Episode 3
علی روم میں آیا تو عائشہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ وہ بس ہی بول رہی تھی کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔یہ۔۔وہ۔۔وہ کافی صدمے میں تھی جو بھی اُ س نے ساتھ ہوا تھا۔
علی اپنی بہن کے پاس بیٹھ گیا اور ماضی میں جو ہوا وہ دماغ میں یاد کرنے لگا کہ کیسے سب ہوا تھا۔۔۔آئے ہم بھی ماضی میں چلتے ہے۔
"گھر نے لاؤبج میں دو بھائی آپس میں لڑ رہے ہے کہ۔۔"
"علی بھائی آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔آپ عائشہ کی شادی اس مشاق سے نہیں کروا سکتے اور آپ نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔کیا میں آپ کا چھوٹا بھائی نہیں تھا۔"
دونوں بھائی ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے اور کوئی نہیں تھا لاؤنج میں۔ علی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور ہوتا بھی تو وہ کیا بولتا۔۔مقدر نے کہا۔۔۔
"علی بھائی آج آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ کو میری کوئی ضرورت نہیں۔۔"
اتنے میں فاطمہ نے ہلا کر کہا۔۔۔
"علی عائشہ کو ہوش آ گیا۔۔"
علی نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ ا اور کہا۔۔۔
"عائشہ مجھے معاف کر دو میں جانتا تھا کہ وہ ایک اچھا آدمی نہیں پھر بھی تمہاری شادی کر دی اُس سے۔۔میں تمہارا مجرم ہوں۔"
عائشہ نے روتے ہوئے کہا۔۔۔
"نہیں بھائی آپ نے تو میری محبت میں مجبور ہو کر اُس سے شادی کی تھی اور میرا گھر بس جائے اس کے لیے آپ نے مجھے تنہا نہیں چھوڑا۔۔میں پاگل تھی بس ساری غلطی میری ہے صرف میری۔۔؟"
علی نے کہا۔۔۔
"میں وعدہ کرتا ہوں آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑو گا۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔"
یہ بول کر وہ کمرے سے باہر چلا گیا اور فاطمہ بھی علی کے پیچھے چلی گئی۔
فاطمہ نے کہا۔۔۔
"علی ہم عائشہ کو گھر جب لے جائے گے تو عشانی تو مقدر کے کان بھرے گی اور وہ تو پہلے بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔۔اب تو وہ پتا نہیں کیا کرئے گی۔"
"ہاں فاطمہ تم ٹھیک بول رہی ہو مگر ہم عا ئشہ تو یوں تنہا نہیں چھوار سکتے گھر تو لے کر جانا ہی ہوگا اور مقدر کا غصہ بھی برداشت کرنا ہوگا۔"
اگلے دن صبح کے دس بجے تھے۔۔عاشانی کچن میں آئی اور دیکھا کہ نوکرانی کافی سارے برتن دھو رہی تھی۔
عاشانی نے دیکھ کر کہا۔۔۔
"یہ برتن آج زیادہ نہیں دھونے والے۔۔۔؟"
نوکرانی نے جواب دیا۔۔۔
"جی چھوٹی بیگم صاحبہ وہ بڑے صاحب کے کوئی جاننے والے ہے کوئی ہسپتال تو اُن کے لیے رات کا کھانا گیا تھا اور اب ناشتہ بھی لے گئے ہے۔"
عاشانی نے فرج کھولی اور اُس میں سے ایک سیب نکالا اور بولی۔۔۔
"اچھا ایسا کون ہے جس کا ہمیں پتہ نہیں۔"
پھر بولی۔۔۔
"اچھا یہ بتاؤ کہ وہ کوئی عورت ہے کہ مرد۔۔۔؟"
نوکرانی نے کہا۔۔۔
"جی وہ ایک خاتون ہے بڑی بیگم صاحبہ تو اُن کے لیے نئے کپڑے بھی لے گئی ہے اب ہسپتال۔۔؟"
علی روم میں آیا تو عائشہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی۔ وہ بس ہی بول رہی تھی کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔یہ۔۔وہ۔۔وہ کافی صدمے میں تھی جو بھی اُ س نے ساتھ ہوا تھا۔
