹ سے 5 ہزار کے کتنے ہی نوٹ اس کے سر سے وار کر ملازم کو دے دیے۔۔
پھر عروج آگے بڑھی۔ اس نے بھی رسم ادا کی۔
اب ماہ نور کی باری تھی۔ ماہ نور کے ساتھ دوسری طرف تہذیب بیٹھ چکی تھی۔ (کوشش تو ہمارے خان کی پوری تھی لیکن وہ ہار گیا اپنی ہونے والی سالی سے۔)
عجوہ رسم کرنے کے لیے آگے بڑھی ہی تھی کہ اس کی ٹکر زور سے اہل خان سے جا لگی۔۔
اب منظر یہ تھا کہ عجوہ کاظمی (ہلکا اورنج فراک پہنے، لمبے بالوں کو چٹیا میں قید کیے ہوئے، بے حد حسین لگ رہی تھی۔) اہل خان (6.4 قد کا مالک، گرے سوٹ پہنے، گنگھریالے بال بکھرے ہوئے، روایتی کھُسّہ پہنے ہوئے، گرے آنکھوں کا مالک، محفل کی جان بنا ہوا تھا۔) کے سینے کے ساتھ لگی ہوئی، آنکھیں بند کر کے کھڑی تھی۔
"اہم اہم۔" ماہ نور نے کھانسی کر کے انہیں ہوش کی دنیا میں لایا۔ وہ ایک سیکنڈ سے پہلے الگ ہو گئے۔
اور سٹیج پر رسم ادا کرنے چلے گئے۔
اب سالار خان اور اس کی بہن حلیمہ خان رسم ادا کر رہے تھے۔ اتنے میں زُوں کر کے تین گاڑیاں رکیں۔
سب کا دھیان اس طرف گیا۔
یک دم دو گاڑیوں سے گارڈ اترے۔
اور ایک نے دروازہ کھولا، باقی سب لائن بنا کر کھڑے ہو گئے۔
سب ہکے بکے رہ گئے کہ اتنی شان و شوکت کے ساتھ کون آیا۔
اتنے میں سید ذیشان کاظمی نے گلاسز کو سٹائل سے اتارتے ہوئے
گاڑی سے نیچے قدم رکھا۔
ہائےےے، کیا پرسنالٹی تھی اس ظالم کی۔
سفید شلوار قمیض، بڑے بال پیچھے کی طرف مڑے ہوئے، گہری کالی ہنستی ہوئی آنکھیں۔
اس نے ہاتھ سے گارڈز کو اشارہ کیا۔
سب وہاں سے باہر جا کر اپنی پوزیشن پر کھڑے ہو گئے۔
وہ شانِ بے نیازی کے ساتھ چلتا ہوا سٹیج پر پہنچا۔
"شان بھائی، آپ آ گئے؟؟" نایاب نے خوشی سے کہا۔۔
"جی گڑیا، آپ کی شادی ہو اور آپ کا شان بھائی نہ آئے!!"
وہ نایاب کا ماموں زاد کزن تھا۔
"جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments