سنبل اپنی دو دوستوں کے ساتھ کالج کے لان میں کھڑی تھی۔ اس کی نظریں بار بار مہر پر جا کر رک جاتی تھیں، جو زویا کے ساتھ کھڑی ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی۔
سنبل نے بھنویں سکیڑتے ہوئے اپنی ایک دوست سے پوچھا،
"آخر یہ لڑکی ہے کون؟ جس کی اتنی ہمت ہوئی کہ پورے کالج کے سامنے مجھے باتیں سنائیں؟"
اس کی دوست نے مہر کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا،
"اس کا نام مہر ہے۔ ہمارے شعبے کی سب سے ذہین طالبہ ہے۔ ہر امتحان میں پہلی پوزیشن لیتی ہے، اسی لیے سب اسے جانتے ہیں۔"
سنبل نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
"اچھا... تو یہ ہے مہر۔"
اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ابھر آئی۔
"چلو... آج دیکھتے ہیں یہ کتنی خاص ہے۔"
یہ کہہ کر وہ آہستہ آہستہ ارحم کی طرف بڑھ گئی۔
ارحم کچھ فائلیں دیکھ رہا تھا کہ اچانک سنبل اس کے سامنے آ کر کھڑی ہوگئی۔
"ارحم بھائی!"
ارحم نے سر اٹھایا اور مسکرا دیا۔
"ارے سنبل! تم کب آئیں؟"
سنبل نے مصنوعی ناراضی سے منہ بنایا۔
"یہ تو آپ نے پوچھا ہی نہیں کہ میں اتنے دن کہاں تھی۔ مجھے ہی آ کر آپ کا حال پوچھنا پڑا۔"
ارحم ہلکا سا مسکرایا۔
"معاف کرنا، واقعی مصروفیت بہت تھی۔ اچھا یہ بتاؤ، لندن میں تمہاری پڑھائی کیسی رہی؟ اور چھٹیاں کیسی گزریں؟"
سنبل نے کندھے اچکائے۔
"سب ٹھیک تھا بھائی، لیکن آپ نے کبھی اپنی بہن کا حال پوچھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔"
ارحم نے مسکراتے ہوئے کہا،
"اچھا، اب شکایت ختم؟"
سنبل بھی ہنس دی۔
"چلیں... اس بار معاف کیا۔"
دور کھڑی زویا نے یہ منظر دیکھا تو فوراً مہر کو کہنی ماری۔
"وہ دیکھ... وہ لڑکی ارحم سر سے کتنے آرام سے باتیں کر رہی ہے۔"
مہر نے چونک کر ادھر دیکھا۔
اسی وقت ارحم نے مسکراتے ہوئے کہا،
"معاف کرنا، میری بہن۔"
زویا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
"یہ... یہ ارحم سر کی بہن ہے؟"
مہر نے بھی حیرانی سے سنبل کی طرف دیکھا۔
زویا نے آہستہ سے کہا،
"یقین نہیں آ رہا۔ ارحم سر اتنے نرم مزاج... اور ان کی بہن اتنی مغرور!"
مہر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
"ہر انسان کی طبیعت ایک جیسی نہیں ہوتی، زویا۔"
اسی دوران کالج کی گھنٹی بجی اور تمام طلبہ اپنی اپنی کلاسوں کی طرف بڑھنے لگے۔
مہر اور زویا بھی ہنستے مسکراتے اپنی کلاس میں پہنچ گئیں۔
چند لمحوں بعد ارحم کلاس میں داخل ہوا۔
"السلام علیکم!"
"وعلیکم السلام سر!"
پورا کلاس روم ایک دم خاموش ہوگیا۔
مہر کی نظر جیسے ہی ارحم پر پڑی، اسے رات کو امی کی کہی ہوئی بات یاد آ گئی۔
"اگر کوئی شخص بار بار تمہاری طرف دیکھے یا مسکرا دے، تو ضروری نہیں کہ وہ تمہارے لیے کچھ محسوس کرتا ہو۔ بعض لوگ صرف اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے بھی ایسا کرتے ہیں۔"
مہر نے دل ہی دل میں خود کو سمجھایا۔
"امی بالکل ٹھیک کہتی ہیں... میں ہی فضول میں زویا کی باتوں پر یقین کرنے لگی تھی۔ اب صرف پڑھائی پر دھیان دینا ہے۔ بابا کا خواب پورا کرنا ہے اور اچھے نمبر لینے ہیں۔"
اس نے اپنی پوری توجہ لیکچر کی طرف کر لی۔
ارحم ہمیشہ کی طرح نہایت آسان انداز میں سبق سمجھاتا رہا۔ درمیان درمیان میں طلبہ سے سوال پوچھتا، اور سب اپنے اپنے جواب دیتے رہے۔
پتا ہی نہ چلا کہ لیکچر کب ختم ہونے کو آ گیا۔
ارحم نے اپنی فائل بند کرتے ہوئے کہا،
"کل ہماری کلاس کا ایک مختصر امتحان ہوگا، اس لیے سب اچھی طرح تیاری کر کے آئیے گا۔"
یہ سنتے ہی پوری کلاس میں سرگوشیاں شروع ہوگئیں۔
کسی نے سر پکڑ لیا، تو کوئی پریشانی سے اپنے نوٹس دیکھنے لگا۔
ارحم ہلکا سا مسکرایا۔
"پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ امتحان صرف آج کے سبق میں سے ہوگا۔ اگر کسی کو کچھ سمجھ نہ آیا ہو تو آج ہی مجھ سے پوچھ لیجیے گا۔"
وہ دروازے کی طرف بڑھا، پھر اچانک رکا۔
"مس زویا!"
"جی سر!"
"خاص طور پر آپ... اگر کوئی سوال سمجھ نہ آیا ہو تو آج ہی پوچھ لیجیے گا۔ کل امتحان میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔"
"جی سر۔"
پھر اس نے مہر کی طرف دیکھا۔
"مس مہر، اگر آپ کو بھی کسی سوال میں دشواری ہو تو آپ بھی بلا جھجک مجھ سے پوچھ سکتی ہیں۔"
"جی سر، شکریہ۔"
ارحم مسکرا کر کلاس سے باہر چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی زویا نے فوراً مہر کو کہنی ماری۔
"دیکھا! میں نہ کہتی تھی؟"
مہر نے بھی ہلکی سی کہنی مارتے ہوئے کہا،
"خاموش رہو، ہر وقت فضول باتیں کرتی رہتی ہو۔"
زویا ہنسنے لگی۔
"اچھا بابا، نہیں چھیڑتی۔"
مہر نے بیگ اٹھاتے ہوئے کہا،
"چلو گھر چلتے ہیں، امتحان کی تیاری بھی کرنی ہے۔"
زویا نے فوراً منہ بنایا۔
"گھر تو بعد میں جائیں گے... پہلے کینٹین! مجھے بہت زور کی بھوک لگی ہے۔"
مہر بے اختیار ہنس پڑی۔
"تمہیں ہر وقت بس کھانے کی فکر رہتی ہے۔"
دونوں ہنستے ہوئے کینٹین کی طرف بڑھ گئیں...
مہر اور زویا ہنستے ہوئے کینٹین کی طرف بڑھ گئیں۔
کینٹین میں داخل ہوتے ہی دونوں کے قدم بے اختیار سست پڑ گئے۔
پورا ہال طلبہ سے بھرا ہوا تھا۔ کوئی اپنے دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق میں مصروف تھا، کوئی اگلے دن ہونے والے امتحان کی تیاری کر رہا تھا، تو کوئی چائے اور سموسوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ تازہ کھانوں کی خوشبو پورے ماحول میں پھیلی ہوئی تھی، جس سے بھوک اور بھی بڑھ گئی۔
زویا نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا،
"اوہ... کیا زبردست خوشبو آ رہی ہے! آج تو مزہ آ جائے گا۔"
مہر ہنس دی۔
"پہلے دیکھ تو لو، کہیں تمہاری پسند کی چیز ختم نہ ہو گئی ہو۔"
دونوں ہنستے ہوئے کاؤنٹر تک پہنچیں۔
زویا نے مسکراتے ہوئے کہا،
"بھائی، دو پلیٹ چکن بریانی دے دیجیے۔"
کاؤنٹر پر کھڑے لڑکے نے معذرت خواہ لہجے میں جواب دیا،
"معاف کیجیے میم، آپ تھوڑی دیر سے آئیں۔ صرف ایک پلیٹ باقی رہ گئی ہے۔"
زویا نے مہر کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر بولی،
"کوئی بات نہیں بھائی، ایک ہی پلیٹ دے دیجیے۔ ہم دونوں بانٹ لیں گے۔"
جیسے ہی کاؤنٹر والا پلیٹ اٹھانے لگا، پیچھے سے ایک پُراعتماد آواز سنائی دی۔
"وہ پلیٹ مجھے دے دیجیے۔"
سب نے مڑ کر دیکھا۔
سنبل اپنی دو دوستوں کے ساتھ وہاں آ کر کھڑی ہو چکی تھی۔
اس نے پرس سے پیسے نکال کر کاؤنٹر پر رکھتے ہوئے کہا،
"یہ پلیٹ مجھے چاہیے۔"
کاؤنٹر والا ایک لمحے کے لیے الجھ گیا۔
"میم... لیکن ان دونوں نے پہلے آرڈر دیا تھا۔"
سنبل نے بے نیازی سے جواب دیا،
"میں نے کہا نا... پلیٹ مجھے دے دو۔"
کاؤنٹر والا خاموش کھڑا رہ گیا۔
زویا نے ناگواری سے کہا،
"یہ کیسی بات ہوئی؟ پہلے آرڈر تو ہم نے دیا تھا۔"
سنبل نے زویا کی طرف دیکھا اور ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولی،
"ہر چیز پہلے آنے والے کو نہیں ملتی۔"
زویا کو اس کی بات بری لگی۔
"مگر حق تو اسی کا ہوتا ہے جو پہلے آئے۔"
سنبل نے کندھے اچکائے۔
"یہ تمہاری سوچ ہے۔"
فضا میں تناؤ بڑھنے لگا۔
مہر نے فوراً زویا کے بازو پر ہاتھ رکھا۔
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Updated 4 Episodes
Comments