علی اپنی بہن کے پاس بیٹھ گیا اور ماضی میں جو ہوا وہ دماغ میں یاد کرنے لگا کہ کیسے سب ہوا تھا۔۔۔آئے ہم بھی ماضی میں چلتے ہے۔
"گھر نے لاؤبج میں دو بھائی آپس میں لڑ رہے ہے کہ۔۔"
"علی بھائی آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔آپ عائشہ کی شادی اس مشاق سے نہیں کروا سکتے اور آپ نے مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔کیا میں آپ کا چھوٹا بھائی نہیں تھا۔"
دونوں بھائی ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے اور کوئی نہیں تھا لاؤنج میں۔ علی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور ہوتا بھی تو وہ کیا بولتا۔۔مقدر نے کہا۔۔۔
"علی بھائی آج آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ کو میری کوئی ضرورت نہیں۔۔"
اتنے میں فاطمہ نے ہلا کر کہا۔۔۔
"علی عائشہ کو ہوش آ گیا۔۔"
علی نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ ا اور کہا۔۔۔
"عائشہ مجھے معاف کر دو میں جانتا تھا کہ وہ ایک اچھا آدمی نہیں پھر بھی تمہاری شادی کر دی اُس سے۔۔میں تمہارا مجرم ہوں۔"
عائشہ نے روتے ہوئے کہا۔۔۔
"نہیں بھائی آپ نے تو میری محبت میں مجبور ہو کر اُس سے شادی کی تھی اور میرا گھر بس جائے اس کے لیے آپ نے مجھے تنہا نہیں چھوڑا۔۔میں پاگل تھی بس ساری غلطی میری ہے صرف میری۔۔؟"
علی نے کہا۔۔۔
"میں وعدہ کرتا ہوں آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑو گا۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔"
یہ بول کر وہ کمرے سے باہر چلا گیا اور فاطمہ بھی علی کے پیچھے چلی گئی۔
فاطمہ نے کہا۔۔۔
"علی ہم عائشہ کو گھر جب لے جائے گے تو عشانی تو مقدر کے کان بھرے گی اور وہ تو پہلے بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔۔اب تو وہ پتا نہیں کیا کرئے گی۔"
"ہاں فاطمہ تم ٹھیک بول رہی ہو مگر ہم عا ئشہ تو یوں تنہا نہیں چھوار سکتے گھر تو لے کر جانا ہی ہوگا اور مقدر کا غصہ بھی برداشت کرنا ہوگا۔"
اگلے دن صبح کے دس بجے تھے۔۔عاشانی کچن میں آئی اور دیکھا کہ نوکرانی کافی سارے برتن دھو رہی تھی۔
عاشانی نے دیکھ کر کہا۔۔۔
"یہ برتن آج زیادہ نہیں دھونے والے۔۔۔؟"
نوکرانی نے جواب دیا۔۔۔
"جی چھوٹی بیگم صاحبہ وہ بڑے صاحب کے کوئی جاننے والے ہے کوئی ہسپتال تو اُن کے لیے رات کا کھانا گیا تھا اور اب ناشتہ بھی لے گئے ہے۔"
عاشانی نے فرج کھولی اور اُس میں سے ایک سیب نکالا اور بولی۔۔۔
"اچھا ایسا کون ہے جس کا ہمیں پتہ نہیں۔"
پھر بولی۔۔۔
"اچھا یہ بتاؤ کہ وہ کوئی عورت ہے کہ مرد۔۔۔؟"
نوکرانی نے کہا۔۔۔
"جی وہ ایک خاتون ہے بڑی بیگم صاحبہ تو اُن کے لیے نئے کپڑے بھی لے گئی ہے اب ہسپتال۔۔؟"
مقدر نے کہا۔۔۔
"بھائی۔۔بھائی۔۔آپ نے مجھ سے اتنا بڑا جھوٹ بولا کہ۔۔آپ ایسا کیسے کر سکتے ہے۔"
علی مقدر کے غصے سے جان گیا تھا کہ اس کو سب پتہ چلا گیا ہے۔
علی نے کہا۔۔۔
"مقدر میری بات سنو۔۔سب اتنا اچانک ہوا کہ میں خود کافی پریشان ہو گیا تھا اور میں کل صبح تم کو بتانے والا تھا سب۔۔؟"
مقدر نے کہا۔۔۔
"بس بھائی بس۔۔سب باتیں ہے آپ کی۔۔جو میری آپ کی عذت کا جنازہ نکال کر گئی تھی آپ اس سے ملنے گئے تھے اور خدمت بھی ہو رہی ہے وہاں۔۔"
اتنے میں وہاں عاشانی بھی آ گئی۔
ابھی جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments
Sadiq Abbas Mangat
🥰🥰
2026-07-22
1