...قسط نمبر 2...
اُس دن کے بعد میری ہر صبح کا آغاز ایک ہی خواہش سے ہونے لگا... کاش آج پھر وہ نظر آ جائے۔
میں روز اسمبلی میں سب سے پہلے اپنی قطار میں کھڑی ہو جاتی، مگر میری نظریں صرف ایک ہی چہرہ تلاش کرتیں۔ جیسے ہی وہ نظر آتی، دل کی دھڑکن بے اختیار تیز ہو جاتی۔
مجھے اُس کا نام معلوم نہیں تھا، مگر پھر بھی نہ جانے کیوں ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میرا دل اُسے برسوں سے جانتا ہو۔
ایک دن میں نے اپنی ایک سہیلی سے ہمت کر کے پوچھا،
"وہ لڑکی کون ہے جو قرآنِ پاک کی آیات کا ترجمہ کرتی ہے؟"
وہ مسکرا کر بولی، "اُس کا نام مرحہ ہے۔ وہ نویں جماعت میں پڑھتی ہے اور سائنس گروپ کی طالبہ ہے۔"
"مرحہ..."
میں نے آہستہ سے اُس کا نام دہرایا۔ نہ جانے کیوں اُس کا نام بھی اُس کی طرح بہت خوبصورت لگا۔ اُس دن کے بعد یہ نام میرے دل کی دھڑکن بن گیا۔
میں اُسے چپ چپ کر دیکھنے لگی۔ جیسے ہی مرحہ میری نظروں کے سامنے آتی، میری دھڑکن بے اختیار تیز ہو جاتی۔ نہ جانے کیوں، اُسے دیکھ کر دل کو ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی، جیسے میری دنیا چند لمحوں کے لیے تھم گئی ہو۔
میں نے اُس کی ہر ادا، ہر عادت اور ہر بات کو نوٹ کرنا شروع کر دیا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ اکثر اسکول دیر سے آتی ہے، اسی لیے میں روز بےچینی سے اُس کے آنے کا انتظار کرتی۔
اپنی کلاس کی لڑکیوں کے درمیان ہوتے ہوئے بھی میرا ذہن کہیں اور ہوتا۔ میری نظریں ہر وقت صرف مرحہ کو ڈھونڈتی رہتیں۔ دل میں یہی خیال رہتا کہ وہ اس وقت کیا کر رہی ہوگی، کس سے بات کر رہی ہوگی، یا شاید ایک نظر میری طرف بھی دیکھ لے۔
کبھی کبھی میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوتی، مگر جیسے ہی مرحہ سامنے سے گزرتی، میں اپنی بات بھول جاتی اور بس اُسے دیکھتی رہ جاتی۔ مجھے خود بھی سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر یہ کیسا احساس تھا۔
اسی دوران میری اپنی کلاس کی سہیلیاں بھی میری زندگی کا خوبصورت حصہ بن گئیں۔ اُن کے ساتھ رہ کر مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ سچی دوستی کیا ہوتی ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود میرا دل تو بہت پہلے مرحہ کے نام ہو چکا تھا۔
یوں ہی اُسے دیکھتے دیکھتے پورا ایک سال گزر گیا، مگر میں کبھی اُس سے بات کرنے کی ہمت نہ کر سکی۔ دل بہت چاہتا تھا کہ ایک بار اُس سے بات کروں، مگر جیسے ہی وہ سامنے آتی، میری ہمت میرا ساتھ چھوڑ دیتی۔
وقت گزرا اور نیا تعلیمی سال شروع ہو گیا۔ اب میں نویں جماعت میں تھی، جبکہ مرحہ دسویں جماعت میں پہنچ چکی تھی۔ اُس کے اسکول چھوڑنے کا وقت قریب آ رہا تھا، مگر مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ جلد ہی اسکول میں الوداعی تقریب ہونے والی ہے۔
ایک دن میں نے پھر اپنی ایک سہیلی سے کہا،
"یار... مرحہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ میں اُس سے دوستی کرنا چاہتی ہوں۔"
میری سہیلی نے اچانک میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھینچتے ہوئے مرحہ کے پاس لے گئی۔
وہ مسکرا کر بولی، "آپی! یہ آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہے۔"
یہ سنتے ہی میری دھڑکن پہلے سے بھی زیادہ تیز ہو گئی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے دل سینے سے باہر آ جائے گا۔
مرحہ کی نظریں میری طرف اٹھیں... اور میری زبان خاموش ہو گئی۔
میں چاہ کر بھی ایک لفظ نہ بول سکی...
جاری ہے...
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Updated 9 Episodes
Comments