Episode 5
۱۸سال بعد۔
لاہور۔۔۔"DHA" گھر نمبر ۳۱۲۔۔؟
ایک خوبصورت سا گھر۔۔اور اس کے اندر ایک روم۔۔۔جو نہایت ہی خوبصورتی سے سجاہوا ہے۔۔گلابی رنگ دیواروں کو چھو رہا ہے تو سفید رنگ کا فنیچر اور پردے روم کی خوبصورتی کو بڑا رہے ہے۔۔۔بیڈ پر ایک لڑکی سو رہی ہے۔۔۔جس کی زلفیں سارے چہرے پر بکھری پڑی ہے۔ساتھ میں پڑی کرسی پر ایک باپ اپنی پھول جیسی بیٹی کو سوتے دیکھ کر مسکراہ رہا ہے۔۔۔جی ہاں ایک باپ۔۔یہ کوئی اور نہیں علی شاہ ہے۔۔۔اور بیڈ پر سوئے ہوئی لڑکی اس کی بڑی بیٹی ہانیہ ہے۔علی سر کے بال گر گئے ہے اب ایسا بھی نہیں کہ سر پر بال نہیں۔۔۔نظر کی عینک لگی ہوئی ہے اور بوڑھے بھی لگ رہے ہے تھوڑے سے۔۔۔؟
”کروٹ بدلتی ہانیہ کی آنکھ کھلی تو سامنے اس کے بابا اس کے جاگنے کا ویٹ کر رہے تھے اپنے بابا کو دیکھا تو فورا اٹھی اور کہا۔۔۔بابا آپ یہاں۔۔کب سے بیٹھے ہے اور مجھے اٹھایا کیوں نہیں آپ نے۔۔۔؟“
”علی نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔ارے میری بیٹی سو تے ہوئے کافی پیاری ایک دم پری لگ رہی تھی تو کیسے اٹھا دیتا۔۔؟“
”ہانیہ بستر سے اٹھی اور علی کی بات سن کر ہس پڑی اور کہا۔۔۔اب ایسا بھی نہیں کہ میں پری ہوں۔اتنے میں فاطمہ کی آواز آئی کہ۔۔۔آؤ جاؤ سب میں سب کے لیے ناشتہ لگارہی ہوں۔ ہانیہ نے کہا۔۔۔بابا ایک بات تو بتائے۔۔؟
”علی نے کہا۔۔۔ضرور میری جان۔۔پوچھو کیا بات پوچھنی ہے آپ کو۔۔۔؟“
”ہانیہ اپنے بابا کے پاس آئی اور آ کر کہا۔۔۔آپ غصہ تو نہیں کرئے گے نہ میرے سوال سے۔۔؟“
”علی نے ہستے ہوئے کہا۔۔۔نہیں تو بھلا میں اپنی بیٹی پے غصہ کس لیے کرو گا۔“
”نانیہ نے کہا۔۔۔بابا وہ۔۔۔پھر اپنی دل میں بولی۔۔یار کیسے سوال کرو بابا سے۔۔پھر کہا۔۔۔بابا وہ چھوٹے پاپا کہاں ہے وہ ہمارے ساتھ کیوں نہیں ہے ایسا کیا ہوا تھا کہ چھوٹے پاپا گھر چھوڑ کر چلے گئے۔
ہانیہ کے سوال پر علی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔۔اداسی سی تھی اس وقت علی کی آنکھیوں میں۔۔۔پھر علی نے خاموشی توڑی اور کہا۔۔۔وہ نہیں رہنا چاہیتے تھے ہمارے ساتھ تو وہ چلے گئے۔پھر وہ صوفے سے اٹھے اور کہا۔۔۔بھائی مجھے تو بھوک لگی ہے میں تو چلا ناشتہ کرنے اور تم بھی جلدی سے تیار ہو کر آ جاؤ۔۔پھر وہ روم سے چلے گئے۔
