Episode ....3

یہ سن کر عورت فوراً اس کے قریب آئی۔ اس نے نرمی سے روز کو اپنے پاس کیا اور اسے گلے لگا لیا۔ روز اس کے سینے سے لگ کر اور بھی زیادہ رونے لگی۔

عورت نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا،

"کس نے کہا کہ تمہارا کوئی نہیں؟ میں ہوں نا…"

وہ مسکرا کر بولی،

"آج سے میں تمہاری بڑی بہن ہوں…"

اس نے آہستہ سے روز کے آنسو صاف کیے اور دوبارہ کہا،

"ہاں، آج سے میں تمہاری بڑی بہن ہوں… اور یہی تمہاری فیملی بھی ہے۔"

پھر اس نے نرمی سے اپنا تعارف کروایا،

"میرا نام ڈاکٹر زریں ملک ہے۔ ہسپتال میں سب مجھے ڈاکٹر زریں کہتے ہیں… اور گھر والے مجھے باجی کہتے ہیں۔ تم بھی مجھے باجی ہی کہنا، ٹھیک ہے؟"

روز نے آہستہ سے سر ہلا دیا، اس کی آنکھوں میں اب بھی نمی تھی مگر دل کو جیسے تھوڑا سہارا مل گیا تھا۔

ڈاکٹر زریں مسکرائی اور بولی،

"ویسے آج میری ہسپتال سے چھٹی ہے، اور کافی دیر بھی ہو رہی ہے… تو کیا ہم گھر چلیں؟"

روز نے ہچکچاتے ہوئے اسے دیکھا، پھر آہستہ سے ہاں میں سر ہلا دیا۔

کچھ ہی دیر بعد دونوں گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ باجی نے ڈرائیور سے گاڑی اسٹارٹ کرنے کو کہا، اور گاڑی آہستہ آہستہ ہسپتال سے نکل کر سڑک پر چلنے لگی۔

راستے بھر روز خاموش بیٹھی رہی، کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوئی، جیسے نئے حالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو۔

آخرکار گاڑی ایک بڑے سے گھر کے سامنے رکی۔ جب روز گاڑی سے اتری تو اس نے سامنے نظر اٹھا کر دیکھا… اور حیران رہ گئی۔

اس کے دل میں بےاختیار خیال آیا،

"یہ گھر نہیں… محل ہے…"

وہ آہستہ آہستہ سر جھکائے باجی کے پیچھے چلنے لگی۔ دونوں دروازے تک پہنچیں، مگر روز وہیں رک گئی۔

باجی نے مڑ کر دیکھا تو وہ دروازے پر کھڑی ہچکچا رہی تھی۔

وہ حیرانی سے بولی،

"کیا ہوا روز؟ تم اندر کیوں نہیں آ رہی؟"روز نے کچھ نہیں کہا۔ وہ بس خاموشی سے ایک نظر اس بڑے سے گھر پر ڈالتی رہی، جیسے ابھی بھی یقین نہ آ رہا ہو کہ وہ یہاں کھڑی ہے۔ اس کے ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے تھے اور اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔

باجی نے یہ سب محسوس کیا تو وہ آہستہ سے اس کے قریب آئیں اور نرمی سے اس کا چہرہ اپنی طرف اٹھایا۔

وہ پیار سے بولیں،

"کوئی بات نہیں… تم ڈرو مت۔ میں کوئی بری عورت نہیں ہوں۔"

روز نے دھیمی نظروں سے انہیں دیکھا، مگر ابھی بھی اس کے دل میں ہچکچاہٹ تھی۔

باجی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مزید کہا،

"اور ہاں… میرا ایک چھوٹا بھائی بھی ہے۔ لیکن وہ ابھی یہاں نہیں ہے۔ وہ سعودی عرب میں ہے، اپنے بزنس کے سلسلے میں گیا ہوا ہے۔"

وہ ہلکی سی مسکرائیں،

"تم اکیلی نہیں ہو… یہاں تم بالکل محفوظ ہو۔"

روز نے آہستہ سے سر ہلایا، جیسے وہ ان باتوں کو اپنے دل میں جگہ دینے کی کوشش کر رہی ہو۔ اس کے قدم ابھی بھی رکے ہوئے تھے، مگر دل آہستہ آہستہ ماننے لگا تھا کہ شاید یہ جگہ اس کے لیے واقعی محفوظ ہے۔

Download

Like this story? Download the app to keep your reading history.
Download

Bonus

New users downloading the APP can read 10 episodes for free

Receive
NovelToon
Step Into A Different WORLD!
Download NovelToon APP on App Store and Google Play