...قسط نمبر 04: ...
میں آہستہ آہستہ ایڈمیشن روم کی طرف بڑھ رہی تھی۔ دل کی دھڑکن معمول سے کہیں زیادہ تیز تھی۔ ذہن میں بےشمار سوال گردش کر رہے تھے۔
آخر مجھے کس نے بلایا ہے؟
جیسے ہی میں ایڈمیشن روم کے دروازے پر پہنچی، میری نظر اندر بیٹھی ایک لڑکی پر پڑی۔
وہ... مرحہ تھی۔
میرے قدم وہیں رک گئے۔ ایک لمحے کے لیے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ وہ واقعی مجھے بلا سکتی ہے۔ چند لمحے پہلے ہی اُس نے میری دوستی کی بات کا ایسا جواب دیا تھا کہ میرا دل ٹوٹ سا گیا تھا، اور اب وہی مجھے اپنے پاس بلا رہی تھی۔
میں آہستہ آہستہ اُس کے قریب جا کر کھڑی ہو گئی۔ دل میں عجیب سا خوف تھا۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ مجھ سے کیا کہنا چاہتی ہے۔ وقفے کا وقت تھا، اس لیے باہر لڑکیوں کی آوازیں، ہنسی مذاق اور بھاگ دوڑ جاری تھی، مگر اُس لمحے میری تمام توجہ صرف مرحہ پر تھی۔
وہ مسکرا کر بولی،
"آپ وہی لڑکی ہیں نا، جس نے ابھی مجھ سے دوستی کرنے کا کہا تھا؟"
میں نے دھیرے سے سر ہلایا۔
پھر اُس نے کہا،
"آپ کا نام... وفا ہے، شاید؟"
مجھے حیرت ہوئی کہ اُسے میرا نام بھی یاد تھا۔
میں نے بڑی معصوم سی آواز میں صرف اتنا کہا،
"جی..."
وہ ہلکا سا مسکرائی اور بولی،
"میں تو پہلے ہی آپ کی فرینڈ ہوں... کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں؟ سوری۔"
میں چاہتی تھی کہ اُس سے بہت سی باتیں کروں، اُسے بتاؤں کہ میں کتنے عرصے سے صرف ایک دوستی کی امید لیے بیٹھی تھی، مگر نہ جانے کیوں میری زبان خاموش ہو گئی تھی۔
شاید دل کے جذبات الفاظ سے کہیں زیادہ بھاری تھے۔
مرحہ نے پھر پوچھا،
"اچھا، یہ بتائیں... آپ کس کلاس میں ہیں؟"
میں جواب نہ دے سکی۔ میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، جس پر بڑے واضح انداز میں 9 لکھا ہوا تھا۔ میں نے خاموشی سے کتاب اُس کی طرف کر دی اور نمبر کی طرف اشارہ کر دیا۔
وہ مسکرا کر بولی،
"اوہ... تو آپ نویں جماعت میں ہیں۔"
میں پھر بھی خاموش رہی۔
کچھ لمحوں بعد میں نے آہستہ سے رخ موڑا اور واپس چلنے لگی۔
دل چاہ رہا تھا کہ رو دوں...
بہت رو دوں...
لیکن شروع سے میری ایک عادت تھی۔
میں کبھی کسی کے سامنے نہیں روتی تھی۔
اگر روتی بھی تھی، تو صرف تنہائی میں۔
پیچھے سے مرحہ نے مجھے آواز دی،
"وفا...!"
میرے قدم ایک لمحے کے لیے ضرور رکے، مگر میں نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
میں خاموشی سے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنی کلاس کی طرف واپس آ گئی۔
اس دوران میری کلاس میں ایک ایسی سہیلی بھی بن چکی تھی، جو نہ جانے کب میرے بہت قریب آ گئی تھی۔ اُس کا نام آمنہ تھا۔ یہی وہ لڑکی تھی، جس کے ساتھ میں اسکول کے پہلے دن پہلی بار بیٹھی تھی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ہماری دوستی بہت مضبوط ہو گئی۔ ہم زیادہ تر وقت ایک ساتھ گزارتے، ایک ساتھ بیٹھتے، ہنستے، باتیں کرتے اور ہر چھوٹی بڑی بات ایک دوسرے سے شیئر کرتے تھے۔
آمنہ میری بہت اچھی دوست بن چکی تھی...
مگر ایک حقیقت ایسی بھی تھی، جسے میں خود بھی سمجھ نہیں پاتی تھی۔
میں آمنہ کو چاہتے ہوئے بھی نہ چاہ سکی...
اور مرحہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی چاہتی رہی۔
شاید محبت کبھی اجازت نہیں مانگتی...
وہ بس خاموشی سے دل میں جگہ بنا لیتی ہے۔
جاری ہے... ❤️📖
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Updated 9 Episodes
Comments