ایک انجان خبر کا پتہ چلنا

جی، سمجھ گیا۔ 👍

میں اپنی طرف سے کہانی، ڈائیلاگ یا الفاظ نہیں بدلوں گا۔ میں صرف NovelToon کے فارمیٹ کے مطابق لکھوں گا:

✅ آپ کے الفاظ وہی رہیں گے (Word by Word)۔

✅ صرف املا (Spelling) کی معمولی غلطیاں درست ہوں گی۔

✅ پیراگراف، سین بریک، مکالمے اور فارمیٹنگ NovelToon کے مطابق ہوگی۔

❌ کوئی نیا ڈائیلاگ یا منظر شامل نہیں کروں گا۔

❌ اپنی مرضی سے الفاظ تبدیل نہیں کروں گا۔

آپ کا Episode 2 اسی انداز میں:

دل کے رشتے

Episode 2

کراچی۔۔۔ محمد علی سوسائٹی۔۔۔ گھر نمبر 412۔۔۔

ایک خوبصورت سا گھر۔۔۔ کافی ہی بڑا عالی شان نما سا۔۔۔

رات کا وقت ہے۔

کچن کے اندر ایک خاتون ایک کپ اٹھائے اُس کے اندر کافی ڈال کر مسکرا رہی ہے کہ فون کی بیل بجی۔

ٹن۔۔۔ ٹن۔۔۔ ٹن۔۔۔ ٹن۔۔۔ ٹن۔۔۔

کسی نے فون نہیں اٹھایا تو وہ خاتون بولی، جس کا نام تھا فاطمہ علی ملک، جو عائشہ کی بھابھی اور اُس کے بڑے بھائی علی شاہ ملک کی بیوی تھی۔

"زبیدہ۔۔۔ زبیدہ۔۔۔ کہاں ہو؟ فون کب سے بج رہا ہے، اس کو اٹھا لو۔"

زبیدہ فون کے پاس آئی اور بولی۔

"جی بڑی بیگم صاحبہ۔"

پھر فون اٹھایا اور بولی۔

"ہیلو۔۔۔ جی کون؟"

"یہ علی شاہ ملک کے گھر کا نمبر ہے؟"

زبیدہ نے جواب میں کہا۔

"جی ہاں۔۔۔ آپ کون؟"

اُس آدمی نے کہا۔

"میں ڈاکٹر وقاص بات کر رہا ہوں۔ میری علی شاہ سے بات ہو سکتی ہے؟ کافی ہی ضروری کام ہے مجھے۔"

زبیدہ نے کہا۔

"جی ہو سکتی ہے، میں ابھی اُن کو فون دیتی ہوں۔"

پھر وہ فون ساتھ لیے علی کے (Study Room) کی طرف گئی۔

وہ وہاں ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔

زبیدہ نے فون دیا اور چلی گئی۔

علی نے کتاب بند کی اور فون کان سے لگا کر کہا۔

"جی کون۔۔۔؟"

"میں وقاص۔۔۔ ڈاکٹر وقاص۔۔۔"

علی نے کہا۔

"ہاں ہاں، پہچان لیا تم کو وقاص۔۔۔ خیر تو ہے؟ اتنی رات کو فون کیا؟"

وقاص نے کہا۔

"وہ آپ سے یہ بولنا تھا کہ آپ کی چھوٹی بہن عائشہ بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لائی گئی ہے۔ اُس کی حالت کافی ٹھیک نہیں۔ اگر آپ ہسپتال آ جاتے تو۔۔۔"

علی خاموش ہو گیا۔

پھر ایک سے دو منٹ کے بعد بولا۔

"ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ میں ابھی آیا۔ تم اُس کا علاج بیسٹ ڈاکٹر سے کرواؤ، پلیز۔۔۔ میں ابھی آتا ہوں۔"

پھر فون بند کیا اور فاطمہ کو آواز دی۔

فاطمہ آئی تو ہاتھ میں کافی تھی۔

میز پر رکھی اور کہا۔

"آپ کی کافی۔"

"فاطمہ۔۔۔ وہ عائشہ۔۔۔"

پھر ساری بات بتائی۔

فاطمہ نے کہا۔

"آپ کس کا انتظار کر رہے ہیں؟ چلو جلدی۔۔۔ اُس کو آپ کی، میری ضرورت ہے۔"

علی نے کہا۔

"نہیں۔۔۔ تم ساتھ نہیں آؤ۔ موسم پہلے ہی خراب ہے اور بچیاں گھر میں اکیلی ہیں۔۔۔"

جس پر فاطمہ نے کہا۔

"آپ ایسے ہی فکر کر رہے ہیں۔ زبیدہ ہے نا، وہ بچیوں کے پاس رہے گی۔ میں اُس کو بولتی ہوں، آپ جلدی سے گاڑی نکالیں۔"

موسم کافی خراب تھا۔

دونوں میاں بیوی کافی ٹینشن میں تھے کہ آخر ہوا کیا ہے۔

پھر وہ ہسپتال آ ہی گئے۔

ریسیپشن سے پتا کیا اور آئی۔سی۔یو کی طرف گئے۔

وہاں پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔

علی نے اندر جانے کی کوشش کی تو وہ آدمی آگے آیا اور بولا۔

"سر پلیز۔۔۔ آپ اندر نہیں جا سکتے۔ آپ کو باہر انتظار کرنا ہو گا۔"

وہ اور فاطمہ آئی۔سی۔یو کے باہر پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

علی کافی پریشان تھا۔

اُس کی آنکھوں سے آنسو آ رہے تھے کہ یہ سب کیا ہو گیا ہے۔

پھر اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور گزرے ہوئے کل میں اپنی اور اپنی بہن کی یادوں کو یاد کرنے لگا کہ کیسے وہ گھر کی رونق تھی اور سب کی لاڈلی تھی۔

اُس کی ایک غلطی نے کیسے سب بدل دیا۔

فاطمہ نے علی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا۔

"آپ فکر مت کریں علی۔۔۔ اللہ سب ٹھیک کرے گا، ان شاء اللہ۔"

کافی دیر کے بعد ڈاکٹر وقاص آئی۔سی۔یو سے آئے۔

علی فوراً اٹھ کر بولا۔

"کیسی ہے میری بہن؟ وہ ٹھیک تو ہے نا؟"

ڈاکٹر وقاص نے کہا۔

"جی۔۔۔ وہ خطرے سے باہر ہے۔ آپ فکر مت کریں۔"

پھر وہ بولا۔

"ہاں، سچ۔۔۔ اِن کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا۔ وہ وہاں اُس سائیڈ پر ہے۔"

فاطمہ گئی اور غذیان کو لے آئی۔

علی غذیان کے سامنے بیٹھ گیا اور اُس کو پیار کرنے کے بعد کہا۔

"بیٹا۔۔۔ میں آپ کا ماموں ہوں۔۔۔ اب یہ بتاؤ کہ آپ کے بابا کہاں ہیں؟"

غذیان نے کہا۔

"وہ بابا نا۔۔۔ ماما کو بار بار بول رہے تھے کہ۔۔۔ میں آپ کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔"

یہی سنا تھا کہ دونوں کے ہوش اُڑ گئے۔

دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

اتنے میں ایک نرس آئی اور آ کر کہا۔

"وہ۔۔۔ آپ کے مریض کو ہوش آ گیا ہے۔"

ابھی جاری ہے۔۔ ض

Hot

Comments

Shaheen Akhtar

Shaheen Akhtar

thanks ali🥰🥰🥰

2026-07-24

0

Tahir Ali

Tahir Ali

🥰🥰🥰

2026-07-21

1

See all

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play