”ہانیہ روم میں لگے اپنے بابا کے فوٹو فریم کے پاس آئی اور دیکھ کر کہا۔۔۔آپ کو بچپن سے بھائی کی جدائی کی تکلیف میں دیکھتی آئی ہوں آپ بھلے کسی سے نہ کہے مگر میں آپ کی تکلیف سے واقع ہوں۔۔۔اور وعدہ کرتی ہوں کہ آپ کے بھائی کو آپ سے ملا کر رہوں گی اس کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے۔ پھر وہ اپنے کپڑے اٹھا کر چلی گئی واش روم میں۔
ہانیہ نیچے آئی تو علی فاطمہ ناشتہ کر رہے تھے۔ آ کر کہا۔۔۔"Good morning everyone" سلام ماما۔۔سلام بابا۔۔پھر وہ ناشتہ کرنے لگی۔ اتنے میں عائشہ بھی آ گئی۔۔۔کالے رنگ کی ساڑی پہنی تھی اور بال بھی اپنے سفید نہیں تھے۔۔ مگر اچھی لگ رہی تھی۔
”ہانیہ نے کہا۔۔۔ارے واہ سورج کہا ں سے نکلا ہے آج جو پھپھو آئی ہے میرے گھر۔۔۔ورنہ ان کی شکل دینے کے لیے مجھے لگتا تھا کہ ٹائم لینا پڑے گا۔ سب ہسنے لگے ہانیہ کی بات پر۔۔۔؟“
”ہانیہ نے پھر کہا۔۔۔میں تو ناراض ہوں آپ سے۔۔۔؟“
”عائشہ نے کہا۔۔۔وہ کیوں۔۔میری بیٹی مجھ سے خفا کس لیے ہے؟
”ہاں تو کیا کرو۔۔آپ تو فون پر بھی بات نہیں کرتی ہے ایسا کون کرتا ہے بھلا۔۔۔ کوئی پیار نہیں ہے آپ کو مجھ سے۔۔بس باتیں ہے۔“
”عائشہ نے کہا۔۔۔باتیں سنو اس کی ذرا۔۔۔اچھا اب ہفتے میں دو بار ملنے آیا کرو گی وعدہ۔
”ہانیہ نے ہستے ہوئے کہا۔۔۔ہاں ہم خوش ہوئے۔۔۔"very good" ؟ سب ہسنے لگے اس کی بات سن کر اتنے میں انعم روم سے باہر تو سب ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔ سب کو دیکھا اور پھر بولی۔۔۔زبیدہ خالہ۔۔۔زبیدہ خالہ۔۔۔ زبیدہ خالہ۔۔۔قدر ہے آپ۔۔اتنے میں وہ آ گئی اور کہا۔۔۔جی چھوٹی بی بی۔۔؟
”کہا تھی تم سب سے آواز دیں رہی ہوں میں۔۔۔جاؤ اور جا کر کوفی بنا کر مجھے میرے روم میں دے جاؤ۔ پھر وہ جانے لگی کہ علی نے کہا انعم کہا جا رہی ہو بیٹا۔۔۔آؤ ہم سب کے ساتھ ناشتہ کرو۔ بابا ابھی آپ بھی نہ ابھی سو کر اٹھی ہوں اور ناشتہ کیسے کر لو میں بعد میں کر لو گی آپ سب کرئے۔۔۔یہ بول کر چلی گئی وہ وہاں سے۔۔۔؟
علی نے کہا۔۔۔چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے۔۔۔دیکھ رہی ہو فاطمہ تم۔۔عائشہ کو سلام تک نہیں کیا ہے اس نے۔۔فاطمہ نے کہا۔۔آپ فکر مت کرئے میں بات کرتی ہوں اس سے۔۔؟“
”عائشہ نے کہا۔۔۔بھائی بچی ہے ابھی۔۔سمجھ جائے گی۔ ہانیہ نے کہا۔۔۔میرا تو ہو گیا میں تو یونیورسٹی جا رہی ہوں۔
