تین دن تک لڑکی ہسپتال میں بےہوشی کی حالت میں تھی۔ ان دنوں وہ عورت اس کا خیال رکھ رہی تھی۔ تیسرے دن جب اس لڑکی کو ہوش آیا تو اس نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں۔ وہ ایک ہسپتال کے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔
اس نے اردگرد نظر دوڑائی تو اسے ایک لیڈی نرس نظر آئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اور وہ ڈری ہوئی نظروں سے نرس کو دیکھنے لگی۔
لیڈی نرس نے نرمی سے پوچھا،
"تمہیں یہاں کون لایا ہے؟"
لڑکی نے کمزور آواز میں جواب دینے کی کوشش کی، مگر اس کے الفاظ ٹھیک سے ادا نہ ہو سکے۔
نرس نے خود ہی بتایا،
"تمہیں ایک عورت یہاں لائی تھی، جو ہمارے ہسپتال کی ڈاکٹر ہے۔"
یہ سن کر لڑکی خاموش ہو گئی اور وہیں بیٹھی کچھ سوچنے لگی، جیسے ماضی کی کوئی بات اسے یاد آ رہی ہو۔
پھر نرس وہاں سے باہر چلی گئی۔ لڑکی وہیں بیڈ پر بیٹھی رہی، گہری سوچوں میں ڈوبی ہوئی۔ اس نے آہستہ سے اپنے گھٹنوں پر سر رکھا اور سسکیوں میں رونے لگی۔ اس کے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے، جیسے دل میں چھپا سارا درد اب باہر آ رہا ہو۔
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہی عورت کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے ہلکی سی اونچی آواز میں سلام کیا اور اندر آئی، مگر جیسے ہی اس کی نظر لڑکی پر پڑی، وہ رک گئی۔ لڑکی اپنے گھٹنوں پر سر رکھے زار و قطار رو رہی تھی۔
عورت فوراً اس کے پاس آئی۔ لڑکی نے اس کی موجودگی محسوس کی تو آہستہ سے اپنا چہرہ اٹھایا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ اس نے ہچکچاتی ہوئی آواز میں سلام کیا۔
عورت نے نرمی سے سلام کا جواب دیا اور اس کے پاس بیٹھ گئی۔ لڑکی پھر سے نظریں جھکا کر رونے لگی۔ عورت نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے تسلی دینے لگی،
"روؤ مت… سب ٹھیک ہو جائے گا۔"
کچھ دیر بعد لڑکی نے خود کو سنبھالا۔ اس نے نظریں جھکائے ہوئے، نم آنکھوں کے ساتھ آہستہ سے کہا،
"آپ کا بہت شکریہ… آپ نے میری مدد کی۔"
عورت ہلکی سی مسکرائی اور نرمی سے بولی،
"کوئی بات نہیں، یہ تو ہمارا فرض ہے۔ ہم ڈاکٹروں کا کام ہی ہوتا ہے کہ زخمی اور بےبس لوگوں کی مدد کریں۔"
پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہی، جیسے کچھ سوچ رہی ہو، اور پھر آہستہ سے پوچھا،
"کیا میں تمہارا نام جان سکتی ہوں؟"
لڑکی نے چند لمحے خاموش رہ کر گہری سانس لی، جیسے وہ خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ پھر اس نے آہستہ سے جواب دیا،
"میرا نام… روز ہے۔"
پھر عورت نے نرمی سے پوچھا،
"تمہارا گھر کہاں ہے؟ اور تمہارے گھر والے…؟"
لڑکی پہلے خاموش رہی۔ اس کے ہونٹ ہلے مگر کوئی آواز نہ نکلی۔ کچھ لمحے گزرے، پھر اس نے ایک لمبی سانس لی، جیسے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اس کی آنکھیں دوبارہ بھر آئیں۔
وہ آہستہ مگر بھاری آواز میں بولی،
"نہیں… میرا کوئی نہیں ہے۔ اس دنیا میں میرا کوئی نہیں…"
یہ کہتے ہی اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ آنسو اس کے گالوں پر بہنے لگے۔ وہ روتے ہوئے بولتی رہی،
"پہلے… پہلے سب کچھ تھا میرے پاس… لیکن اب سب ختم ہو گیا ہے۔ میرے اپنے… میرے پیارے… سب مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔"
وہ مزید خود کو سنبھال نہ سکی۔ اس نے سر جھکا کر اپنے گھٹنوں میں چھپا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
"سب نے مجھے چھوڑ دیا… کیونکہ میں بہت بری ہوں…"
وہ سسکیوں کے درمیان بولی،
"میں بہت بری ہوں… اسی لیے سب چلے گئے…"
اس کی آواز میں ایسا درد تھا کہ کمرے کی فضا بھی اداس ہو گئی۔
***Download NovelToon to enjoy a better reading experience!***
Comments