Dil Sy Dil Tk
...قسط نمبر 1:...
"لوگ کہتے ہیں کہ محبت اچانک ہو جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، مگر میری محبت کسی اجنبی سے نہیں... میری اپنی بہترین دوست سے ہوئی۔"
وہ میرے اسکول کا پہلا دن تھا۔
میں ایک دوسرے شہر سے اس شہر میں منتقل ہوئی تھی، اسی وجہ سے مجھے یہاں آٹھویں جماعت میں داخلہ لینا پڑا۔ سب کچھ میرے لیے نیا تھا۔ نہ میں کسی کو جانتی تھی اور نہ ہی کوئی مجھے جانتا تھا۔
میں خاموشی سے اپنی کلاس میں داخل ہوئی۔ کلاس ٹیچر نے مسکراتے ہوئے مجھے پہلی قطار میں ایک خالی نشست پر بیٹھنے کا کہا۔ میں چپ چاپ جا کر بیٹھ گئی۔
میرے ساتھ بیٹھی لڑکی کا نام آمنہ تھا۔ جس نشست پر میں بیٹھی تھی، وہ دراصل اس کی دوست انعم کی تھی، مگر وہ اُس دن چھٹی پر تھی، اس لیے وہ جگہ مجھے مل گئی۔
شروع کے چند دن میرے لیے آسان نہیں تھے۔ نئے اسکول کا ماحول، نئے اصول اور نئے چہرے... سب کچھ اجنبی لگتا تھا۔ میں زیادہ تر خاموش رہتی اور اپنے اردگرد ہونے والی ہر چیز کو غور سے دیکھتی رہتی۔
ہر صبح اسکول کی اسمبلی گراؤنڈ میں ہوتی تھی۔ نویں اور دسویں جماعت کی طالبات اسمبلی کرواتیں، جبکہ ہم سب اپنی اپنی قطاروں میں خاموشی سے کھڑے ہوتے۔
مجھے اُس وقت بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اسی اسکول میں میری زندگی کا سب سے خوبصورت سفر شروع ہونے والا ہے۔ ایک ایسی ملاقات میرا انتظار کر رہی تھی جو پہلے میری دوستی، پھر میری عادت، اور آخرکار میری محبت بن جائے گی۔
وقت گزرتا رہا اور میں آہستہ آہستہ اسکول کے ماحول سے مانوس ہونے لگی۔
ایک دن حسبِ معمول صبح کی اسمبلی جاری تھی۔ تمام طالبات اپنی اپنی قطاروں میں خاموشی سے کھڑی تھیں۔ اچانک میری نظر ایک ایسی لڑکی پر پڑی جو قرآنِ پاک کی آیات کا ترجمہ سنانے کے لیے اسٹیج پر آئی تھی۔
جیسے ہی میں نے اسے دیکھا، میری نظریں اس پر ہی ٹھہر گئیں۔
"میری آنکھیں تمہیں یوں دیکھتی رہیں، جیسے انہوں نے تم سے پہلے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہ ہو۔"
نہ جانے اس میں ایسی کیا بات تھی کہ میں اسے مسلسل دیکھتی ہی رہ گئی۔ دل چاہ رہا تھا کہ اسی وقت جا کر اس سے بات کروں، مگر ہمت ساتھ نہیں دے رہی تھی۔
اسمبلی ختم ہو گئی، مگر اس کا چہرہ میرے ذہن سے نہ جا سکا۔
وقت کے ساتھ ساتھ میری اپنی کلاس کی لڑکیوں سے اچھی دوستی ہو گئی۔ ایک دن میں نے اپنی سہیلیوں سے کہا کہ میں اس لڑکی سے دوستی کرنا چاہتی ہوں۔
تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ نویں جماعت میں پڑھتی ہے اور اس نے سائنس گروپ لیا ہوا ہے۔
اس کے بارے میں ہر نئی بات جان کر نہ جانے کیوں دل کو عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی۔ میں ہر روز اسے دیکھنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈتی، مگر اس سے بات کرنے کی ہمت کبھی نہ کر پاتی۔
مجھے خود بھی سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر میں اس کے سامنے جاتے ہی اتنی خاموش کیوں ہو جاتی ہوں۔
شاید یہی وہ احساس تھا جسے لوگ محبت کی پہلی سیڑھی کہتے ہیں...
اور اُسے تو اس بات کا ذرا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ کوئی خاموشی سے اپنا دل اس کے نام کر چکا ہے۔
جاری ہے...
.....................
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Updated 9 Episodes
Comments