بزمِ عشق
بزمِ عشق
Written by Rohab Zahra 🌸
“بعض ملاقاتیں تقدیر بدل دیتی ہیں…” ✨
“مہر! اٹھ جاؤ، صبح کے آٹھ بج رہے ہیں!”
امی کی آواز سنتے ہی مہر نے کمبل سے اپنا چہرہ باہر نکالا۔
“کیا؟ آٹھ بج گئے؟!”
وہ فوراً گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔
“امی! آج پھر میں کالج کے لیے لیٹ ہو جاؤں گی!”
امی نے بے نیازی سے کہا،
“ڈرامہ بند کرو اور جلدی سے تیار ہو جاؤ۔ تم نے کون سا رات کو بتایا تھا کہ تمہیں صبح جلدی جانا ہے۔”
مہر نے منہ بنایا۔
“ہر بار غلطی میری ہی ہوتی ہے…”
وہ بڑبڑاتی ہوئی تیار ہونے چلی گئی۔
صرف دس منٹ بعد وہ جلدی جلدی تیار ہو کر باہر آئی۔
ایک ہاتھ میں بیگ تھا اور دوسرے ہاتھ میں بائیک کی چابی۔
“امی میں جا رہی ہوں، اللہ حافظ!”
“ناشتہ تو کرتی جاؤ!”
“نہیں، میں کالج کی کینٹین سے کچھ کھا لوں گی!”
یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے گھر سے نکل گئی۔
صبح کی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی۔
مہر کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
مگر اس کی یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
راستے کے بیچ اچانک اس کی بائیک بند ہو گئی۔
“یا اللہ… ابھی ہونا تھا یہ سب؟”
اس نے کئی بار بائیک اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی مگر سب بےکار۔
اسی دوران اسے دور سے ایک بلیک گاڑی آتی دکھائی دی۔
مہر نے گاڑی کو دیکھا… پھر اپنی خراب بائیک کو…
اور اگلے ہی لمحے اس کے دماغ میں ایک خطرناک خیال آیا۔
“میرے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے…”
اس نے سڑک کنارے پڑا پتھر اٹھایا اور پوری طاقت سے گاڑی کے شیشے پر دے مارا۔
“کریک!”
گاڑی فوراً رک گئی۔
شیشہ نیچے ہوا اور اندر بیٹھے شخص کی سرد نظریں مہر پر جم گئیں۔
“تم نے یہ کیا کیا ہے؟”
اس کی سنجیدہ آواز سن کر مہر نے فوراً معصوم سا چہرہ بنایا۔
“اصل میں یہاں کچھ شرارتی بچے رہتے ہیں… وہ اکثر گاڑیوں کے شیشے توڑ دیتے ہیں۔ میری بائیک بھی خراب ہو گئی ہے…”
پھر اس نے مصنوعی افسوس سے کہا،
“اگر آپ چاہیں تو ہم مل کر انہیں ڈھونڈ سکتے ہیں… لیکن پہلے پلیز مجھے کالج تک لفٹ دے دیں۔ میں بہت لیٹ ہو رہی ہوں۔”
وہ شخص چند لمحے خاموش رہا۔
پھر اس نے گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔
پورے راستے عجیب خاموشی رہی۔
مہر بار بار چوری چھپے اسے دیکھتی اور پھر نظریں چرا لیتی۔
جب گاڑی کالج کے سامنے رکی تو وہ جلدی سے باہر نکلی۔
مگر پھر جیسے اسے کچھ یاد آیا۔
وہ واپس مڑی اور ہلکی سی شرمندگی سے بولی،
“سوری سر… شیشہ میں نے خود توڑا تھا۔ بچوں والی بات جھوٹ تھی…”
اور یہ کہہ کر وہ فوراً وہاں سے بھاگ گئی۔
گاڑی میں بیٹھا شخص چند لمحے خاموش اسے جاتا دیکھتا رہا۔
پھر اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“عجیب لڑکی ہے… آندھی کی طرح آئی اور طوفان کی طرح چلی بھی گئی…” ✨
“مہر!”
کالج کے اندر داخل ہوتے ہی کسی نے آواز دی۔
مہر نے مڑ کر دیکھا تو سامنے زویا کھڑی تھی۔
“تم کہاں رہ گئی تھی؟ کب کی کلاس شروع ہونے والی ہے، جلدی کرو!”
مہر نے تھکی ہوئی سانس لی۔
“مت پوچھ… صبح سے مصیبتیں ہی مصیبتیں ہو رہی ہیں میرے ساتھ۔”
“اب کیا کر دیا تم نے؟”
“کچھ نہیں… بس ایک گاڑی کا شیشہ توڑ دیا تھا۔”
“کیااا؟!”
