اُداس پرنسز

ڈنر کا ٹائم ہو گیا تھا.

ا المیرا کچن میں سائرہ بیگم کے ساتھ ہیلپ کروا رہی ہوتی ہے, حورین کالج کا کام کر رہی ہوتی ہے ,اور زین موبائل پر گیمز کھیلنے پر مصروف ہوتا ہے حیدر صاحب گھر کے اندر داخل ہوتے ہیں سب کو سلام کرتے ہیں, اور ٹیبل پر ڈنر کے لیے انے کو کہتے ہیں .

المیرا جاؤ جا کر عزل کو بلا لاو. پتہ نہیں کمرے میں کیا کر رہی ہے .سائرہ بیگم اس کے ہاتھ سے پلیٹ لے کر ٹیبل پر رکھتی ہوئی کہتی ہیں.

اج معمول کے مطابق کھانے کے وقت خاموشی تھی. ایزل منہ بنائے کھانا کھانے میں مصروف تھی. جبکہ زین وقفے وقفے میں اسے تنگ کرنے کی کوشش کرت,ا لیکن وہ اس کے بدلے میں کوئی رد عمل کا اظہار نہیں کر رہی تھی.

. بھئی !اج خیر تو ہے ہماری پرنسز اج خاموش خاموش بیٹھی ہوئی ہیں. حیدر صاحب نے ٹیبل پر چھائی خاموشی کو توڑا, لیکن ایزل نے تب بھی کوئی جواب نہ دیا.

بابا اپ شکر نہیں ادا کر رہے کہ یہ افت اج خاموش اور سکون سے بیٹھی ہوئی ہے, یہ دن دیکھنے کے لیے میں ترس کر رہ گیا تھا .میں اج سونے سے پہلے دو شکرانے کے نفل پڑھ کر سوؤگا. زین ,ازل کے سامنے پڑا ہوا پانی کا گلاس اٹھا کر کہتا ہے.

ایزل وہی کھانا چھوڑ کر اٹھ کے جانے والی ہی ہوتی ہے کہ حیدر صاحب اٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگاتے صوفے پر بیٹھ جاتے ہیں .

جی اب میری پرنسز مجھے بتائیں گی کہ کیا ہوا ہے. حیدر صاحب اسے اپنے ساتھ لگائے پیار سے پوچھتے ہیں.

بابا مجھے اپ کی بیوی بالکل بھی نہیں پسند, ہر وقت مجھے ڈانٹتی رہتی ہے. اور اس لنگور ازمیر کے سامنے مجھے بے عزت کرتی رہتی ہیں .مجھے میری نیو ماما چاہیے. وہ چھوٹے بچوں کی طرح حیدر صاحب کے سینے سے لکی شکایت لگاتی ہے .

زین المیرا اور حورین بھی ڈنر کے بعد ان کے پاس ا کر بیٹھ جاتے ہیں .

بابا ائیڈیا برا تو نہیں ہے مجھے بھی اپ کی یہ والی بیوی سے بہت اعتراضات ہیں. اب اپ کے ہونے والی دوسری بیوی میں اور ایزل مل کر ڈھونڈیں گے زین عزل کی بات سن کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہتا ہے.

تم دونوں کچھ شرم کر لو, ماما نے سن لیا تو دونوں کی وہ کلاس لگنی ہے کہ پوری زندگی یاد رکھو گے .المیرا نے ان دونوں کو شرم دلانے کی کوشش کی .

ازل کی نظر زین کے پاس بیٹھی حورین پر پڑی جو کہ چھپ چھپ کر چاکلیٹ کھانے کا شوگل فرما رہی تھی .ایزل نے زین کو انکھوں ہی انکھوں میں حور سے چاکلیٹ کھینچنے کا اشارہ کیا. زین اس کے اشارے کو سمجھتے ہوئے حوریں کی طرف مڑا, جو کہ کمال مہارت سے چھپ کر چاکلیٹ کا بائٹ لینے لگی, تو اس کی نظر زین پر پڑی جس کا پورا دھیان چاکلیٹ پر ہی تھا ,اس نے سوچنے کا موقع دیے بغیر حور کے ہاتھ سے چاکلیٹ کھینچ کر ایزل کی طرف پھینکی جو کہ ہو پیچھے سے اتی سائرہ بیگم کی سر پر لگی .

حور جو کہ تکیہ اٹھا کر زین کو مارنے والی تھی اپنی ماں کو غصے میں دیکھ کر وہیں تکیہ رکھ دی.

ا یہ کس نے چاکلیٹ پھینکی ہے. وہ غصے سے چاکلیٹ کو نیچے سے اٹھاتے ہوئے کہتی ان کے سر پر ان پہنچی .

مما زین نے پھینکی ہے .میں ارام سے کھا رہی تھی تو اس نے کھینچ کر اپ کی طرف پھینک دی. حور نے موقع دیکھتے ہی جھٹ سے منہ کھولا .

ماما مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا کہ حور چاکلیٹ کھا رہی ہے وہ تو عزل نے مجھے ایسا کرنے کے لیے کہا تھا اب میں نے سوچا کہ بیچاری اگے ہی ازمیر کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہوئی ہوئی ہے تو میں تھوڑا سا اسے خوش کر دوں.

ہاں تم نے تو یہاں ہر کسی کو خوش کرنے کا ٹھیکہ اٹھا کر رکھا ہوا ہے. مجھے سمجھ نہیں اتی کہ تم لوگ بڑے کب ہوں گے تم دونوں پورا ایک گھنٹہ وہاں ایک پاؤں پر کھڑے رہو گے .یہ تم دونوں کی سزا ہے. سائرہ بیگم دونوں کو غصے سے گھورتی ہوئی بولی.

ان دونوں نے مسکینوں کی طرح شکل بنائے حیدر صاحب کو دیکھا.

کیا ہو گیا ہے سائیره! بچے ہیں ,غلطی سے اگر پھینک بھی دی ہے تو جانے دو. حیدر صاحب نے ان کی طرف داری کرنے کی کوشش کی.

حیدر اگر اپ نے ان کی طرف داری کرنے کی مزید کوشش کی تو پھر میرے سے برا کوئی نہیں ہو گا . سائرہ بیگم نے انگلی اٹھا کر انہیں وارن کرتے ہوئے کہا .

اپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں. حیدر صاحب منہ میں بڑڑاتے ہوئے بولے .

کچھ کہا اپ نے؟؟؟؟ سائرہ بیگم جو کہ جانے کے لیے مڑی ہی تھی حیدر صاحب کی بڑبڑاہٹ پر انہیں غصے سے گھور کر کہا ,

حیدر نے گڑبڑا کر نفی میں سر ہلایا تو وہ زین اور عزل کو لے کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی.

اب حال یہ تھا کہ ازل اور زین ان کے سامنے ایک پاؤں پر کھڑے تھے اور وہ ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی. وہ تھوڑا سا بھی اگر پاؤں نیچے کرتے تو وہ دوبارہ ان کی طرف متوجہ ہو جاتی.

Hot

Comments

Noor Ch

Noor Ch

amazing epi🦋🫶i luv it👍❤️

2026-07-18

1

See all

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play