دل سے دل تک

...قسط نمبر 05...

ایڈمیشن روم سے واپس آنے کے بعد میری خوشی کی کوئی حد نہیں تھی۔

کچھ دیر پہلے تک میں جتنی اداس تھی، مرحہ کے چند لفظوں نے میرے دل میں اُس سے بھی زیادہ خوشی بھر دی تھی۔

مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جس لڑکی کو میں پچھلے پورے ایک سال سے خاموشی سے چاہتی رہی، آج وہ خود کہہ رہی تھی،

"میں تو پہلے ہی آپ کی فرینڈ ہوں۔"

یہ جملہ بار بار میرے ذہن میں گونج رہا تھا، اور ہر بار میرے چہرے پر بےاختیار مسکراہٹ آ جاتی۔

اُس دن کے بعد میری ہر صبح کا آغاز صرف ایک انتظار سے ہوتا تھا...

مرحہ کے انتظار سے۔

جیسے ہی میں اسکول پہنچتی، میری نظریں بےاختیار اسکول کے گیٹ کی طرف اُٹھ جاتیں۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ روز رکشے میں آتی ہے، کیونکہ اُس کا گھر اسکول سے کافی دور تھا۔

میں ہر آنے والے رکشے کو غور سے دیکھتی، شاید اُس میں مرحہ ہو۔

جب تک وہ اسکول نہ پہنچ جاتی، نہ میرا دل پڑھائی میں لگتا، نہ کسی اور بات میں۔

عجیب بات یہ تھی کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کا انتظار نہیں کیا تھا، مگر مرحہ کا انتظار میری روز کی عادت بن چکا تھا۔

اُسے اسکول میں داخل ہوتے دیکھ کر نہ جانے کیوں دل کو ایک عجیب سا سکون مل جاتا، جیسے میری صبح اب مکمل ہوئی ہو۔

وقفے کے دوران بھی میری نظریں ہر وقت اُسے ہی تلاش کرتیں۔

میری اپنی سہیلیاں میرے ساتھ ہوتیں، مگر میری توجہ اکثر مرحہ پر ہی رہتی۔ ہم سب اکٹھے باتیں کرتے، ہنستے اور شرارتیں بھی کرتے، مگر میری نظریں بار بار مرحہ کی طرف چلی جاتیں۔

میں اور میری سہیلیاں اکثر چپکے چپکے اُسے دیکھا کرتے تھے، مگر میرے لیے اُسے دیکھنا صرف تجسس نہیں تھا...

وہ میرے دل کا سکون بن چکی تھی۔

وہ ہر روز رکشے میں اسکول آتی تھی۔ اُس کے ساتھ میری کلاس کی بھی چند لڑکیاں آیا کرتی تھیں۔

ایک دن چھٹی کے وقت میں نے دیکھا کہ مرحہ اپنے رکشے میں بیٹھی ہوئی ہے۔

میں جان بوجھ کر اپنی ایک کلاس فیلو کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی، تاکہ کچھ دیر اور وہیں رہ سکوں۔

مجھے معلوم تھا کہ مرحہ مجھے دیکھ رہی ہے، مگر میں نے ایسا ظاہر کیا جیسے میری نظر اُس پر ہی نہ پڑی ہو۔

میں اپنی سہیلی سے باتوں میں مصروف ہونے کا ڈرامہ کرنے لگی۔

اتنے میں مرحہ نے اپنے ساتھ بیٹھی ایک لڑکی سے کہا،

"اُس لڑکی کو بلاؤ۔"

میں نے مسکراتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا۔

مرحہ نے بھی مسکرا کر کہا،

"بھول گئی ہو مجھے؟"

میں بےاختیار مسکرا دی اور فوراً جواب دیا،

"میں آپ کو بھول سکتی ہوں بھلا؟"

میرا جواب سن کر وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر صرف مسکرا دی۔

اسی دوران رکشہ چل پڑا۔

میں دیر تک اُسے جاتا ہوا دیکھتی رہی، یہاں تک کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

یہ تو صرف ایک دن کی بات تھی...

ورنہ تقریباً ہر روز چھٹی کے وقت میرا یہی معمول ہوتا تھا۔

میں اپنی کلاس کے باہر اپنی بہن کا انتظار کرنے کا بہانہ بنا کر کھڑی رہتی، مگر حقیقت یہ تھی کہ میں مرحہ کا انتظار کر رہی ہوتی۔

جیسے ہی وہ اپنی کلاس سے باہر نکلتی، میں بھی آہستہ آہستہ اُس کے پیچھے چلنے لگتی۔

میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی کہ کچھ دیر اُس کے ساتھ چل سکوں، چاہے ہماری کوئی بات نہ بھی ہو۔

صرف اُس کے قریب رہنا ہی میرے لیے کافی تھا۔

ایک دن وقفے کے دوران میں نے دیکھا کہ مرحہ ٹیچرز کے برتن اٹھائے اسکول کے کچن کی طرف جا رہی تھی۔

میں حسبِ معمول خاموشی سے اُسے دیکھ رہی تھی۔

وہ میرے قریب سے گزری تو مسکراتے ہوئے بولی،

"اپنا پروگرام تو وار گیا۔"

میں ہنس پڑی اور فوراً اُس کے پیچھے چل دی۔

مجھے لگا وہ ہمیشہ کی طرح مذاق کر رہی ہے۔

میں نے ہنستے ہوئے کہا،

"کیوں؟ کیا ہوا؟"

اس بار اُس کے چہرے کی مسکراہٹ کچھ مدھم ہو گئی۔

وہ آہستہ سے بولی،

"میں سچ کہہ رہی ہوں..."

میں نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔

پھر اُس نے وہ جملہ کہا، جس نے ایک لمحے میں میری ساری خوشی چھین لی۔

"ماہین نے مجھے تم سے بات کرنے سے منع کر دیا ہے..."

ایک لمحے کے لیے ایسا لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔

میرے چہرے کی مسکراہٹ آہستہ آہستہ غائب ہو گئی۔

میرے ذہن میں صرف ایک ہی سوال گونج رہا تھا...

آخر ماہین نے ایسا کیوں کہا؟

...جاری ہے... ❤️...

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play