ہانیہ آ گئی تھی یونیورسٹی۔۔۔مگر اس کے دوست ابھی نہیں آئے تھے۔ وہ ہال کے سامنے موجود سیڑھیوں پر بیٹھ کر انتظار کر ہی تھی اور بول رہی تھی کہ۔۔۔اتنی دیر کس لیے کر دی مریم نے۔۔۔وہ بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی۔ اچانک مریم آگئی۔۔ہانیہ نے دیکھاتو بولی۔۔رکو۔۔رکو پہلے پھولوں کے ہار تو لانے دو۔۔۔میڈم ٹائم دیکھا ہے تم نے۔۔۔کتنا ہو گیا ہے۔
”مریم نے کان پکڑے اور کہا۔۔۔سوری یار وہ رات کو لیٹ سوئی تھی نہ تو صبح آنکھ نہیں کھلی۔۔پھر بولی ارے یہ زین کہاں ہے۔۔ابھی تک نہیں آیا کیا۔۔؟“
”ہانیہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔وہ کبھی لیٹ ہوا ہے جو آج ہو گا۔۔کسی لڑکی کو اپنی پیاری پیاری باتوں میں پھسا رہا ہو گا اور کیا۔۔۔؟“
”مریم نے جواب میں ہستے ہوئے کہا۔۔۔ہاں یہ تو ہے۔۔۔اس کا کچھ نہیں ہو سکتا ویسے۔۔؟“
”اتنے میں زین کی آواز آئی میں اتنا بھی فارغ نہیں ہوں جو پیاری پیاری لڑکیوں کو دیکھ کر پیاری پیاری باتیں کرو۔۔۔۔
"how are you girl's"۔۔۔مریم نے کہا۔۔۔"what time is it?"۔۔۔زین نے گھڑی دیکھی اور کہا۔۔۔سوری نہ لیٹ ہو گیا میں۔۔ہانیہ بولی۔۔اب بس باتیں ہی کرتے رہو گے کہ کلاس بھی لینے چلو گے۔ اچانک زین کی نظر ایک لڑکی پر پڑی تو مریم نے کتاب دیں ماری اور کہا۔۔۔تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا زین۔۔؟“ ”زین بولا بس بس میں نہیں وہ دیکھ رہی تھی مجھے آخر میں ہوں ہی اتنا خوبصورت۔۔۔پھر اپنے بالوں میں ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔۔۔دیکھو میری خوبصورتی۔۔۔ہانیہ اور مریم دونوں زور زور سے ہس بھی رہی تھی اور کلاس کے لیے کلاس روم میں جا بھی رہی تھی۔
کلاسز ختم ہو گئی تھی۔۔تینوں پارک میں تھے۔ہانیہ نے کہا۔۔۔زین پانی دو پیاس لگی ہے۔۔۔؟“
’’زین نے کہا۔۔۔و ہ تو میں لانا بھول گیا ہوں۔۔۔“
”مریم نے کہا۔۔۔لڑکیوں کے نام تو نہیں بھولتے تم تو۔۔؟
”ہانیہ نے کہا۔۔۔بس کرو یار۔۔میں جا کر لے آتی ہوں تم دونوں سے بس باتیں کروا لو۔۔۔ پھر اس نے جیکٹ زین کو دی اور پانی لینے چلی گئی۔ وہ کلٹین پر گئی پانی لیا اور واپس آنے لگی۔۔۔ پھر رک گئی۔۔اپنے آپ سے کہا۔۔۔یہ زین کا بچہ۔۔میری جیکٹ اس لڑکے کو دیں کر یقینا کسی لڑکی کے پیچھے گیا ہو گا۔ اس کلاس لیتی ہوں اس کی تو۔۔۔۔پھر وہ اس لڑکے کے پاس آنے لگی اور اس کے سامنے آ کر کہا۔۔۔
بات سنے یہ میری جیکٹ ہے۔۔لاؤ دو۔۔۔؟“
”جی کیا۔۔۔ایان نے کہا۔۔حیران ہو کر۔۔۔۔۔؟
ابھی جاری ہے۔۔۔۔۔؟
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments