Dil Ke Rishte: A Journey of Love and Destiny
رات کا وقت تھا۔ ایک سنسان سا علاقہ، اور اس کے درمیان ایک گھر۔
آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے، جبکہ تیز بارش مسلسل برس رہی تھی۔ آسمان پر چمکتی بجلی ایک خوفناک منظر پیش کر رہی تھی۔
گھر کی لائٹ بند تھی۔ کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں اور پردے تیز ہوا کے باعث مسلسل ہل رہے تھے۔
گھر کے مرکزی دروازے کے سامنے موجود لاؤنج میں ایک میاں بیوی آپس میں لڑ رہے تھے، جبکہ ایک پانچ سال کا بچہ پردے کے پیچھے چھپ کر یہ سب دیکھ رہا تھا۔
عائشہ روتے ہوئے بولی،
"مشتاق، آپ مجھے طلاق نہیں دے سکتے... پلیز۔ میں نے کیا کیا ہے؟ بولو۔ آپ نے کہا تھا کہ گھر سے بھاگ کر شادی کرتے ہیں، تو میں نے کی۔ جو کچھ بھی میرے نام تھا، وہ سب آپ کے نام کر دیا، یہ سوچ کر کہ شاید آپ بدل جائیں گے اور میری قدر کریں گے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ مجھے گھر سے نکال دیں، مگر طلاق نہ دیں۔"
مشتاق نے عائشہ کی بات سنی تو زور زور سے ہنسنے لگا۔
وہ ہنستے ہوئے دو چار قدم آگے پیچھے چلا، پھر عائشہ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ ماتھے پر ہاتھ مارا اور غصے سے بولا،
"رونا دھونا بند کرو۔ میں نے صرف ایک غلطی کی تھی، تم سے شادی کر کے۔ اب اسی شادی سے تمہیں آزاد کر رہا ہوں۔"
عائشہ مسلسل رو رہی تھی۔
مشتاق نے غصے سے اس کا بازو زور سے پکڑا اور بولا،
"اپنے بھائی کے پاس چلی جاؤ۔ میں نے سنا ہے وہ کافی امیر ہو گیا ہے۔ اور اگر نہیں، تو تمہیں اپنے گھر میں نوکرانی ہی بنا لے گا۔"
یہ کہہ کر وہ دوبارہ ہنسنے لگا۔
عائشہ نے روتے ہوئے کہا،
"خدا کا خوف کرو، مشتاق۔ میں اتنی رات کو غذیان کو لے کر کہاں جاؤں گی؟ میرا نہیں، تو اپنے بیٹے کا ہی خیال کر لو۔"
مشتاق غصے سے چیخا،
"بس... بس... بس...! ایک لفظ اور بولا تو جان سے مار دوں گا۔"
وہ دو منٹ تک خاموشی سے صوفے پر بیٹھا رہا۔
پھر اٹھا، عائشہ کے پاس آیا اور بولا،
"بس، بہت ہو گیا۔ اب اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرتے ہیں۔"
وہ سرد لہجے میں بولا،
"میں، مشتاق احمد ولد محمد احمد، اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں..."
چند لمحے خاموش رہ کر اس نے دوبارہ کہا،
"طلاق دیتا ہوں..."
پھر ہنستے ہوئے تیسری بار بولا،
"طلاق دیتا ہوں۔"
عائشہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
مشتاق نے اس کا ہاتھ پکڑا، پھر غذیان کو ساتھ لیا اور دونوں کو گھر کے مرکزی دروازے تک لے جا کر باہر نکال دیا۔
اگلے ہی لمحے اس نے دروازہ بند کر دیا۔
عائشہ دروازے سے لگ کر زور زور سے روتی رہی۔
کافی دیر بعد اس نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا، اسے سینے سے لگا لیا اور پھر رونے لگی۔
غذیان نے معصومیت سے پوچھا،
"ماں... یہ طلاق کیا ہوتی ہے؟ بابا کیا کہہ رہے تھے؟ بولو نا، ماں... آپ رو کیوں رہی ہیں؟"
عائشہ نے کوئی جواب نہ دیا۔
اس نے خاموشی سے غذیان کا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگی۔
چلتے چلتے وہ ایک سڑک کے کنارے آ گئی۔ بارش اب بھی بہت تیزی سے برس رہی تھی۔
جاری ہے...
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments
Tahir Ali
❤️❤️❤️ good
2026-07-21
1