عاشانی کی ہوئی چال کامیاب

episode 4

. عاشانی نے آ کر کہا۔۔۔واہ بھائی صاحب واہ۔۔کیا بات ہے آپ کا عائشہ کے ساتھ رابطہ اور آپ نے ایک بار بھی اپنے بھا ئی کو بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔کیا مقدر آپ کے بھائی نہیں تھے اور میں آپ کی بھابھی نہیں تھی۔ علی نے جواب دیا۔۔نہیں عاشانی ایسی بات نہیں تم بات کو غلط رنگ دے رہی ہو بس۔ ”علی کی بات پر عاشانی نے کہا۔۔لو جی سن لے آپ مقدر میں بات کو غلط رنگ دیے رہی ہوں۔۔بھائی صاحب آپ نے جھوٹ بولا ہے کہ آپ کا رابطہ تھا اس سے اور اب آپ بولے گے کہ وہ اس گھر میں واپس آئے گی۔ ”علی نے کہا۔۔۔ہاں وہ واپس آئے گی۔۔ یہ گھر اُس کا بھی ہے۔“ ”مقدر نے کہا۔۔جو صوفے پر بیٹھا تھا کہ۔۔کیا وہ کیسے آئے گی اس گھر میں واپس۔۔اور کس منہ سے آئے گی وہ۔۔۔جب ہم سب کی عذت کو اپنے پیروں میں کچل کر گئی تھی تب اُس کو یہ گھر نظر نہیں آیا تھا۔علی جواب دینے ہی لگا تھا کہ عاشانی بولی۔۔۔بھائی صاحب آپ کو تو اپنی عذت پیاری ہے نہیں مگر ہمیں ہے۔۔۔اگر وہ اس گھر میں واپس آئی تو ہم یہ گھر چھوڑ کر چلے جائے گے۔ علی نے کہا۔۔۔مقدر عاشانی کو سمجھاؤ یار یہ کیسی باتیں کر رہی ہے۔ ”مقدر نے کہا۔۔ وہ ایک دم ٹھیک بول رہی ہے۔۔اگر وہ اس گھر میں واپس آئی تو ہم یہ گھر چھوڑ کر چلے جائے۔یہ بول کر وہ روم سے باہر چلا گیا۔ جبکہ علی ٹنشن میں صوفے پر بیٹھ گیا۔ اگلے دن کے گیارہ بجے تھے۔۔۔آج عائشہ کو چھٹی ہونی تھی ہسپتال سے۔۔اور فاطمہ زبیدہ کو بول رہی تھی کہ تم ہمارے آنے سے پہلے عائشہ کا روم صاف کر دیا اور ساتھ میں اس کے لیے دلیہ بھی بنا دینا۔عاشانی جو اوپر سے سب دیکھ رہی تھی کہ بولی اپنے آپ سے کہ آج میرا اس گھر میں آخری دن ہے کل میں اپنے گھر میں ہوں گی اوع میری حکمرانی ہو گی۔۔پھر کہا۔۔اب دوسرے پلین کو انجام دینے کا وقت آ گیا ہے ۔ ”پھر وہ سیڑھیاں اتر کے نیچے آئی اور آ کر فاطمہ کو بولنے لگی۔۔ویسے کافی ہی بے شرم ہے آپ اور بھائی صاحب۔۔ماننا پڑے گا آپ دونوں کو۔۔۔مطلب کہ۔۔کیسے کر لیتے ہے اتنا اچھا بنے کی ایٹنگ۔۔پھر عاشانی نے دیکھا کہ مقدر مین دروازیں سے گھر آ رہا ہے تو فاطمہ کے پاس آئی اور اُس کے ہاتھوں کو پکڑ لیا۔۔۔اور اپنے آپ کو تھپڑ مارنے لگی۔۔اور اپنا ڈرامہ شروع کیا۔۔۔“ ”بھابھی آپ یہ کیا کر رہی ہے۔۔۔مجھے کس لیے ما ر رہی ہے۔۔پلیز بھابھی۔۔فاطمہ سب دیکھ کر حیران ہوئی کہ اس کو کیا ہو گیا ہے۔ اتنے میں مقدر بھی آگیا۔۔اور اپنی بیوی کو بچانے لگا۔۔۔بولا چلا کر۔۔بھابھی یہ آپ کیا کر رہی ہے۔ ”فاطمہ نے حیرانی سے کہا۔۔میں نے۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔۔یہ۔۔یہ سب تو عاشانی نے کیا ہے میرا ہاتھ پکڑے اور پھر اپنے آپ کو مارنے لگی۔مقدر نے جواب دیا۔۔کیا عاشانی نے اپنے آپ کے ساتھ۔۔۔عاشانی کا دماغ خراب ہو گیا ہے جو وہ ایسا کرے گی۔“ ”عاشانی کے کہا۔۔روتے ہوئے۔۔بھابھی آپ کتنی چلاک ہے سارا ملبہ میرے سر ڈال دیا واہ۔۔کیا بات ہے۔۔مقدر میری بات سنے میں جا رہی تھی بھابھی نے بولا کہ میری بات سنو۔۔جب میں آئی تو مجھے کہا۔۔کہ میں آپ سے بات کرو عائشہ کو گھر واپس لانے کے لییاس کے بدلے یہ میرے ساتھ اچھی رہیں گی ورنہ یہ مجھے گھر سے نکالنے کی دھمکی دے رہی تھی اور یہ ہی نہیں۔۔ساتھ میں یہ بھی بول رہی تھی کہ تم اور تمہارا شوہر میرے شوہر کے ٹکڑوں پر پل رہے ہو۔”مقدر نے کہا۔۔کیا بھابھی آپ نے یہ سب بولا۔۔۔ارے میں تو آپ کو اپنی ماں مانتا تھا اور آپ۔۔۔آپ کیسے یہ کر سکتی ہے۔ عاشانی مقدر کے سامنے آئی اور اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور یموشنل ہو کر کہا کہ۔۔آپ کو میری باتوں پے یقین نہیں ہوتا تھا نہ اب دیکھا لیا ہے اپنی آنکھیوں سے سب۔۔۔ابھی تو عائشہ کو گھر لانے کی تیاری کر رہے ہے تاکہ آپ کو نیچا دیکھا سکے۔۔۔ ”اتنے میں علی کی آواز آئی کہ۔۔۔عائشہ اس گھر میں واپس آئے گی اور یہ میرا ٓخری فیصلہ ہے۔ اور اگر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو وہ اپنا فیصلہ کر سکتا ہے۔ علی کی بات سن کر فاطمہ نے کہا۔۔علی یہ آپ کیا بول رہے ہے۔ مقدر نے کہا۔۔۔مجھے میرے سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔ اب اس گھر والوں کو ہماری کوئی ضرورت نہیں۔ میں اب ایک منٹ بھی اس گھر میں نہیں رہوں گا۔۔۔جا رہا ہوں گھر چھوڑ کر۔۔یہ بول کر وہ غصے میں چلا گیا۔ ”عاشانی نے ہستے ہوئے آنسو صاف کئے اور علی کے پاس آ کر بولی۔۔۔جائیداد میں ہمارا جو حصہ ہے وہ ہمیں مل جانا چاہئے ورنہ میں کیا کر سکتی ہوں وہ تو آپ جان ہی گئے ہوں گے۔“ ”عاشامی کی بات کا جواب علی نے دیتے ہوئے کہا۔۔۔ فکر مت کرو جو تم لوگوں کا حصہ ہو گا وہ مل جائے گا۔۔۔پھر وہ وہاں سے چلی گئی۔ فاطمہ علی کے پاس آئی اور کہا۔۔۔آپ نے جانے سے روکا کیوں نہیں مقدر کو۔۔؟“ ”علی نے جواب دیا۔۔۔جانے والے کو روکا نہیں کرتے اور ویسے بھی عاشانی اگر آج ہار جاتی تو کل کو وہ کوئی اور چال چلتی اس سے اچھا ہے کہ اس کی اسی چال کو کامیا ب کر دیا جائے۔یہ بول کر وہ اپنے روم میں چلا گیا اور فاطمہ پاس پڑے صوفے پر سر کو پکڑ کر بیٹھ گئی۔ ”اگلے دن کی صبح تھی۔۔۔مقدر گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔ سارے گھر میں سناٹا تھا۔۔۔سب ٹنشن میں تھے۔خیر۔۔زبیدہ ناشتہ لگا رہی تھی مگر کسی کا دل نہیں تھا ناشتہ کرنے کو۔۔پھر علی نے بغیر ناشتہ کیے کہا۔۔۔آج عائشہ نے گھر واپس آنا ہے تو تم ساتھ چلو گی لینے کہ نہیں۔۔۔؟ ”فاطمہ نے کہا۔۔۔ہاں میں جاؤ گی نہ آپ کے ساتھ۔۔۔پھر علی نے کہا۔۔اچھا پھر تم آ جاؤ میں گاڑی میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔۔یہ بول کر وہ چلا گیا اور فاطمہ اپنے روم سے بیک اور فون لینے چلی گئی۔ ” گھر کی بل بجی۔۔۔زبیدہ نے دروازہ کھلا۔۔۔فاطمہ عائشہ کو پکڑ کر لا رہی تھی۔ اور علی بھی ساتھ تھا۔ فاطمہ نے کہا۔۔زبیدہ اہک کام کرو عائشہ بی بی کے لیے ایک گلا س جوس لے کر آؤ۔ فاطمہ نے عائشہ کو سہارا دیں کر صوفے پر بیٹھا دیا اور خود بھی اس کے پاس بیٹھ گئی۔ زبیدہ نے جوس دیا اور چلی گئی۔ عائشہ نے کہا۔۔۔مقدر بھائی نہیں آئے کیا مجھ سے ملنے۔۔کیا وہ میرے ساتھ ابھی تک ناراض ہے۔۔۔نہیں وہ تو مجھ سے ڈھیر سارا پیار کرتے ہے اس لیے تو ان سے میری تکلیف برداشت نہیں ہوتی۔۔علی بھائی بتائے نہ۔۔وہ کیا آفس کے کام سے گئے ہے اور وہ عاشانی بھابھی وہ کہاں ہے۔ فاطمہ اداس سی نظریں نیچے جھکا کر بیٹھ گئی۔ عائشہ کافی پریشان ہوئی اور بولی۔۔۔کوئی کچھ بتائے گا کہ مقدر بھائی کہاں ہے علی صوفے سے اٹھا اور بولا۔۔۔وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا ہے اور اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔یہ بول کر وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ عائشہ رونے لگی وہ جان گئی تھی کا مقدر کے جانے کی وجہ وہ ہے۔

ابھی جاری ہے ۔۔۔۔۔

Hot

Comments

Sadiq Abbas Mangat

Sadiq Abbas Mangat

🥰🥰

2026-07-24

1

Sadiq Abbas Mangat

Sadiq Abbas Mangat

🥰

2026-07-24

1

See all

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play