دل سے دل تک

...قسط نمبر 3 : پہلا انکار...

مرحہ میری طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی... اور میں جیسے پتھر کی مورت بن چکی تھی۔

ایک لمحے کے لیے تو یوں لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ میری ساری ہمت، سارے الفاظ اور سارے خواب ایک ہی لمحے میں کہیں گم ہو گئے تھے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اچانک ایک دن میں اُس کے اتنے قریب کھڑی ہوں گی۔

میرے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے، دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ مجھے لگ رہا تھا شاید آس پاس کھڑے سب لوگ بھی اسے سن سکتے ہیں۔

میں کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر زبان میرا ساتھ ہی نہیں دے رہی تھی۔

مرحہ مسلسل میری طرف دیکھے جا رہی تھی، جیسے وہ انتظار کر رہی ہو کہ میں آخر کچھ بولوں۔

میں اتنی گھبرا گئی تھی کہ حالانکہ مجھے اُس کا نام پہلے ہی معلوم تھا، پھر بھی بےاختیار میرے منہ سے نکل گیا،

"آپی... آپ کا نام کیا ہے؟"

وہ ہلکا سا مسکرائی۔ اُس کی مسکراہٹ میں عجیب سی اپنائیت تھی۔

"مرحہ..."

اُس نے آہستہ سے اپنا نام بتایا۔

نہ جانے کیوں، اُس کی زبان سے اپنا نام سن کر میرے دل کو ایک الگ ہی سکون ملا۔ جیسے یہ نام میرے دل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لکھ دیا گیا ہو۔

میں نے گہرا سانس لیا۔ خود کو سنبھالا۔ دل کو بار بار سمجھایا کہ اگر آج بھی خاموش رہی تو شاید کبھی اُس سے بات نہ کر سکوں۔

بڑی مشکل سے ہمت جمع کی اور دھیرے سے کہا،

"آپی... کیا آپ میری فرینڈ بنیں گی؟"

یہ کہتے ہوئے میری نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ مجھے خود نہیں معلوم تھا کہ میں اُس کے جواب سے زیادہ ڈر رہی تھی یا اپنی ہی دھڑکنوں سے۔

چند لمحوں کی خاموشی میرے لیے صدیوں جیسی لگ رہی تھی۔

پھر مرحہ نے میری طرف دیکھا اور بہت سادہ لہجے میں کہا،

"میری پہلے ہی بہت ساری دوست ہیں۔"

بس... اتنا ہی۔

شاید اُس کے لیے یہ ایک عام سا جواب تھا، مگر میرے لیے ایسا لگا جیسے کسی نے خاموشی سے میرا دل توڑ دیا ہو۔

میں سمجھ گئی تھی کہ وہ مجھے نرمی سے انکار کر رہی ہے۔

میں نے زبردستی اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائی، تاکہ کوئی میرے دل کا حال نہ پڑھ سکے، پھر خاموشی سے اپنی سہیلی کے ساتھ واپس آ گئی۔

راستے بھر میری سہیلی کچھ نہ کچھ بولتی رہی، مگر مجھے اُس کی ایک بات بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔

میرا ذہن بار بار صرف ایک ہی جملہ دہرا رہا تھا...

"میری پہلے ہی بہت ساری دوست ہیں..."

یہ الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے میری آنکھوں سے آنسو ابھی بہہ پڑیں گے، مگر شروع سے ہی میری ایک عادت تھی...

میں کبھی کسی کے سامنے نہیں روتی تھی۔

اگر رونا بھی ہوتا، تو اکیلے میں روتی تھی۔

یہ وقفے کا وقت تھا۔

گراؤنڈ میں ہر طرف رونق تھی۔ کچھ لڑکیاں کھیل رہی تھیں، کچھ بینچوں پر بیٹھ کر ہنس رہی تھیں، کچھ اپنا لنچ کر رہی تھیں...

مگر میری دنیا جیسے اچانک خاموش ہو گئی تھی۔

میری سہیلی کلاس میں واپس چلی گئی، لیکن میرا دل کلاس میں جانے کا نہیں کر رہا تھا۔

میں اکیلی ہی گراؤنڈ میں آہستہ آہستہ چلتی رہی۔

مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ آخر میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔

شاید یہی وہ ڈر تھا جس کی وجہ سے میں پورا ایک سال اُس سے بات کرنے کی ہمت نہیں کر سکی تھی۔

میں سوچ رہی تھی کہ اگر پہلے ہی انکار ہونا تھا، تو پھر میں نے اتنی ہمت کیوں کی؟

دل بہت بھاری تھا... اور آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھیں، مگر میں نے خود کو سنبھال رکھا تھا۔

میں خالی ذہن لیے گراؤنڈ میں چل رہی تھی کہ اچانک ایک لڑکی میرے پاس آئی۔

وہ ہلکی سی مسکرائی اور بولی،

"آپ کو ایڈمیشن روم میں ایک لڑکی بلا رہی ہے۔"

میں چونک گئی۔

"مجھے...؟"

میں نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔

میرے ذہن میں ایک ہی سوال بار بار آ رہا تھا...

آخر مجھے کون بلا سکتا ہے؟

اور یہی سوچتے ہوئے میں آہستہ آہستہ ایڈمیشن روم کی طرف بڑھنے لگی...

...جاری ہے......

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play