بزمِ عشق
Written by Rohab Zahra
صبح صبح مہر غیر معمولی طور پر جلدی اٹھ گئی تھی۔
جیسے ہی وہ کچن میں داخل ہوئی، مسکراتے ہوئے بولی،
“Good Morning امی جان!”
اس کی امی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“ارے واہ… آج سورج کہاں سے نکلا ہے؟ ہماری بیٹی اتنی صبح صبح اٹھ گئی؟”
مہر نے ہنستے ہوئے کرسی کھینچی۔
“ایسے سمجھ لیں آج معجزہ ہو گیا ہے۔”
امی نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔
“ضرور کوئی بات ہے…”
“نہیں تو!” مہر نے فوراً نظریں چرا لیں۔
اتنے میں اس کے بابا بھی وہاں آ گئے۔
“کیا بات ہے؟ آج ہماری شہزادی بڑی خوش لگ رہی ہے۔”
مہر فوراً ان کے پاس گئی۔
“بابا… آج آپ مجھے کالج چھوڑ دیں گے؟”
“کیوں؟ تمہاری بائیک پھر خراب ہو گئی؟”
“جی…” مہر نے معصوم سا چہرہ بنایا۔
اس کے بابا ہنس پڑے۔
“چلو ٹھیک ہے، میں ویسے بھی آفس جا رہا ہوں۔ تمہیں راستے میں چھوڑ دوں گا۔”
“Thank you بابا!”
راستے بھر مہر خاموشی سے باہر دیکھتی رہی۔
مگر بار بار اس کے ذہن میں صرف ایک ہی شخص آ رہا تھا…
ارحم۔
“یا اللہ… نہ جانے آج کیا ہوگا…”
اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
کالج پہنچنے کے بعد اس کے بابا آفس چلے گئے جبکہ مہر اندر آ گئی۔
ابھی کلاس شروع ہونے میں کافی وقت تھا۔
ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
مہر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کالج کے باغیچے کی طرف آ گئی۔
وہیں ایک طرف خوبصورت پھولوں کی بیل لگی ہوئی تھی۔
اس کی نظریں چمک اٹھیں۔
“کتنے پیارے پھول ہیں…”
وہ بےاختیار ان کے قریب چلی گئی۔
پھر آہستہ سے ایک پھول توڑ لیا۔
“اگر ایک اور توڑ لوں تو کون سی قیامت آ جائے گی…”
وہ خود ہی بڑبڑائی۔
دوسری طرف ارحم دور کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔
چند لمحے وہ خاموشی سے مہر کو دیکھتا رہا۔
پھر ہلکا سا سر ہلایا۔
“یہ لڑکی سچ میں پاگل ہے…”
وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگا۔
“محترمہ…”
اچانک آواز سن کر مہر چونک گئی۔
وہ فوراً مڑی۔
سامنے ارحم کھڑا تھا۔
مہر کے ہاتھ میں موجود پھول دیکھ کر اس کی نظریں ہلکی سی تنگ ہوئیں۔
“آپ سچ میں پاگل ہیں… یا پاگل ہونے کی acting کرتی ہیں؟”
مہر نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“مطلب؟”
ارحم نے ہاتھ باندھتے ہوئے کہا،
“آپ کو پتہ نہیں کالج کے rules کے مطابق پھول توڑنا allowed نہیں ہے؟”
مہر نے فوراً ہاتھ میں موجود پھولوں کو دیکھا۔
پھر معصوم سا چہرہ بنا کر بولی،
“ہائے اللہ… مجھ سے کیسی غلطی ہو گئی۔”
پھر ڈرامائی انداز میں بولی،
“میں اتنے سال سے یہاں پڑھ رہی ہوں اور مجھے آج تک یہ نہیں پتہ چلا…”
ارحم اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔
اس کی آنکھوں میں واضح شرارت تھی۔
“ایک کام کریں…”
وہ آہستہ سے بولا،
“یہ پھول مجھے دے دیں۔”
“کیوں؟” مہر نے فوراً پھول پیچھے کر لیے۔
“اتنی مشکل سے توڑے ہیں میں نے۔”
ارحم ہنسی روکنے کی کوشش کرنے لگا۔
“آپ ہر وقت اتنی شرارت کیوں کرتی ہیں؟”
“میں شرارت نہیں کرتی!”
“اچھا؟”
ارحم اچانک اس کے قریب آیا اور اس کے ہاتھ سے پھول کھینچ لیے۔
“ارے!”
مہر فوراً اس کے پیچھے بھاگی۔
“واپس کریں میرے پھول!”
اتنے میں سامنے سے پرنسپل سر آتے دکھائی دیے۔
جیسے ہی ان کی نظر ارحم کے ہاتھوں میں موجود پھولوں پر پڑی، وہ فوراً غصے میں آ گئے۔
“Mr. Arham!”
ان کی سخت آواز سن کر مہر فوراً رک گئی۔
پرنسپل سر غصے سے ارحم کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔
“آپ کو پتہ نہیں کالج کے rules کیا ہیں؟”
ارحم خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔
“کالج میں پھول توڑنا منع ہے۔”
مہر نے فوراً نظریں نیچے کر لیں۔
دل میں عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی۔
“اب تو گئے…”
اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
مگر اگلے ہی لمحے ارحم نے سکون سے کہا،
“معذرت سر… غلطی میری تھی۔ میں ابھی نیا ہوں اس لیے مجھے کالج کے rules کا زیادہ اندازہ نہیں تھا۔ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔”
مہر نے حیرت سے فوراً ارحم کی طرف دیکھا۔
“یہ… یہ مجھے بچا کیوں رہے ہیں؟”
پرنسپل سر نے ناراضی سے کہا،
“ایک پروفیسر ہونے کے ناطے آپ کو rules کا خیال رکھنا چاہیے، Mr. Arham.”
“جی سر۔ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔”
پرنسپل سر ناگواری سے سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔
چند لمحوں تک خاموشی چھائی رہی۔
مہر حیرت سے ارحم کو دیکھ رہی تھی۔
“یہ تو آسانی سے میرا نام لے سکتے تھے…”
“پھر کیوں نہیں لیا…?”
وہ ابھی یہی سب سوچ ہی رہی تھی کہ ارحم نے اچانک اس کی طرف دیکھا۔
“کیا سوچ رہی ہو؟”
مہر فوراً چونکی۔
“ک… کچھ نہیں۔”
ارحم نے ہلکے سے بھنویں اٹھائیں۔
“یہی نا… کہ میں نے تمہیں کیوں بچایا؟”
مہر کی آنکھیں فوراً بڑی ہو گئیں۔
“آپ کو کیسے پتہ چلا؟!”
ارحم ہلکا سا مسکرایا۔
“شاید مجھے لوگوں کے دماغ پڑھنے آتے ہیں۔”
مہر فوراً ایک قدم پیچھے ہٹی۔
“کہیں آپ جادو ٹونہ تو نہیں کرتے؟”
ارحم بےاختیار ہنس پڑا۔
“ہاں شاید… اس لیے ذرا دھیان رکھنا کہیں اگلا نمبر تمہارا نہ ہو۔”
“یا اللہ!”
مہر فوراً وہاں سے بھاگ گئی جبکہ ارحم اسے جاتا دیکھ کر ہنسنے لگا۔
“سچ میں پاگل ہے یہ لڑکی…”
اس کے بعد باقی کالج کی classes شروع ہو گئیں۔
مگر مہر کا دھیان کہیں اور ہی تھا۔
بار بار اس کے ذہن میں صبح والا منظر آ رہا تھا۔
“آخر انہوں نے میرا نام کیوں نہیں لیا…؟”
وہ ابھی یہی سوچ رہی تھی کہ اچانک کلاس روم کا دروازہ کھلا۔
اور ارحم اندر داخل ہوا۔
آج بھی اس نے بلیک شرٹ پہنی ہوئی تھی۔
اور نہ جانے کیوں… آج وہ پہلے سے بھی زیادہ اچھا لگ رہا تھا۔
مگر سب سے عجیب بات یہ تھی کہ آج اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ موجود تھی۔
وہ ہمیشہ اتنا serious رہتا تھا…
پھر آج کیا ہوا تھا؟
مہر بےاختیار اسے دیکھتی رہ گئی۔
ارحم نے roll number sheet ڈیسک پر رکھی اور پوری کلاس پر نظر ڈالی۔
مگر جیسے ہی اس کی نظریں مہر پر پڑیں…
اس کے لبوں پر مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔
مہر فوراً چونک گئی۔
“یہ… یہ مسکرا کیوں رہے ہیں؟”
اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
“کہیں صبح والا واقعہ یاد کر کے تو نہیں ہنس رہے…?”
مہر نے فوراً نظریں چرا لیں۔
دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔
ادھر زویا خاموشی سے یہ سب notice کر رہی تھی۔
وہ آہستہ سے مہر کے قریب جھکی۔
“مجھے لگ رہا ہے سر کو تم بڑی interesting لگتی ہو…”
مہر نے فوراً اسے گھورا !
To be continued 🫶🏻
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Updated 4 Episodes
Comments