نئ دشمنی کی شروعات

زویا شرارتی انداز میں مسکرائی اور آہستہ سے مہر کے کان میں بولی،

"ویسے... مجھے اب بھی لگتا ہے کہ ارحم سر تم میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔"

مہر نے فوراً اسے کہنی ماری۔

"چپ کرو! فضول باتیں بند کرو، ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔"

زویا اپنی ہنسی نہ روک سکی۔

"اچھا بابا... نہیں کہتی۔"

دونوں اپنی باتوں میں اس قدر مگن تھیں کہ انہیں احساس ہی نہ ہوا کب ارحم ان کے قریب آ چکا تھا۔

ارحم نے ہاتھ میں پکڑی فائل بند کی اور سنجیدہ لہجے میں کہا،

"مس زویا... اور مس مہر!"

دونوں چونک کر سیدھی کھڑی ہو گئیں۔

"جی سر!"

ارحم نے دونوں کو دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا،

"آپ دونوں کا دھیان آخر ہے کہاں؟ کلاس ختم ہوئے کافی دیر ہو چکی ہے، آدھا کالج خالی ہو چکا ہے اور آپ دونوں اب بھی اپنی باتوں میں مصروف ہیں۔ امید ہے جتنا دھیان ایک دوسرے کی باتوں پر ہے، اتنا ہی دھیان پڑھائی پر بھی ہوگا۔"

دونوں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

"معاف کیجیے سر، آئندہ خیال رکھیں گے۔"

ارحم نے اثبات میں سر ہلایا، فائل دوبارہ ہاتھ میں لی اور وہاں سے چلا گیا۔

اس کے جاتے ہی زویا نے مہر کو معنی خیز نظروں سے دیکھا۔

"دیکھا؟ میں نہ کہتی تھی، سر تمہیں ہی نوٹس کرتے ہیں۔"

مہر نے مصنوعی غصے سے اسے گھورا۔

"تم واقعی پاگل ہو۔ ہر بات کا مطلب نکالنا ضروری نہیں ہوتا۔"

زویا ہنسنے لگی۔

"اچھا بابا، نہیں چھیڑتی۔"

دونوں ہنستے ہوئے کالج سے باہر نکل گئیں۔

---

شام ہوتے ہی مہر گھر پہنچ گئی۔

دروازہ کھولتے ہی اس کی امی نے محسوس کیا کہ آج وہ کچھ خاموش ہے۔

"کیا بات ہے مہر؟ آج کچھ پریشان لگ رہی ہو۔ کالج میں سب خیریت تو ہے؟"

مہر نے ہلکی سی مسکراہٹ بنائی۔

"جی امی، سب ٹھیک ہے۔ بس آج تھوڑا زیادہ تھک گئی ہوں۔"

امی نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

"اگر کوئی بات ہے تو مجھے ضرور بتانا، بیٹا۔"

مہر چند لمحے خاموش رہی، پھر ہچکچاتے ہوئے بولی،

"امی... ایک بات پوچھوں؟"

"ہاں بیٹا، پوچھو۔"

"اگر... فرض کریں ہم کسی ایسے شخص کو اچھی طرح نہ جانتے ہوں، لیکن وہ بار بار ہماری طرف دیکھے... اور جب بھی دیکھے تو ہلکا سا مسکرا دے... تو کیا اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ ہمارے لیے کچھ محسوس کرتا ہے؟"

امی ہلکا سا مسکرائیں۔

"نہیں بیٹا، ضروری نہیں۔ ہر مسکراہٹ محبت کی نشانی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان کسی کی معصوم حرکت پر مسکرا دیتا ہے، کبھی کسی کی کوئی بات اچھی لگ جائے تو بھی مسکرا دیتا ہے، اور کئی بار یہ صرف ایک اتفاق ہوتا ہے۔ صرف کسی کے بار بار دیکھنے یا مسکرانے سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ تمہارے لیے کچھ محسوس کرتا ہے۔"

مہر نے اطمینان کا سانس لیا۔

"اچھا... تو میں ہی فضول میں سوچ رہی تھی۔"

امی مسکرا دیں۔

"بالکل، ہر بات کو دل پر نہیں لیا کرتے۔"

مہر بھی ہلکا سا مسکرا دی۔

"شکریہ امی۔"

یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔

بستر پر لیٹتے ہی اس نے خود سے کہا،

"سچ کہتی ہیں امی... زویا تو ہر بات میں کہانی بنا لیتی ہے، اور میں بھی اس کی باتوں میں آ گئی تھی۔ شاید واقعی یہ سب صرف اتفاق تھا۔"

یہ سوچتے سوچتے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔

---

اگلی صبح...

