بدلہ یا مہبت
Episode 1: زخمی لڑکی
بارش برس رہی تھی اور زوروں سے بجلی کڑک رہی تھی۔ اس منظر میں ایک خوبصورت، لمبے قد والی لڑکی کھڑی تھی۔ اس کے گیلے لمبے سنہرے بال چاندنی رات میں ہلکے ہلکے چمک رہے تھے، مگر اس کی بڑی نیلی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ بارش میں اس کے آنسو صاف نظر آ رہے تھے، جیسے ہر بوند اس کے درد کی کہانی سنا رہی ہو۔ اس کے چہرے پر اداسی اور تھکن صاف جھلک رہی تھی، اور اس کے جسم پر جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے۔
وہ اکیلی، زخمی حالت میں، آنکھوں میں آنسو لیے ننگے پاؤں سڑک پر چل رہی تھی۔ اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، جیسے وہ کسی بھی لمحے گر جائے گی۔ اس کے اردگرد کا ماحول سنسان تھا، نہ کوئی گاڑی، نہ کوئی انسان۔ صرف بارش کی آواز اور اس کے دل کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتی، جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہو، مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔
ہوا تیز ہو چکی تھی، سردی اس کے جسم میں اتر رہی تھی، مگر وہ رکی نہیں۔ اس کے دل میں جیسے کوئی خوف بیٹھ گیا تھا، جو اسے مسلسل آگے بڑھنے پر مجبور کر رہا تھا۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے اور وہ آہستہ آہستہ خود سے کچھ کہہ رہی تھی، مگر بارش کی آواز میں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔
اسی دوران ایک سیاہ رنگ کی گاڑی اس کے قریب سے گزری۔ گاڑی میں ایک خوبصورت عورت بیٹھی تھی، جو شاید کسی کام سے واپس آ رہی تھی۔ اس کی نظر اچانک اس زخمی لڑکی پر پڑی، جو بارش میں بے حال چل رہی تھی۔ عورت نے فوراً گاڑی روکی اور حیرت سے باہر نکلی۔
"یہ لڑکی اس حالت میں یہاں کیا کر رہی ہے؟" اس نے خود سے کہا۔
وہ جلدی سے اس کے پاس گئی اور اسے سہارا دیا۔ لڑکی کی حالت بہت خراب تھی، اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں اور جسم کانپ رہا تھا۔ عورت نے گھبرا کر اسے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور فوراً ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئی۔
راستے بھر وہ لڑکی نیم بےہوشی کی حالت میں کچھ بڑبڑا رہی تھی، جیسے کسی سے مدد مانگ رہی ہو یا کسی کو یاد کر رہی ہو۔ عورت بار بار اس کی طرف دیکھتی اور پریشان ہو جاتی۔ اس کے دل میں عجیب سی بےچینی تھی، جیسے یہ کوئی عام بات نہ ہو۔
ہسپتال پہنچتے ہی عورت نے فوراً ڈاکٹرز کو بلایا۔ ڈاکٹرز نے جلدی سے لڑکی کو اسٹریچر پر ڈالا اور ایمرجنسی روم میں لے گئے۔ عورت دروازے کے باہر کھڑی بےچینی سے انتظار کرتی رہی، اس کے ذہن میں بار بار وہی سوال گھوم رہا تھا کہ یہ لڑکی کون ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔
کچھ دیر بعد ایک ڈاکٹر باہر آیا اور عورت کو بتایا کہ لڑکی کی حالت نازک ہے، مگر وہ اب خطرے سے باہر ہے۔ یہ سن کر عورت نے سکھ کا سانس لیا، مگر اس کے دل میں ابھی بھی کئی سوال باقی تھے۔
وہ لڑکی کون تھی؟
اس کے جسم پر اتنے زخم کیوں تھے؟
اور وہ اس سنسان سڑک پر اکیلی کیا کر رہی تھی؟
یہ سب سوال ابھی جواب مانگ رہے تھے…
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments