ہنگاموں سے بڑی ایک صبح

ازی! یار اٹھو کالج سے دیر ہو رہی ہے, اوپر سے اٹھ بج گئے ہیں .تمہیں ناشتہ کرتے ہوئے بھی ادھا گھنٹہ لگ جائے گا, اب اٹھ بھی جاؤ !!!. آیت ازمیر کا کمبل اتارتے اسے کب سے اٹھانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے .

آیت کی بچی, کیا مسئلہ ہے ؟؟ سونے دو مجھے اب تمہاری اواز نہ ائے. ازمیر کمبل اوپر کرتے ہوئے کہتا ہے .

ایت کو ازمیر کی اس حرکت پر غصہ اتا ہے اور وہ پاس پڑے ٹیبل پر پانی کے جگ میں سے پانی اس کے اوپر گڑاتی ہے. وہ ایک دم ہڑبڑا کر بیٹھتا ہے .

ہاؤ ڈیر یو؟؟؟ 😡. از میر غصے میں کہتا اسے مارنے کے لیے بیڈ سے نیچے اترتا ہے تو اس کا پاؤں نیچے گرے پانی کی وجہ سے پھسلتا ہے, تو وہ ایک دم زور سے نیچے گرتا ہے .اور اس کی کمر بیڈ کی نوک پر لگتی ہے تو وہ ایک دم درد کی شدت سے چیخ.

ا آیت جو کہ ابھی ازمیر سے بچنے کے لیے باگھی ہی تھی کہ ازمیر کی چیخ پر واپس پلٹی تو اسے اس حالت میں دیکھ کر زور سے قہقہے لگانے لگی.

ازمیر نے پاس پڑی جوتی اٹھا کر ایت کی طرف پھینکی. لیکن خوش قسمتی سے وہ نشانے پر نہ لگ سکی, اور آیت تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی نیچے چلی گئی .

یہ ایک چھوٹی سی فیملی تھی جس میں ہاشم صاحب اپنی بیوی ہاجرہ بیگم اور اپنے بچوں کے ساتھ رہتے تھے. ان کا بڑا بیٹا ازمیر جو کہ ماں کا لاڈلا تھا. اور چھوٹی بیٹی آیت جو کہ باپ کی لاڈلی تھی یہ. ایک مکمل خوبصورت گھرانا تھا .

ازمیر پورے ساڑھے اٹھ بجے تیار ہو کر نیچے اتا ہے.

ٹوکری سے سیب اٹھا کر ایت کے بال کھینچتے اسے گاڑی میں انے کا کہتا ہے.

ازمیر بیٹا ناشتہ تو کرتے جاؤ. ہاجرہ بیگم ازمیر کو اواز دیتی ہیں.

نہیں ماما میں کالج میں ہی کچھ لے کر کھا لوں گا, اگے ہی اس چڑیل کی وجہ سے کالج سے دیر ہو گئی ہے. از میر ماں کی پیشانی چومتے ہوئے کہتا ہے.

میری وجہ سے دیر ہوئی ہے کھوتے گھوڑے بیچ کر اپ سو رہے تھے, اور اب کہہ رہے ہیں کہ میں نے دیر کروائی ہے. اور کتنی دفعہ میں نے کہا ہے کہ میرے بال مت کھینچا کریں. ایت غصہ میں کہتی باہر کی جانب چلی گئی, اور پیچھے سے ازمیر بھی باہر نکل جاتا ہے.

...*****************************...

...****************************...

...********************************...

ایزل ارام سے بیٹھی دلچسپی سے سر کا لیکچر سن رہی تھی کہ اس کی نظر دروازے پر کھڑی ایت پر پڑی جو کہ چھپ کے اندر انے کی پوری کوشش کر رہی ہوتی ہے .

جی ایت, روزانہ کی طرح اج بھی اپ کی گاڑی خراب ہو گئی ہوگی؟؟ راستے میں ایکسیڈنٹ ہوتے ہوئے بچا ہوگا ؟؟ یا پھر گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا ہوگا ؟؟؟ سر فرہان نے چپکے سے اندر داخل ہوتی ہوئی ایت کی طرف متوجہ ہو کر کہ.

ا یہ کھڑوس سر کبھی کوئی چیز بھولتا بھی ہے!!!. وہ بڑڑائی .

اپ نے کچھ کہا ؟؟ .سر فرحان نے ایت کو بڑبڑاتے ہوئے دیکھ کر کہا .

نہیں سر وہ اصل میں راستے میں ایک ضعیف ادمی مل گیا تھ,ا اس بیچارے سے چلنے میں مشکل ہو رہی تھی تو ہم نے اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر اس کو اس کے گھر چھوڑ دیا. ایت معصومیت سے منہ بناتے ہوئے بولی.

واہ آیت لگتا ہے ,ساری خدمتیں حلق کرنے کا ٹھیکہ اپ نے ہی اٹھا رکھا ہے . ہم نے تو اپ سے زیادہ خدمتیں خلق کرنے والا اج تک دیکھا ہی نہیں ہے اپ کو تو سپیشل داد دینی چاہیے. سر فرحان نے باقی سٹوڈنٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا.

پوری کلاس میں دبی دبی ہنسی کی اواز گونجتی ہے.

سر فرحان غصے میں پوری کلاس کو خاموش رہنے کا کہتے . اور ایت کو کلاس سے نکلنے کا کہہ کر نصیحت کرتے کہ اگلی بار اگر ہو سکے تو اس سے اچھا بہانہ ڈھونڈ کر لائیے گا.

ایت منہ بناتی ہوئی کلاس سے باہر نکل گئی اس کی نظر تھوڑے فاصلے پر کھڑے ازمیر پر پڑی. وہ بھی لیٹ انے کی وجہ سے کلاس سے باہر کھڑا تھا .دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر غصے سے منہ موڑ لی.

ا یہ پورا گروپ اب کینٹین میں بیٹھا تھا. زین اور روحان کینٹین سے کچھ کھانے کے لیے لینے گئے تھے . آیت منہ بنا کر سرفرہان کی نکلے اتار کر انہیں بتا رہی تھی . ایزل احمد اور ماہین اس کے عجیب و غریب منہ بنانے پر قہقہے لگا رہے تھے.

Hot

Comments

Noor Ch

Noor Ch

day by day it's become more interesting 😭❤️🤌💐

2026-07-20

1

See all

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play