مہر کی آنکھ کھلی تو گھڑی دیکھ کر گھبرا گئی۔

"یا اللہ! آج تو واقعی دیر ہو گئی!"

وہ جلدی جلدی تیار ہوئی، ناشتہ کیا اور کالج روانہ ہو گئی۔

کالج کے گیٹ پر زویا پہلے ہی اس کا انتظار کر رہی تھی۔

"آخرکار شہزادی تشریف لے ہی آئیں!"

مہر ہنس پڑی۔

"بس بھی کرو، آج واقعی دیر ہو گئی تھی۔"

دونوں باتیں کرتے ہوئے کالج کے اندر داخل ہوئیں۔

ابھی پہلی کلاس شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا، اس لیے دونوں آہستہ آہستہ چل رہی تھیں۔

اچانک کالج کے مرکزی دروازے کے سامنے ایک چمچماتی ہوئی سیاہ رنگ کی لگژری گاڑی آ کر رکی۔

گاڑی رکتے ہی کئی طلبہ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے۔

"ارے... سنبل آ گئی!"

"آخر ویکیشن ختم ہوئی، میڈم واپس آ ہی گئیں!"

ڈرائیور نے احترام سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔

اونچی ایڑیوں کی ٹک ٹک کے ساتھ سنبل گاڑی سے نیچے اتری۔

مہنگے برانڈ کا لباس، کندھے پر قیمتی برانڈڈ بیگ، پاؤں میں برانڈڈ جوتے، آنکھوں پر سیاہ چشمہ اور ہاتھ میں جدید موبائل...

اس کے چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا، جیسے اسے یقین ہو کہ ہر نظر صرف اسی پر ٹھہرے گی۔

وہ موبائل کان سے لگائے کسی سے بات کر رہی تھی۔

"ہاں... رات کے کھانے میں میری پسند کی تمام ڈشیں ہونی چاہئیں۔ اور میری ہر چیز وقت سے پہلے تیار ہونی چاہیے، کیونکہ مجھے انتظار کرنا بالکل پسند نہیں۔"

یہ کہتے ہوئے وہ بے پروائی سے آگے بڑھتی رہی...

اسی لمحے سامنے سے زویا اپنی کتابیں سنبھالے آ رہی تھی...

دھڑام!

سنبل کا مہنگا موبائل زمین پر جا گرا جبکہ زویا کی تمام کتابیں فرش پر بکھر گئیں..

سنبل نے فوراً اپنا موبائل اٹھایا اور غصے سے زویا کو گھورا۔

"تمہیں آنکھیں کھول کر چلنا نہیں آتا؟ دیکھو، تم نے میرے موبائل کا کیا حال کر دیا!"

زویا نے بھی اپنی کتابیں سمیٹتے ہوئے جواب دیا،

"یہی سوال میں بھی تم سے کر سکتی ہوں۔ تم موبائل پر بات کر رہی تھیں، اگر سامنے دیکھ کر چلتی تو یہ سب نہ ہوتا۔"

سنبل نے طنزیہ انداز میں ہنکارا بھرا۔

"اوہ! تو اب غلطی میری ہے؟"

"میں نے ایسا نہیں کہا، لیکن غلطی صرف میری بھی نہیں ہے۔"

دونوں کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔

آس پاس موجود طلبہ بھی رک کر دیکھنے لگے۔

اسی دوران مہر آگے بڑھی۔

"ایک منٹ..."

دونوں اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔

مہر نے نہایت سکون سے کہا،

"میرے خیال میں غلطی آپ دونوں کی ہے۔ آپ موبائل پر بات کر رہی تھیں، اور زویا بھی اپنی باتوں میں مصروف تھی۔ اگر آپ دونوں ذرا سا دھیان سے چلتیं تو یہ واقعہ پیش ہی نہ آتا۔"

سنبل نے تیز نظروں سے مہر کو دیکھا۔

"تم کون ہوتی ہو ہمارے درمیان بولنے والی؟"

مہر نے پُرسکون لہجے میں جواب دیا،

"میں صرف حق کی بات کر رہی ہوں۔"

"مجھے تمہارے حق کی کوئی ضرورت نہیں!"

اسی لمحے شور سن کر ایک پروفیسر وہاں آ گئے۔

انہوں نے سخت آواز میں پوچھا،

"یہاں کیا ہو رہا ہے؟ اتنا ہجوم کیوں لگا ہوا ہے؟"

ایک طالب علم آگے بڑھا۔

"سر، ان دونوں کی آپس میں ٹکر ہو گئی تھی، پھر بات بڑھ گئی۔"

پروفیسر نے زویا، سنبل اور مہر کی بات سنی، پھر سنجیدگی سے بولے،

"یہ کالج ہے، تماشہ لگانے کی جگہ نہیں۔ میں نے جو سنا ہے اس کے مطابق دونوں کا دھیان اپنی اپنی طرف نہیں تھا، اس لیے آئندہ احتیاط کرنا۔ اب سب اپنی اپنی کلاسوں میں جائیں۔"

پورے کالج کے سامنے ڈانٹ سن کر سنبل کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

اسے اپنی ڈانٹ سے زیادہ یہ بات چبھ رہی تھی کہ مہر کی ایک بات نے سب کا رخ بدل دیا۔

وہ جانے لگی، مگر ایک لمحے کے لیے رکی۔

اس نے پلٹ کر مہر کی طرف دیکھا۔

اس کی نظریں خاموش تھیں... مگر ان میں عجیب سی نفرت اور چیلنج صاف دکھائی دے رہا تھا۔

پھر وہ بغیر کچھ کہے سیدھی پرنسپل کے آفس کی طرف بڑھ گئی۔

---

"ڈیڈ!"

سنبل نے غصے سے آفس کا دروازہ کھولا۔

پرنسپل نے چونک کر اسے دیکھا۔

"ارے، سنبل! بیٹا، اتنے دنوں بعد کالج آئی ہو، اور اتنی غصے میں کیوں ہو؟ کیا ہوا؟"

سنبل نے ناراضی سے کہا،

"ڈیڈ! میں اتنے دنوں بعد کالج آئی ہوں، اور آتے ہی آپ کے اسٹاف نے سب کے سامنے میری بے عزتی کر دی۔ ایک عام سی لڑکی میری مخالفت کر رہی تھی، اور سر نے بھی مجھے سب کے سامنے ڈانٹ دیا!"

پرنسپل نے فوراً متعلقہ پروفیسر کو بلوا لیا۔

چند لمحوں بعد پروفیسر آفس میں داخل ہوئے۔

"السلام علیکم، سر۔"

"وعلیکم السلام۔ بتائیے، کیا معاملہ تھا؟"

پروفیسر نے ادب سے جواب دیا،

"سر، مجھے معلوم نہیں تھا کہ سنبل آپ کی بیٹی ہیں۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے بچوں سے پوری بات سنی۔ حالات کو دیکھتے ہوئے میں نے صرف سنبل کو نہیں بلکہ زویا کو بھی سمجھایا تھا۔ میری نظر میں اس وقت دونوں کی غلطی تھی، اس لیے میں نے دونوں کو ہی ڈانٹا۔"

پرنسپل نے سر ہلاتے ہوئے کہا،

"ٹھیک ہے، آئندہ ذرا زیادہ احتیاط کیا کریں۔"

"جی سر۔"

پروفیسر اجازت لے کر باہر چلے گئے۔

پرنسپل نے سنبل کی طرف دیکھ کر لہجہ نرم کیا۔

"بیٹا، کافی پیو گی؟"

سنبل نے بے دلی سے سر ہلایا۔

"نہیں ڈیڈ، میرا دل نہیں ہے۔"

"اچھا، پھر تھوڑا آرام کر لو۔ اگر طبیعت ٹھیک نہ لگے تو آج گھر چلی جاؤ، کل سے باقاعدہ کالج آ جانا۔"

"ٹھیک ہے ڈیڈ۔ ابھی میں اپنی دوستوں کے پاس جا رہی ہوں، بعد میں آ کر آپ سے بات کرتی ہوں۔"

"ٹھیک ہے بیٹا، اپنا خیال رکھنا۔"

سنبل آفس سے باہر نکلی۔

لان میں اس کی نظر دوبارہ مہر پر پڑی، جو زویا کے ساتھ مسکراتے ہوئے کلاس کی طرف جا رہی تھی۔

سنبل کے ہونٹوں پر ہلکی سی معنی خیز مسکراہٹ آئی۔

اس نے دل ہی دل میں کہا،

"کوئی بات نہیں، مہر... آج ہماری پہلی ملاقات تھی۔ لیکن اگلی ملاقات میں حساب ضرور برابر ہوگا۔"

یہ سوچ کر وہ اپنی دوستوں کی طرف بڑھ گئی، جبکہ مہر اس نئی دشمنی سے بالکل بے خبر تھی۔

To be continued 🫶🏻

Hot

Comments

Danish Ijaz

Danish Ijaz

🫠❤️

2026-07-07

2

See all
Episodes

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play