Episode.... 5

وہ یہی سب سوچتی رہی، خود سے باتیں کرتی رہی، اور وقت گزرتا گیا۔

کافی دیر بعد دروازہ کھلا اور باجی کمرے میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا،

"روز، کیا تم تیار ہو گئی ہو؟ چلو، کھانا تیار ہے۔"

یہ کہتے ہی ان کی نظر روز پر پڑی، جو ابھی بھی اداس بیٹھی تھی۔ باجی فوراً اس کے قریب آئیں اور اس کے پاس بیٹھ گئیں۔

انہوں نے نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا،

"کیا ہوا روز؟ تم اب بھی رو رہی ہو؟ کیا تمہیں اپنا گھر یاد آ رہا ہے؟"

روز نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو پھر بھر آئے۔

باجی نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا،

"کوئی بات نہیں… دل ہلکا کر لو۔ کبھی کبھی رونا بھی ضروری ہوتا ہے، اس سے دل کو سکون ملتا ہے اور ہمت بھی آتی ہے۔"

پھر وہ چند لمحے خاموش رہیں، جیسے اپنے ماضی کو یاد کر رہی ہوں۔ اس کے بعد وہ دھیرے سے بولیں،

"زندگی ایسی ہی ہوتی ہے، روز… جو سانس آتا ہے وہ گنا جاتا ہے، اور جو چلا جاتا ہے وہ بغیر گنے ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اگر زندگی ہے تو موت بھی ہے… اور ہمیں یہ سب قبول کرنا پڑتا ہے۔"

انہوں نے گہری سانس لی اور اپنی کہانی سنانے لگیں،

"جب ہمارے ابو ہمیں چھوڑ کر گئے تھے، تو میرا بھائی صرف چار سال کا تھا۔ اسے تو زندگی اور موت کا مطلب بھی نہیں پتا تھا… اور میں صرف سات سال کی تھی۔"

ان کی آواز میں ہلکا سا درد جھلکنے لگا۔

"تم سوچو… میں خود کو سنبھالتی یا اپنے چھوٹے بھائی کو؟ مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔ میں نے سب کچھ برداشت کیا، ہر مشکل کا سامنا کیا… اور اپنے بھائی کو بھی سنبھالا، خود کو بھی۔"

وہ روز کی طرف دیکھ کر بولیں،

"ہم دونوں نے بہت سی چھوٹی بڑی مشکلات کا سامنا کیا… تب جا کر ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔"

باجی کی باتوں میں سچائی اور درد دونوں تھے۔ روز خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی، اور پہلی بار اس کے دل میں خوف کے ساتھ ساتھ ایک ہلکی سی امید بھی پیدا ہونے لگی۔باجی کی باتیں سن کر روز، جو پہلے قدرے خوش اور ہلکے موڈ میں تھی، اچانک خاموش ہو گئی۔ وہ دل لگا کر باجی کی کہانی سنتی رہی۔ ان کے الفاظ میں ایسا درد اور سچائی تھی کہ روز کے دل پر اثر ہونے لگا۔

کچھ لمحوں بعد باجی نے مسکرا کر کہا،

"میں یہاں سے کہیں نہیں جا رہی جب تک تم کپڑے بدل کر نہیں آتیں۔ پھر ہم ساتھ نیچے چلیں گے… اور ساتھ کھانا کھائیں گے، ٹھیک ہے؟"

روز نے آہستہ سے سر ہلایا،

"ٹھیک ہے…"

اور فوراً واش روم کی طرف چلی گئی۔

تھوڑی دیر بعد جب وہ تیار ہو کر آئی، تو دونوں ڈائننگ ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئیں۔ کھانا لگ چکا تھا، اور ماحول اب پہلے سے کافی پُرسکون لگ رہا تھا۔

لیکن ابھی انہوں نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ اچانک دروازے کی طرف سے شور سنائی دیا۔

باجی مسکرائیں اور روز کی طرف دیکھ کر بولیں،

"لو… آ گئے ہمارے ‘شیطان’!"

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play