زویا نے حیرت سے کہا مگر مہر اسے نظر انداز کرتے ہوئے کلاس کی طرف بڑھ گئی۔
دونوں کلاس میں داخل ہوئیں تو تقریباً سب اسٹوڈنٹس آ چکے تھے۔
زویا جلدی سے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی،
“مہر، تجھے پتہ ہے؟ ہمارے پروفیسر چینج ہو گئے ہیں۔ آج ان کا پہلا دن ہے۔ ابھی پرنسپل سر بتا کر گئے ہیں۔”
“اچھا؟”
اسی لمحے کلاس روم کا دروازہ کھلا۔
اور جو شخص اندر داخل ہوا، مہر کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
“یہ…!”
وہ وہی شخص تھا… جس کی گاڑی کا شیشہ اس نے توڑا تھا۔
مہر فوراً اپنا چہرہ چھپانے لگی۔
ادھر اس شخص کی نظریں بھی سیدھا مہر پر آ کر رک گئیں۔
مہر نے آہستہ سے زویا کی طرف جھک کر کہا،
“کیونکہ… یہ وہی ہیں جن کی گاڑی کا شیشہ میں نے توڑا تھا۔”
“کیااا؟!”
زویا نے حیرت سے تقریباً چیختے ہوئے کہا۔
“آہستہ!” مہر نے فوراً اسے چپ کروایا۔
اسی لمحے وہ شخص کلاس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا۔
“Good Morning Class.”
اس کی سنجیدہ آواز پورے کلاس روم میں گونجی۔
“میرا نام ارحم ہے، اور آج سے میں آپ لوگوں کا نیا پروفیسر ہوں۔”
مہر نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔
“اب تو گئی میں…” اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
ارحم نے پوری کلاس پر ایک نظر ڈالی، پھر سکون سے بولا،
“آج ہم پڑھائی شروع نہیں کریں گے۔ پہلے ہم ایک دوسرے کا introduction لیں گے تاکہ ہم سب ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے جان سکیں۔”
کلاس میں ہلکی سی سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔
ایک ایک کر کے سب اسٹوڈنٹس اپنا تعارف کروانے لگے۔
مگر مہر کی پوری توجہ صرف ایک بات پر تھی…
“اگر انہوں نے سب کے سامنے گاڑی والی بات کر دی تو؟”
“سب میرا مذاق اڑائیں گے…”
“یا اللہ، میں نے یہ کیا کر دیا…”
“Next.”
ارحم کی آواز پر مہر چونکی۔
“م… میرا نام مہر ہے،” اس نے ہلکی گھبراہٹ سے کہا۔
ارحم کی نظریں چند لمحے اس پر ٹھہریں۔
ایسا لگا جیسے وہ جان بوجھ کر اسے uncomfortable کر رہا ہو۔
پھر اس نے ہلکے سے سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے Miss Mehr… class کے بعد ذرا مجھ سے ملیے گا۔ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔”
مہر کا دل ایک لمحے کے لیے جیسے رک گیا۔
“یہ پکا میری بےعزتی کرے گا…” اس نے گھبرا کر سوچا۔
کچھ دیر بعد introduction session ختم ہوا۔
ارحم نے اپنی فائل بند کرتے ہوئے کہا،
“ٹھیک ہے class، کل سے ہم باقاعدہ پڑھائی شروع کریں گے۔ You may leave now.”
اور یہ کہہ کر وہ کلاس سے باہر چلا گیا۔
باقی تمام کلاسز ختم ہوتے ہوتے شام ہونے لگی تھی۔
مہر کالج کے باہر کھڑی بار بار سڑک کی طرف دیکھ رہی تھی۔
اس کی بائیک اب بھی خراب تھی اور اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گھر کیسے جائے۔
اتنے میں زویا اس کے پاس آئی۔
“مہر؟ تم ابھی تک یہاں کھڑی ہو؟ گھر نہیں جانا کیا؟”
مہر نے پریشانی سے کہا،
“یار، آج میری بائیک خراب ہو گئی تھی… اور بابا بھی لینے نہیں آ سکتے۔ وہ کام سے گئے ہوئے ہیں۔”
زویا فوراً بولی،
“تو کیا ہوا؟ میں چھوڑ دیتی ہوں تمہیں۔”
“سچ؟ تمہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟”
“بالکل نہیں۔ اب چلو بھی!”
مہر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
“Thank you…”
زویا اسے گھر چھوڑ کر اپنے گھر چلی گئی۔
جیسے ہی مہر گھر میں داخل ہوئی، اس کی امی فوراً اس کے پاس آئیں۔
“کیسا رہا آج کا دن؟”
مہر نے تھکی ہوئی سانس لی اور صوفے پر بیٹھ گئی۔
“امی… بس مت پوچھیں۔ دعا کریں دوبارہ ایسا دن کبھی نہ آئے…”
امی ہنس پڑیں۔
“اتنا برا تھا کیا؟”
“آپ اندازہ بھی نہیں لگا سکتیں…”
پھر اس نے معصوم سا چہرہ بنا کر کہا،
“پلیز پہلے کچھ کھانے کو دے دیں… مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے…”
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Updated 4 Episodes
Comments